أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَسۡتَفۡتُوۡنَكَ فِى النِّسَآءِ ‌ؕ قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ فِيۡهِنَّ ۙ وَمَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ فِى الۡكِتٰبِ فِىۡ يَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِىۡ لَا تُؤۡتُوۡنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرۡغَبُوۡنَ اَنۡ تَـنۡكِحُوۡهُنَّ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الۡوِلۡدَانِ ۙ وَاَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلۡيَتٰمٰى بِالۡقِسۡطِ‌ ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور (مسلمان) آپ سے عورتوں کے متعلق حکم معلوم کرتے ہیں ‘ آپ کہیے کہ اللہ تمہیں عورتوں کے متعلق (وہی سابق) حکم دیتا ہے اور (وہ احکام بھی) جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے متعلق پڑھے جا رہے ہیں جن کا وہ حق تم انہیں نہیں دیتے جو ان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور تم ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو اور کمزور بچوں کے متعلق (بھی تمہیں حکم دیتا ہے) اور یہ کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو ‘ اور تم جو بھی نیک کام کرتے ہو تو بیشک اللہ کو اس کا علم ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور (مسلمان) آپ سے عورتوں کے متعلق حکم معلوم کرتے ہیں ‘ آپ کہیے کہ اللہ تمہیں عورتوں کے متعلق (وہی سابق) حکم دیتا ہے۔ (النساء : ١٢٧) 

وارثت اور نکاح میں عورتوں کے حقوق کا بیان : 

قرآن کریم کی ترتیب میں اللہ تعالیٰ کا اسلوب یہ ہے کہ پہلے چند احکام بیان فرماتا ہے ‘ پھر ان احکام کے عمل پر اجروثواب کی بشارت دیتا ہے اور ان احکام کی معصیت کرنے پر عذاب کی وعید سناتا ہے ‘ اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے علم اور قدرت کی کبریائی بیان فرماتا ہے تاکہ واضح ہو کہ کسی کی معصیت اس کے علم سے باہر نہیں اور اس پر گرفت اس کی قدرت سے خارج نہیں ‘ پھر اس کے بعد دوبارہ ان احکام کا بیان شروع فرما دیتا ہے اور اس اسلوب کا فائدہ یہ ہے ‘ کہ مسلسل ایک ہی قسم کی عبارت سے بعض اوقات قاری کا ذہن اکتا جاتا ہے اس لیے قاری کے ذہن کو اکتاہٹ ‘ غفلت اور بےتوجہی سے دور رکھنے اور اس کے ذہن کو بیدار ‘ اس کے ذوق وشوق کو تازہ اور اس کی توجہ کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کلام میں تنوع ہو اور ایک مضمون کو مختلف پیرایوں سے بیان کا جائے ‘ اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں اور یتیم بچوں کے حقوق کو بیان فرمایا تھا ‘ پھر اس کے بعد اور مختلف نوعیت کے احکام بیان فرمائے وعد اور وعید ‘ ترغیب اور ترہیب اور اپنی عظمت اور کبریائی کے متعلق آیات نازل فرمائیں اس کے بعد اب بھی عورتوں کے حقوق کے متعلق احکام بیان فرما رہا ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) اس آیت کی تفسیر میں بیان فرماتی ہیں : کسی شخص کی سرپرستی میں یتیم لڑکی ہوتی تھی اور وہ اس کا وارث ہوتا تھا وہ لڑکی اس کو اپنے مال میں حتی کہ کھجور کے خوشوں میں شریک کرلیتی وہ شخص اس لڑکی سے نکاح کرنے میں رغبت رکھتا اور اس کو ناپسند کر تاکہ وہ کوئی شخص اس لڑکی سے نکاح کرے اور اس لڑکی کے اس مال میں شریک ہوجائے جس میں وہ (سرپرست) شریک ہوچکا ہے اس لیے وہ اس کو دوسری جگہ نکاح سے منع کرتا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٠٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠١٨‘ السنن الکبری للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ١١١٢٤) 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن جبیر اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں صرف بالغ مرد وارث ہوتا تھا ‘ نابالغ بچہ وارث نہیں ہوتا تھا اور نہ عورت وارث ہوتی تھی ‘ جب سورة نساء کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں اور بچوں کے حقوق کے متعلق آیات نازل فرمائیں تو یہ مسلمانوں پر شاق گزریں انہوں نے کہا جو یتیم بچہ مال کما سکتا ہے نہ مال کی حفاظت کرسکتا ہے ‘ اور عورت بھی مال کما سکتی ہے نہ اس کی حفاظت کرسکتی ہے ‘ یہ دونوں کیسے مال کے وارث بنائے جائیں گے ان کو یہ امید تھی کہ شاید یہ حکم منسوخ ہوجائے گا اور اس کے متعلق کوئی اور حکم نازل ہوجائے گا ‘ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ اور کوئی نیا حکم ناز نہیں ہوا تو انہوں نے کہا لگتا ہے یہ حکم واجب ہے اور اس پر عمل کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ‘ پھر انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : اور (مسلمان) آپ سے عورتوں کے متعلق حکم معلوم کرتے ہیں آپ کہئے کہ اللہ تمہیں عورتوں کے متعلق (وہی سابق) حکم دیتا ہے۔ الایہ۔ 

