١:میں آوارہ میں بدچلن(متفق)

٢:شادی کے علاوہ اور بہت کام ہیں(متفق)

٣:مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے(متفق)

٤:آؤ کھانا ساتھ بنائیں (متفق)

٥:لو بیٹھ گئی صحیح سے(متفق)

٦:عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین نہیں ہے(متفق)

٧:تمہارے باپ کی سڑک نہیں ہے(متفق)

٨:اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پے باندھ لو(متفق)

٩:میں اپنا کھانا خود گرم کرتا ہوں(متفق)

١٠:مجھے ٹائر بدلنا آتا ہے(متفق)

١:آواہ ہو بدچلن ہو ٹھیک ہے خود ہی مان لیا اگر اچھے نظریات والے آوارہ بدچلن کنجری کہتے تو فیس بک پر لبرلز اور بدچلن لوگوں کے ہمنوا اعتدال کا درس دیتے کہ تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کیجیے.

٢:شادی کے علاوہ اور بھی کام ہیں ظاہر ہے ایک پر بدچلن کنیائیں کب تک اکتفا کرینگی زائقہ دہن زیریں کا ہو یا بالائی دہن کا تبدیل تو طوائفیں کرتی ہیں.

٣:موزہ کہاں ہے ؟بدچلن عورتیں کہاں یہ یاد رکھتی ہیں انہیں تو بوائے فرینڈ کو بھلانے سے فرصت نہیں ملتی.

٤:کھانا ساتھ بنانے میں کوئی ممانعت نہیں، گھر کے کام کاج میں خاتون خانہ کا ہاتھ بٹانا اچھی بات ہے مگر پاکدامن عورتیں سرتاج کو اپنے ہاتھوں کی بنائی اشیاء کھلا کر خوش ہوتی ہیں.

٥:لو بیٹھ گئی صحیح سے،آہ لانت ہے بے زوق بوائے فرینڈ پر جس نے یہ کہنے پر مجبور کیا، بدچلن عورتیں سکسیانہ ادائیں پیش کرنے میں خودکفیل ہوتی ہیں، بدچلن بوائے فرینڈ کو تنقید کا موقع نہیں دیتیں.

٦:عورت بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں ہے بلکہ عورت سے اس کائنات کا حسن مختلف مقامات پر آئے روز نظر آتا ہے، خدائے لم یزل نے مرد وعورت کی جوڑی بنائی ہی اس لیے ہے کہ نسلِ انسانی افزائش ہوتی رہے. بقیہ لبرل عورتیں کا شکوہ ٹھیک ہے ان کے چاہنے والے پھر ان کی جسمانی ساخت کو دیکھ کر کہتے ہیں کیا بھدی سی صورت و جسمانی ساخت ھے بایں معنی کے بیچاری “سیکس ٹوائز” تک محدود ہوجاتی ہے کوئی منہ نہیں لگاتا.

٧:سڑک کسی کے باپ کی نہیں ہے خدا کی زمین ہے سب کچھ خدا کا ہے لیکن وہ کیا ہے ناں کہ اسلامی ملک ہے یہاں یہ سب کچھ معیوب سمجھا جاتا ہے اگر جنسی خواہشات کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے تو لاس ویگاس، بنکاک، بیروت کی سڑکیں ہیں ناں:وہاں مٹر گشت کرکے اپنی جوانیوں کی قیمت لگائیں.

٨:دوپٹہ باحیا عورت کا زیور ہے باحیا مرد دوپٹہ اوڑھنے کی تلقین اس کارن کرتا ہے کہ وہ بدنظری کو گناہ سمجھتا ہے نیز اسے تربیت باحیا عورت نے اور غیرتمند باپ نے دی ہوتی ہے.

٩:مرد کا اپنا کھانا خود گرم کرنا معیوب نہیں اچھی بات ہے پاکدامن خواتین بہنیں دن بھر گھر کے کام کاج کرکے تھک جاتی ہیں ان کا ہاتھ بٹانا تو اچھی بات ہے مگر لبرل آنٹیوں کے ساتھ ملکر اگر کوئی مرد یہ آواز بلند کرے تو یقینا اس کی دھرم پتنی کسی کے ساتھ کلب میں مصروفیت کے کارن تھک ہار کر ڈرنک کرکے بیہوش ہوگئی ہوگی تب تو مجبورا پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے یہ کارے کرنا پڑتا ہے.

١٠:ٹائر بدلنا آتا ہے یہ کونسی بڑی بات ہے کشمیر سے لیکر فلسطین تک کی خواتین کو تو کفار کو سڑکوں پر پٹخنا بھی آتا ہے بلکہ ان کا تو یہ محبوب مشغلہ ہے، ٹائر بدلنا تو کوئی بڑی بات نہیں.

——————————————————————-

اسلامی ملک میں یہ حرکتیں ہونگی تو دو قومی نظریے کے حقیقی علمبردار اس پر ردعمل کا مظاہرہ بھی کرینگے، ردعمل میں کوٹھے بند کرینگے تو ظاہر ہے دور پرفتن میں پھر حق پرستوں پر فاسفورس بم بھی برسائے جاتے ہیں، ساتھ ساتھ دانشور منکرات کو بزور بازو دفع کرنے والوں کو دہشت گرد بھی کہتے ہیں۔