سؤال:

کیا رجب کی پہلی رات کی کوئی فضیلت منقول ہے؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی):

امام شافعی فرماتے ہیں:

بلغنا أنه كان يقال:

إن الدعاء يستجاب في خمس ليال ؛ في ليلة الجمعة ، وليلة الأضحى ، وليلة الفطر ، وأول ليلة من رجب ، وليلة النصف من شعبان.

ترجمہ :

ہم تک ( یہ بات) پہنچی ہے کہ کہا جاتا رہتا تھا:

بے شک پانچ راتوں میں دعاء قبول ہوتی ہے ؛ جمعہ کی رات ، عید الأضحی ( قربانی والی عید کی رات ) ، ( عید), فطر کی رات ، أور رجب کی پہلی رات ، أور نصف شعبان کی رات ( شب براءت )۔

( الأم للشافعی ، العبادہ لیلة العيدين ، 1/284 )

پھر إمام شافعی أپنا فتوی دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

وأنا أستحب كلما حكيت في هذه الليالي من غير أن يكون فرضا.

ترجمہ:

إن راتوں میں جن جن ( عبادات کو ) ذکر کیا گیا ہے ( أن کو کرنا) مستحب سمجھتا ہوں فرض نہیں.

( مصدر سابق )

إمام نووی فرماتے ہیں:

وأسانيد الجميع ضعيفة .

ترجمہ :

تمام أحاديث کی سندیں ضعیف ہیں

پھر إمام شافعي کا فتوی نقل کرنے کے بعد حدیث ضعیف کے حکم کے بارے میں فرماتے ہیں:

أن الحديث ضعيف لما سبق في أول الكتاب أن أحاديث الفضائل يتسامح فيها ويعمل على وفق ضعيفها.

ترجمہ:

بے شک حدیث ضعیف جیسے کہ کتاب کے شروع میں گزر چکا ہے کہ أحادیث فضائل ( پہ عمل کرنے کے لیے) تسامح کیا جاتا ہے ، أور أس ( حدیث) ضعیف کے موافق عمل کیا جاتا ہے.

( المجموع شرح المہذب ، مسائل تتعلق بالعیدین ، 5/42 )

مزید وضاحت کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ فرمائیں:

-فضائل الأوقات للبیہقی .

-فضائل رجب لأبی محمد الخلال

-لطائف المعارف لابن رجب.

تبیین العجب فیما ورد من رجب لابن حجر عسقلانی.-

-الأدب لرجب لملا علی قاری.

-فضائل شہر رجب للکتانی

خلاصۂ کلام:

رجب کی پہلی رات کی فضیلت میں أحادیث ضعیفہ وارد ہیں أور أخف ضعفا آثار موقوفہ ہیں .

إسکے علاوہ علمائے کرام کے فتوے بھی موجود ہیں جیسے ہم نے إمام شافعی کا فتوی نقل کیا ،

أور ابن ملقن نے حضرت عمر بن عبد العزیز أور خالد بن معدان کے أقوال بھی نقل کیے ہیں.

( البدر المنیر لابن الملقن ، 5/40 )

تو لہذا إس رات کو أفضل ماننے والے إنکار کرنے والوں پہ اعتراض نہ کریں ،

أور إنکار کرنے والے ماننے والوں پہ اعتراض نہ کریں.