حقوقِ نسواں کے حقیقی علمبردار، محسنِ انسانیت ، سیدِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع جو اس وقت کا سب سے بڑا اجتماع تھا، اور معاشرے میں عورت کو غلام سمجھا جاتا تھا، کھلونہ سمجھا جاتا تھا….. میراث، معاشرت ، نکاح و فضائل کے کوئی حقوق حاصل نہ تھے ایسے موقعہ پر فرمایا:

ترجمہ:

سنو……….!!

عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک، اچھا برتاؤ کرو

.

سنو………!!

تم عورتوں کے مالک نہیں ہو(لیھذا عورتوں کو غلام.و.کھلونہ مت سمجھو، ان کے ساتھ غلامانہ رویہ مت رکھو، زبردستی شادیاں مت کراؤ، عورتوں پر اسلامی پابندیوں کے علاوہ کوئی پابندی حکم لاگو نہ کرو، نوابی رعب نہ جماؤ)

ہاں اگر فحاشی کریں تو(سمجھانے کے ساتھ ساتھ) بستروں میں عارضی جدائی اور ہلکی تادیبی مار مار سکتے ہو

.

سنو……..!!

تمھارے عورتوں پر حقوق ہیں اور عورتوں کے تم پر حقوق ہیں(لیھذا ایک دوسرے کے حقوق و ذمہ داریاں یاد رکھو، حقوق و ذمہ داریاں اچھی طرح پوری کرو)

اور

عورتوں کے تم پر جو حقوق ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ

تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور انہیں اچھا پہناؤ اور اچھا کھلاؤ

.

سنو……..!!

عورتوں کے متعلق اللہ سے ڈرو…عورتیں تو تمھارے پاس اللہ کی امان کے ساتھ ہیں

(ترمذی ملتقتا حدیث نمبر1163، مسلم حدیث نمبر1218)

.

الحدیث،ترجمہ:

عورتیں تو تم مردوں کی سگے رشتہ داروں کی طرح ہیں(انہیں سوتیلا ،الگ مت سمجھو، سوتیلانہ رویہ حقوق نہیں بلکہ سگانہ مالکانہ مشترکانہ اپنا ہی فرد سمجھو، سرمایہ و فخر سمجھو، مالک و نواب مت بن بیٹھو)

(ابوداؤد حدیث نمبر236)

.

الحدیث،ترجمہ:

تم میں سے اچھے وہ ہیں جو عورتوں کے متعلق اچھے ہیں

(ترمذی حدیث1162)

.

.

آزادی کی طلبگار بہنوں کے نام

اسلامی آزادی…یا…مغربی آزادی

.

سب سے پہلے تو ہم سب کو یہ.سمجھنا ضروری ہے کہ ہمارے ملک میں جہالت یا قومیت کے اصولوں کے تحت جو عورتوں کو غلام سمجھا جاتا ہے، اسلام.اسکی سخت مذمت کرتا ہے

.

اس جاہلی غلامی سے نکلنے کے دو راستے ہیں

①اسلامی ذمہ دارانہ آزادی

②دوسرا راستہ ملحدانہ، مغربی آزادی

.

ایجنٹ مکار منافق میڈیا حکومت اس غلامی کی آڑ میں مغربی آزادی لانا چاہیتی ہے… اسی کی تعلیم دیتی ہے.. اسی کے اصول.. اسی کے فوائد عام کرتی ہے… اسی آزادی کے لیے عورتوں کو بغاوت پر اکساتی ہے…ہاں اس بغاوت میں کچھ جرم ان سادہ کم علم مسلمانوں کا بھی ہے جنھوں نے حد سے زیادہ سختیاں کی ہیں،حد سے زیادہ سختیاں بیان کی ہیں.. اسکے ساتھ ساتھ اس بغاوت میں مرکزی کردار ان منافق ایجنٹ ملاوں کا بھی ہے جو مغربیت لبرلیت سے متاثر ہوکر اسلامی تعلیمات کی آزادیوں کو حد سے بڑھا کر پیش کرتے ہیں.. میڈیا حکومت اور ایسی جدت پسند تنظیمیں اسی آزادی کی آڑ میں مردوں کو کمزور.اور.محکوم بنانا چاہتی ہے، مغربی تباہی لانا چاہتی ہیں..

.