سعید بن جبیر نے کہا اگر عورت خوب صورت اور مال دار ہوتی تو اس کا سرپرست اس میں رغبت کرتا اور اس سے نکاح کرلیتا اور جب وہ خوب صورت نہ ہوتی تو وہ اس سے نکاح نہ کرتا اور کسی اور سے بھی اس کا نکاح نہ کرتا بلکہ نکاح کرنے سے منع کرتا کہ کہیں کوئی اور شخص اس کے مال کا وارث نہ بن جائے۔ بعض روایات میں ہے وہ اس کو تاحیات نکاح نہیں کرنے دیتے تھے۔ (جامع البیان جز ٥ ص ٤٠٥۔ ٤٠٤‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

فتوی کا معنی اور اس کے تقاضے اور مسائل : 

اس آیت میں استفتاء اور افتاء کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ استفتاء کا معنی ہے فتوی معلوم کرنا ‘ اور فتاء کا معنی ہے فتوی دینا ‘ فتوی کا لفظ فتی سے ماخوذ ہے ‘ فتی کا معنی ہے جوان آدمی ‘ اور جوان آدمی قوی ہوتا ہے اس لیے فتوی کا معنی ہے قوی حکم۔ 

اس آیت میں مذکور ہے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتوی معلوم کیا اور فتوی اللہ تعالیٰ نے دیا۔ سوال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا گیا اور اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرنا اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ معاملہ اللہ کے ساتھ معاملہ ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے نائب مطلق ہیں ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فتوی دیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو مفتی کہنا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے افعال کے اطلاق سے مشتقات کا اطلاق لازم نہیں آتا مثلا علم کا اطلاق معلم کے اطلاق کو مستلزم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء صفات سماع شرع پر موقوف ہیں جن اسماء صفات کا قرآن مجید اور احادیث میں اطلاق آگیا ہے ان ہی کا اللہ تعالیٰ پر اطلاق کرنا جائز ہے۔ از خود اللہ تعالیٰ پر کسی اسم صفت کا اطلاق کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اسم ذات کا اطلاق کرنا جائز ہے۔ مثلا اللہ تعالیٰ کو خدا کہہ سکتے ہیں۔ 

فتوی میں جب کسی سوال کا جواب ذکر کیا جائے تو اگر اس کے جواب میں قرآن مجید کی آیت مل جائے تو پہلے اس کو ذکر کیا جائے۔ پھر حدیث شریف کو ذکر کیا جائے اور اس کے بعد آثار صحابہ اور اپنے امام کا قول ذکر کیا جائے ‘ ہمارے زمانہ میں مفتی حضرات بعض اردو یا عربی کی فقہ کی کتابوں کی عبارات کو نقل کردینا فتوی کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ یہ درحقیقت مفتی نہیں ہیں بلکہ ناقل مذہب ہیں اگر یہ قرآن اور حدیث سے استدلال کرنے کے بعد امام کا قول ذکر کریں گے تو لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ ہمارے امام کا قول محض رائے اور قیاس پر مبنی نہیں ہے بلکہ قرآن مجید اور احادیث صحیہ پر مبنی ہے اور تب ہی یہ واضح ہوگا کہ یہ قوی جواب ہے اور صحیح معنی میں فتوی کا مصداق ہے۔ 

