حدیث نمبر :381

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقدر طاقت اپنے تمام کاموں میں داہنے سے شروع فرمانا پسند کرتے تھے اپنی طہارت میں اور کنگھی کرنے اور نعلین پہننے میں ۱؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ تین چیزیں بطور مثال ارشاد فرمائی گئیں ورنہ سرمہ لگانا،ناخن و بغل کے بال لینا،حجامت اور مونچھیں کٹوانا،مسجد میں آنا اور مسواک کرنا وغیرہ سب میں سنت یہ ہے کہ داہنے ہاتھ یا داہنی جانب سے ابتداء کرےکیونکہ نیکیاں لکھنے والا فرشتہ داہنی طرف رہتا ہے اس کی وجہ سے یہ سمت افضل ہے حتی کہ داہنا پڑوسی بائیں پڑوسی سے زیادہ مستحق سلوک ہے۔(اشعۃ اللمعات)علماء فرماتے ہیں کہ دوسری مسجدوں میں صف کا داہنا حصہ بائیں سے افضل مگر مسجد نبوی میں بایاں حصہ داہنے سے افضل کیونکہ وہ روضۂ مطہرہ سے قریب ہے۔روضۂ مطہرہ دل ہے اور دل بائیں طرف ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے ان کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔صوفیائےکرام کے اقوال بے دلیل نہیں ہوتےکیونکہ جب نیکیاں لکھنے والے فرشتے کی وجہ سے داہنا حصہ بائیں سے افضل ہوا تو وہاں قرب مصطفوی کی وجہ سے بائیں سمت افضل ہوگی۔چنانچہ سرکار فرماتے ہیں کہ نماز میں داہنی جانب نہ تھوکو نہ جوتا رکھو کیونکہ ادھر رحمت کا فرشتہ ہے۔