جو کہ سراسر ناانصافی ہے… ظلم ہے.. مکاری ہے.. منافقت ہے..اب سائنس بھی مان چکی ہے کہ عورت کی فطرتی قدرتی بناوٹ ذہنی جسمانی بناوٹ ہی.ایسی ہے کہ اسے تمام ذمہ داریاں آزادیاں نہیں دی جاسکتیں.. وہ فطرتا قدرتا خلقتا ان ذمہ.داریوں کے لائق نہیں.. تو پھر اس پر آزادی کے نام پر مزید ذمہ.داریاں ڈالنا ظلم نہیں تو اور کیا ہے…..؟؟

.

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ

اس غلامی سے بچانے کے لیے اسلامی آزادی کو اجاگر کیا جاتا.. اسلامی آزادی کی بات کی جاتی.. اسلامی آزاد کے اصول.و.فوائد بیان کیے جاتے… مگر منافق ایجنٹ دھوکے باز مکار میڈیا، اینکرز، صحافی، سرکاری ملا اور حکومت سے ایسا توقع کہاں……؟؟افسوس

.

پیاری بہنوں اسلام نے آزادی دی ہے مگر ذمہ داریاں لگائی ہیں.. وفا..صبر..قناعت.. اخلاقیات کا حکم دیا ہے.. یہ ذمہ داریاں فقط عورتوں پر نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر مردوں پر ذمہ داریاں لگائی ہیں.. مرد اپنی والدہ بیوی بہن بیٹی کسی کا مالک نہیں.. اس پر پرورش کی ذمہ داری ہے مگر مالک نہیں.. وہ بیچ نہین سکتا.. فقط اپنا حکم لاگو نہیں کرسکتا.. عورتوں کی عزت و پرورش کا حکم دیتا ہے… اسکے معاملات میں اس سے مشاورت.و.رضا مندی سمجھنے سلجھانے کا درس دیتا ہے..

.

جبکہ مغربی آزادی آزادی نہین بلکہ ایک چال ہے.. وہاں کے مرد حضرات آزادی نہیں دینا چاہتے بلکہ.خود ذمہ داریوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں… وہ چاہتے ہیں کہ.وہ کسی عورت کو سنبھالنے کی زحمت کیوں اٹھائیں.. عیاشی آزادی انکا اصل ٹارگٹ ہے..اپنی.آزادی کا نام دیتے تو بدنام ہوتے… کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ:

یہ جھوٹ ہےکہ مغرب،ملحد،مکار،عیاش انسان عورت کی آزادی چاہتاہے

سچ یہ ہےکہ وہ عورت تک پہنچنےکی آزادی چاہتاہے

#InternationalWomensDay

.

اسی لیے چال چلی.. بیچاری عورت پر آزادی کے نام مزید ذمہ داریاں بڑھا دیں.. کھانے کمانے سنبھالنے اور کسی وفادار ساتھی ہمدرد کی تلاش زندگی بھر رہتی ہے انکو… ایسے ملکوں میں طلاقیں سب سے زیادہ ہوتی ہیں.. اولاد ماں باپ کی محبت.و.تعلیمات پرورش تربیت سے محروم.رہتا ہے… بوڑھوں کو سنبھالنے والا کوئ نہین ہوتا.. انہیں اولڈ ہاوس بھیجا جاتا ہے.. کینسر ایڈز اور طرح طرح کی جسمانی ذہنی بیماریاں وہیں سے اٹھتی ہیں..

.

بے وفائی.. بے پرواہی.. بے یقینی نے جہاں مستقبل کو تباہ کیا.. وہیں بے چینی بے سکونی کو عروج دیا… جس سے جسمانی اور ذہنی کمزوریوں بیماریوں نے وہاں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں

.

انکی ایسی تباہی بربادی وحشیت کچھ نا کچھ حد تک ہم تک پہنچتی ہے مگر مکار منافق ایجنٹ میڈیا ان سب پر پردہ ڈالتے ہیں.. چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو بڑے بڑے کارنامے کہہ کر بیان کرتے ہیں.. چھوٹی چھوٹی ادب.و.وفاؤں کو بڑا بڑا کہہ کر بیان کرتے ہیں.. ہاں وہاں کے کافی شہروں میں دنیاوی ترقی ہے مگر وہاں انسانی اخلاقی پستی ہی پستی ہے.. انکی ٹیکنالوجی طب میں ترقی ہے مگر افواہ ڈرامہ بازی بھی بہت اور بڑھا چرھا کر بیان کرنا بھی بہت..!!

.

