أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ نَقِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اور جن لوگوں نے حالت ایمان میں نیک کام کیے خواہ وہ مرد ہوں یا عورت تو وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کھجور کی گٹھلی کے شگاف جتنا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جن لوگوں نے حالت ایمان میں نیک کام کیے خواہ وہ مرد ہوں یا عورت تو وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کھجور کی گٹھلی کے شگاف جتنا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (النساء : ١٢٤) 

گناہ گاروں لیے نوید مغفرت :

جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جس نے بھی کوئی برا کام کیا اسے اس کی سزا ملے گی تو اہل کتاب نے کہا ہم میں اور تم میں کیا فرق رہا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جن مسلمانوں نے ایمان کی حالت میں نیک کام کیے ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب ان کے گناہ اور برے کام معاف کردیئے جائیں ‘ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافروں کا کوئی نیک عمل مقبول نہیں ہوتا اور نیک کاموں کے مقبول ہونے کے لیے ایمان شرط ہے ‘ نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا جس نے ایمان کے ساتھ تمام اعمال نیک کیے کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) اور چند مخصوص بندگان خدا کے سوا اور کوئی شخص اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ اس کا کیا ہوا ہر عمل نیک ہو اور اس سے کوئی برا کام نہ ہوا ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جس نے حالت ایمان میں تمام نیک عمل کیے ہوں بلکہ فرمایا جن لوگوں نے حالت ایمان میں نیک عمل کیے خواہ وہ مرد ہوں یا عورت تو وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ اس سے ہم عام لوگوں کے لیے یہ نوید اور بشارت ہے جن کے بعض عمل نیک ہیں اور ان سے گناہ اور خطائیں بھی ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بھی اپنے کرم اور فضل سے جنت میں داخل کر دے گا ‘ اور یہ آیت معتزلہ اور خوارج کے خلاف بہت قوی دلیل ہے کہ مومن مرتکب کبیرہ ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا ‘ اور توبہ کے بعد یا بلاتوبہ اس کی مغفرت ہوجائے گی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 124