پیش آمدہ مسائل میں اہل علم سے رجوع کرکے فتوی لینا اور اس مسئلہ کا حل معلوم کرنا قرآن مجید ‘ احادیث صحیحہ اور صحابہ وتابعین کے تعامل سے ثابت ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “۔ (النحل : ٤٣) 

ترجمہ : سو اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے سوال کرو۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے مذی بہت آتی تھی ‘ میں نے (حضرت) مقداد سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کریں (آیا اس میں وضو کافی ہے یا غسل ضروری ہے) انہوں نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس میں وضو (کافی) ہے۔ (صحیح البخاری : ج ١ رقم الحدیث : ١٣٢) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام المومنین صفیہ بنت حیی ‘ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ کو حیض آگیا ‘ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا ‘ آپ نے فرمایا کیا یہ ہم کو یہاں ٹھہرانے والی ہیں ؟ صحابہ نے کہا وہ طواف زیارت کرچکی ہیں ‘ آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں۔ (صحیح البخاری : ج ٢‘ رقم الحدیث : ١٧٥٧) 

طواف زیارت حج میں فرض ہے اور مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت طواف وداع کرنا واجب ہے ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے روانہ ہونے لگے اور آپ کو حضرت صفیہ (رض) نے بتایا کہ ان کو حیض آگیا ہے تو آپ نے خیال فرمایا شاید انہوں نے طواف زیارت نہیں کیا جو حج میں فرض ہے اس لیے آپ نے فرمایا کیا یہ ہم کو مکہ میں روکنے والی ہیں ؟ پھر آپ کو بتایا گیا کہ انہوں نے طواف زیارت کرلیا ہے تو آپ نے فرمایا پھر روانہ ہونے میں کوئی حرج نہیں ‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر طواف زیارت کرنے کے بعد کسی عورت کو حیض آجائے تو اس پر طواف وداع کرنا واجب نہیں ہے اور وہ مکہ سے روانہ ہوسکتی ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے تھے اور حضرت زید بن ثابت (رض) کو یہ حدیث نہیں پہنچی تھی وہ یہ کہتے تھے کہ اگر طواف زیارت کے بعد کسی عورت کو حیض آگیا تو وہ مکہ سے روانہ نہیں ہوسکتی تاوقتیکہ وہ طواف وداع نہ کرے لیکن جب ان کو یہ حدیث پہنچ گئی تو انہوں نے رجوع کرلیا ‘ اسی طرح حضرت ابن عمر (رض) نے بھی بعد میں حضرت ابن عباس (رض) کے قول کی طرف رجوع کرلیا۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ اہل مدینہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا کہ ایک عورت طواف زیارت کرے پھر اس کو حیض آجائے تو اس کا کیا شرعی حکم ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا وہ روانہ ہوجائے ‘ اہل مدینہ نے کہا ہم آپ کے قول پر عمل نہیں کریں گے اور حضرت زید (رض) کے قول کو ترک نہیں کریں گے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جب تم مدینہ پہنچ جاؤ تو اس حدیث کی تحقیق کرلینا ‘ وہ مدینہ گئے اور اس مسئلہ کی تحقیق کی ‘ انہوں نے حضرت ام سلیم سے سوال کیا ‘ حضرت ام سلیم (رض) نے حضرت صفیہ (رض) کی حدیث کو بیان کیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧٥٨) 

امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :

طاؤس بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ اس وقت حضرت زید بن ثابت (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کیا آپ یہ فتوی دیتے ہیں کہ جس عورت کو حیض آجائے وہ طواف وداع سے پہلے روانہ ہوسکتی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : فلاں انصاریہ سے پوچھیں کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو روانہ ہونے کا حکم دیا تھا ‘ حضرت زید بن ثابت نے اس عورت سے پوچھا اور اپنے قول سے رجوع کرلیا ‘ اور ہنستے ہوئے فرمایا جس طرح آپ نے مسئلہ بیان کیا تھا حدیث اسی طرح ہے۔ (سنن کبری للنسائی : ج ٢‘ رقم الحدیث : ٤٦٠١) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