مغرب و الحاد کے نعرہ “حقوقِ نسواں، آزادیِ عورت، ترقی”

کے متعلق فقط دو جملے کہنے ہوں تو یہ کہوں گا کہ:

“دور کے ڈھول سہانے”

ہاتھی کے دانت……کھانے کے اور ، دکھانے کے اور…….!!

.

آج کے دور کے ایسے گمراہ کن ، چکنے ، بظاہر خوبصورت نعرے سن کر سیدنا علی رضی اللہ.تعالیٰ عنہ.کا وہ عظیم.فرمان یاد آتا ہے جو آپ نے خوارج کے نعرے “صرف اللہ حاکم” کے جواب میں آپ نے فرمایا تھا

کہ:

کلمۃ الحق ارید بھا الباطل..(مسلم) یعنی بات تو حق ہے مگر اسکا معنی و مقصود باطل ہے..

.

آج عورت کی آزادی…عورت کے حقوق… مساوات…وغیرہ سب کے سب نعرے ہیں تو خوبصورت مگر باطل معنی.و.مقصود رکھتے ہیں.

.

عورت مرد آزاد ہیں مگر آزادی غلامی اور زمہ داری کا فرق ضروری ہے… ذمہ.داری اور من مانی، موج مستی، عیاشی کا فرق ضروری ہے… اگر یہ ذمہ داریاں غلامی ہیں تو یہ غلامی مرد پر بھی ہے…مگر حقیقت یہ ہے کہ ذمہ داریاں غلامی نہیں..

.

سب کے سب برابر ہیں کہنا عقل.و.فطرت کے مطابق بھی ٹھیک نہیں… اسلام کچھ معاملات میں سب کو برابر قرار دیتا ہے.. اور کچھ معاملات میں بعض کو بعض پر فضیلت دیتا ہے.. اور اس فضیلت کو پانے کی جستجو بھی دیتا ہے…جو جتنا باعلم باعمل باکردار بااخلاق باشعور بااحساس ہوگا اتنی افضلیت پاتا جاے گا… وہی برحق ہے… وہی سچ ہے… وہی عقل و فطرت کے مطابق ہے..

.

آج جو سب کو برابر کا نعرہ.لگاتے ہین وہ دراصل جال میں پھنسانے کی ایک چال ہے… وہ لوگ بات تو برابری کی.کرتے ہین مگر عمل مشاہدے مین ایک دو مثالوں کے علاوہ کہیں برابری نہیں ہوتی.. اور ہوبھی نہیں سکتی..

.

ذمہ.داریوں کی.تقسیم اور ذمہ داریون کی کمی بیشی ہی برحق ہے… اسلام نے عورت کو باہر کے معاملات، کمانے کے معاملات و ذمہ داریوں سے آزاد کیا ہے اور یہ ذمہ داریاں مرد پر ڈالی ہیں…یہی وجہ ہے کہ میراث میں اکثر مرد کو ڈبل حصہ ملتا ہے کیونکہ معاشی ذمہ داری عورت پر بہت ہی کم اور مرد پر زیادہ ہے، یہی خلقت و فطرت مطابق ہے… آج سائنس بھی مان گئ ہے کہ عورت کا دماغ اور اسکی تخلیق ہی.کچھ اس طرح کی ہے کہ اسے باہر کے معاملات میں نا الجھایا جاے…

.

آزادی،حقوق،تعلیم کی اسلام مخالفت نہیں کرتا مگر اس کی آڑ میں بے راہ روی فحاشی ظلم کی شدید مخالفت کرتا ہے…جہاں.بے راہ رویانہ آزادی کی اسلام مذمت کرتا ہے وہی جاہلانہ ظالمانہ.غلامانہ سوچ کی.بھی مذمت کرتا ہے..

یہ.غلامانہ طرز و سوچ عورت تک محدود نہیں بلکہ اسلام غریبوں ناداروں مجبوروں کمزورون بچوں شاگردوں پر بھی غلامانہ نظام نافذ کرنے کی مذمت فرماتا ہے…جہاں ازادی دیتا ہے تو آداب و حد بندی بھی مقرر فرماتا ہے..

.

عورت مرد کو ہر معاملے میں برابر کیا جاے تو دنیا نظام تباہ ہوجاے..اور اسکی ایک.دو جھلک روز بروز سامنے آتی رہتی ہیں..آزادی،حقوق،مساوات،فضیلت،ذمہ داری کی کمی بیشی وہی برحق جو اسلام نے سمجھائ..

جو عقل.و.فطرت کے بھی عین مطابق ہے..

تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر