أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنِ امۡرَاَةٌ خَافَتۡ مِنۡۢ بَعۡلِهَا نُشُوۡزًا اَوۡ اِعۡرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَاۤ اَنۡ يُّصۡلِحَا بَيۡنَهُمَا صُلۡحًا‌ ؕ وَالصُّلۡحُ خَيۡرٌ‌ ؕ وَاُحۡضِرَتِ الۡاَنۡفُسُ الشُّحَّ‌ ؕ وَاِنۡ تُحۡسِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اگر کسی عورت کو اپنے خاوند سے زیادتی یا بےرغبتی کا خدشہ ہو تو ان دونوں پر کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح کرنا بہتر ہے ‘ اور دلوں میں مال کی حرص رکھی گی ہے۔ اور اگر تم نیک کام کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ تو بیشک اللہ تمہارے کاموں کی خبر رکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر کسی عورت کو اپنے خاوند سے زیادتی یا بےرغبتی کا خدشہ ہو تو ان دونوں پر کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح کرنا بہتر ہے۔ (النساء : ١٢٨) 

عورت کا اپنے بعض حقوق کو ساقط کر کے مرد سے صلح کرلینا : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر عورت کو متعدد قرینوں سے معلوم ہوجائے کہ اس کا شوہر اس کی طرف رغبت نہیں کرتا ‘ مثلا وہ اس کے ساتھ محبت آمیز سلوک نہ کرے ‘ اس کی ضروریات کا خیال نہ رکھے ‘ اس سے بات چیت کم کرے یا بالکل نہ کرے نہ اس کے ساتھ عمل زوجیت کرے خواہ اس کی وجہ اس کی بدصورتی ہو یا وہ زیادہ عمر کی ہو یا اس کے مزاج میں شوہر کے ساتھ ہم آہنگی نہ ہو یا وہ مالی اعتبار سے شوہر کے معیار کی نہ ہو یا جہیز کم لائی ہو ‘ اور اب عورت کو یہ خطرہ ہو کہ اگر یہی صورت حال رہی تو شوہر اس کو طلاق دے کر الگ کر دے گا ‘ اور عورت یہ چاہتی ہو کہ نکاح کا بندھن قائم رہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ عورت اپنے بعض حقوق کو ساقط کر دے اور شوہر کو طلاق دینے منع کرے ‘ مثلا وہ اس کو دوسری شادی کی اجازت دے دے ‘ اور اگر اس کی دوسری بیوی ہو جس سے شوہر کو دلچسپی ہو تو اپنی باری ساقط کر دے ‘ یا اس کا خرچ جو شوہر کے ذمہ ہے اس کو ساقط کردے ‘ اور اس طرح شوہر کے ساتھ صلح کرلے شوہر اپنی پسند کی بیوی کے ساتھ وقت گزارے گا اور وہ مطلقہ ہونے سے بچ جائے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام المومنین سودہ (رض) کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو طلاق دے دیں گے ‘ تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ مجھے طلاق نہ دیں ‘ مجھے نکاح میں برقرار رکھیں۔ اور میری باری حضرت عائشہ ( رض) کو دے دیں ‘ آپ نے ایسا کرلیا ‘ تو یہ آیت نازل ہوئی : تو ان دونوں پر کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح کرنا بہتر ہے۔ (النساء : ١٢٨) حضرت ابن عباس نے فرمایا شوہر اور بیوی جس چیز پر صلح کرلیں وہ جائز ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٠٥١) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) اس آیت کی تفسیر میں فرماتی ہیں ایک شخص کے نکاح میں کوئی عورت ہوتی وہ اس عورت سے زیادہ فائدہ حاصل نہ کرتا ‘ اور اس کو طلاق دینا چاہتا تو وہ عورت کہتی میں اپنے معاملہ میں تمہارے لییے فلاں چیز کی اجازت دیتی ہوں ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ امام نسائی نے اس میں یہ زیادہ روایت کیا ہے کہ وہ عورت کہتی تم مجھے طلاق نہ دو مجھے اپنے نکاح میں برقرار رکھو اور میں اپنا خرچ اور اپنی باری تم سے ساقط کرتی ہوں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٠١‘ سنن کبری للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ١١١٢٥) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور دلوں میں مال کی حرص رکھی گی ہے۔ اور اگر تم نیک کام کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ تو بیشک اللہ تمہارے کاموں کی خبر رکھنے والا ہے۔ (النساء : ١٢٨) 

صلح کرنے کے لیے اپنے بعض حقوق کو چھوڑنا :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی جبلت اور طبیعت کا بیان فرمایا ہے کہ وہ فطرتا بخل پر حرص کرتا ہے ‘ عورتیں اپنے حقوق پر حریص ہیں وہ چاہتی ہیں کہ ان کو اپنی باریوں سے حصہ ملتا رہے اور ان کو رہائش ‘ کھانے اور کپڑوں کا خرچ ملتا رہے اور شوہر ان کے ساتھ خوشگوار عائلی زندگی گزارے اور ان کا پورا مہر ادا کرے اور طلاق کی صورت میں عدت کا خرچ اٹھائے ‘ اسی طرح مرد مال کو اپنے پاس رکھنے پر حریص ہوتے ہیں ‘ وہ اپنی پسند کی بیوی کے پاس زیادہ وقت گزارنا چاہتے ہیں اور جو بیوی ناپسند ہو اس کو طلاق دے کر چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور مہر معاف کرا لینا چاہتے ہیں ‘ سو دونوں میں سے ہر فریق اپنا حق زیادہ سے زیادہ لینا چاہتا ہے اور دوسرے کا حق کم سے کم دینا چاہتا ہے لیکن صلح کرنے کے لیے ہر فریق کو اپنے کچھ حقوق چھوڑنے پڑتے ہیں اور دوسرے فریق کو کچھ حقوق دینے پڑتے ہیں ہرچند کہ دلوں میں حرص رکھی گئی ہے لیکن صلح کرنے کے لیے اپنے کچھ حقوق سے دستبردار ہونا ناگزیر ہے۔ جیسا کہ حضرت سودہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے الگ ہونا نہیں چاہتی تھیں اور ان کو معلوم تھا کہ آپ کو حضرت عائشہ (رض) سے بہت محبت ہے تو انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ (رض) کے لیے ہبہ کردی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ آپ ان کو طلاق نہ دیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 128