طاؤس بیان کرتے ہیں کہ پہلے میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے یہ سنا تھا کہ وہ یہ فتوی دیتے تھے کہ طواف وداع کیے بغیر حاضہ عورت روانہ نہ ہو ‘ پھر بعد میں میں نے یہ سنا کہ وہ فتوی دیتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو روانہ ہونے کی اجازت دی تھی۔ (صحیح البخاری : ج ٢‘ رقم الحدیث : ١٧٦١) 

ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ تابعین ‘ صحابہ کرام سے فتوی لیتے تھے ‘ اور ان کے اقوال پر عمل کرتے تھے ‘ اور اس کا نام تقلید ہے اور جب کسی صحابی کا قول حدیث کے خلاف ہوتا تو وہ صحابی حدیث کی طرف رجوع کرلیتے تھے اور ان کی تقلید کرنے والے تابعین کو جب معلوم ہوتا کہ یہ قول حدیث کے خلاف ہے تو وہ حدیث کی تحقیق کرنے کے بعد حدیث پر عمل کرتے تھے ‘ اور ہونا بھی یہی چاہیے کہ جب کسی مقلد کو یہ معلوم ہو جائیکہ اس کے امام کا قول حدیث کے خلاف ہے تو وہ حدیث پر عمل کرے ‘ بشرطیکہ وہ حدیث صحیح ہو اور کسی دلیل سے منسوخ نہ ہو۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (وہ احکام بھی) جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے متعلق پڑھے جا رہے ہیں جن کا وہ حق تم انہیں نہیں دیتے جو ان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور تم ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو۔ (النساء : ١٢٧) 

یتیم لڑکیوں کے حقوق کا بیان :

اس آیت میں یتیم لڑکیوں کے جس حق کا ذکر کیا گیا ہے اس حق کے متعلق دو قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ان کی میراث ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد ان کا مہر ہے ‘ اور اس آیت کے مخاطبین کے متعلق بھی دو قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد عورتوں کے سرپرست ہیں وہ عورتوں کے مہر پر خود قبضہ کرلیتے تھے اور ان عورتوں کو ان کا مہر نہیں دیتے تھے ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد یتیم لڑکی کا ولی ہے جب وہ اس یتیم لڑکی سے نکاح کرتا تھا تو اس کے مہر میں انصاف نہیں کرتا تھا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تم ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو ‘ حضرت عائشہ (رض) نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ تم ان یتیم لڑکیوں کے حسن و جمال اور ان کے مال و دولت کی وجہ سے ان کے ساتھ نکاح کرنے میں رغبت رکھتے ہو ‘ اور حسن نے اس کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ تم ان کی بدصورتی کی وجہ سے ان کے ساتھ نکاح میں رغبت نہیں رکھتے اور ان کے مال و دولت میں رغبت کی وجہ سے ان کو اپنے پاس روکے رکھتے ہو اور ان کو کہیں اور نکاح نہیں کرنے دیتے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کمزور بچوں کے متعلق (بھی تمہیں حکم دیتا ہے) اور یہ کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو ‘ اور تم جو بھی نیک کام کرتے ہو تو بیشک اللہ کو اس کا علم ہے۔ (النساء : ١٢٧) 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ پہلے لوگ لڑکوں اور لڑکیوں کو وارث نہیں بناتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے منع فرمایا اور ہر حصہ دار کو حصہ مقرر فرما دیا ‘ اور یتیموں کے متعلق انصاف کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ ان کا مہر مقرر کرنے میں اور وراثت میں ان کا حصہ ادا کرنے میں انصاف سے کام لیا جائے۔ (زاد المسیر ج ٢ ص ١٢٨) 

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عورتوں کے حقوق کے متعلق نصیحت کی ہے اور فرمایا ہے کہ عورتوں ‘ یتیم لڑکیوں اور کمزور بچوں کے وہی احکام ہیں جو پہلے اللہ تعالیٰ نے فرض کیے تھے اور یہاں مسلمانوں کے سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے پھر ان ہی احکام کی طرف متوجہ کیا ہے تاکہ مسلمان ان آیات میں غور وفکر کریں اور ان کے تقاضوں پر عمل کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 127