حدیث نمبر :379

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف لوٹے حتی کہ جب ہم اس پانی پر پہنچے جوراہ میں تھا تو عصر کے وقت ایک قوم نے جلدی کی کہ جلدی میں وضو کیا ۱؎ ہم ان تک پہنچے اور ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں جنہیں پانی نہ لگا تھاتب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان ایڑیوں کے لئے آگ کا ویل ہے۲؎ وضو پوراکرو(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قافلے کے پچھلے حصے میں تھے اور وہ حضرات اگلے حصے میں وہ ہم میں سے پہلے پانی پر پہنچ گئے اورجلدی میں وضو کیا۔معلوم ہوا کہ وضوبھی نمازکی طرح اطمینان سے کرنا چاہیئے۔

۲؎ ویل کے معنی افسوس بھی ہیں اور دوزخ کے ا یک طبقے کا نام بھی ہے،یہاں دوسرے معنی مراد ہیں۔یعنی اگر اعضائے وضوء میں سے کوئی عضو ناخن برابر سوکھارہ گیا تو وہ شخص ویل میں جانے کا مستحق ہے،اس سے تین مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ جب موزے نہ پہنے ہوں تو وضو میں پاؤں دھونا فرض ہے،مسح جائز نہیں اسی پر تمام صحابہ کرام اہل بیت اطہار اور ساری امت کا اجماع ہے۔حضرت علی ہمیشہ پاؤں دھویا ہی کرتے تھے جیساکہ خودشیعوں کی کتب سے بھی ثابت ہے۔دوسرے یہ کہ مغسولہ اعضاءکو مکمل دھونا فرض ہےحتی کہ انگوٹھی کے نیچے اوربالیوں اوربلاک کے سورخوں میں پانی پہنچانا وضو اورغسل میں فرض ہے۔تیسرے یہ کہ گناہ صغیرہ پر بھی سخت عذاب ہوسکتاہے۔