یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو (ف۲۷۹) بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے

(ف279)

حدیث شریف میں ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی نماز میں مشغول ہوجاتے اور نماز سے مدد چاہنے میں نماز استسقا و صلوۃ ِحاجت داخل ہے۔

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ(۱۵۴)

اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو (ف۲۸۰) بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں (ف۲۸۱)

(ف280)

شان نزول: یہ آیت شہداء بدر کے حق میں نازل ہوئی لوگ شہداء کے حق میں کہتے تھے کہ فلاں کا انتقال ہوگیا وہ دنیوی آسائش سے محروم ہوگیا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔

(ف281)

موت کے بعد ہی اللہ تعالیٰ شہداء کو حیات عطا فرماتا ہے ان کی ارواح پر رزق پیش کئے جاتے ہیں انہیں راحتیں دی جاتی ہیں ان کے عمل جاری رہتے ہیں اجرو ثواب بڑھتا رہتا ہے حدیث شریف میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں جنت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں مسئلہ: اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کو قبر میں جنتی نعمتیں ملتی ہیں شہید وہ مسلمان مکلف ظاہر ہے جو تیز ہتھیار سے ظلماً مارا گیا ہو اور اس کے قتل سے مال بھی واجب نہ ہوا ہو یا معرکہ جنگ میں مردہ یا زخمی پایا گیا اور اس نے کچھ آسائش نہ پائی اس پر دنیا میں یہ احکام ہیں کہ نہ اس کو غسل دیا جائے نہ کفن اپنے کپڑوں میں ہی رکھا جائے اسی طرح اس پر نماز پڑھی جائے اسی حالت میں دفن کیا جائے آخرت میں شہید کا بڑا رتبہ ہے بعض شہداء وہ ہیں کہ ان پر دنیا کے یہ احکام تو جاری نہیں ہوتے لیکن آخرت میں ان کے لئے شہادت کا درجہ ہے جیسے ڈوب کر یا جل کر یا دیوار کے نیچے دب کر مرنے والا،طلب علم، سفر حج غرض راہ خدا میں مرنے والا اور نفاس میں مرنے والی عورت اور پیٹ کے مرض اور طاعون اور ذات الجنب اور سل میں اور جمعہ کے روز مرنے والے وغیرہ ۔

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)

اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے (ف۲۸۲) اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے (ف۲۸۳) اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو

(ف282)

آزمائش سے فرمانبردار و نافرمان کے حال کا ظاہر کرنا مراد ہے۔

(ف283)

امام شافعی علیہ الرحمۃ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:کہ خوف سے اللہ کا ڈر، بھوک سے رمضان کے روزے مالوں کی کمی سے زکوۃ و صدقات دینا ،جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ موتیں ہونا، پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے اس لئے کہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہے حدیث شریف میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی وہ عرض کرتے ہیں کہ ہاں یارب، پھر فرماتا ہے تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا عرض کرتے ہیں ہاں یارب، فرماتا ہے اس پر میرے بندے نے کیا کہا؟ عرض کرتے ہیں اس نے تیری حمد کی اور ” اِنَّا ِﷲِ وَاِناَّ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ” پڑھا فرماتا ہے اس کے لئے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔ حکمت: مصیبت کے پیش آنے سے قبل خبر دینے میں کئی حکمتیں ہیں ایک تو یہ کہ اس سے آدمی کو وقت مصیبت صبر آسان ہوجاتا ہے، ایک یہ کہ جب کافر دیکھیں کہ مسلمان بلاد مصیبت کے وقت صابر و شاکر اور استقلال کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہتا ہے تو انہیں دین کی خوبی معلوم ہو اور اس کی طرف رغبت ہو، ایک یہ کہ آنے والی مصیبت کی قبل و قوع اطلاع غیبی خبر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے ایک حکمت یہ کہ منافقین کے قدم ابتلاء کی خبر سے اُکھڑ جائیں اور مومن و منافق میں امتیاز ہوجائے۔

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)

کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا (ف۲۸۴)

(ف284)

حدیث شریف میں ہے کہ وقت مصیبت کے ” اِنّا ِﷲِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ” پڑھنا رحمت الہی کا سبب ہوتا ہے یہ بھی حدیث میں ہے کہ مؤمن کی تکلیف کو اللہ تعالیٰ کفارئہ گناہ بناتا ہے ۔

اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)

یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دُرودیںہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِۚ-فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَاؕ-وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًاۙ-فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ(۱۵۸)

بےشک صفا اور مروہ (ف۲۸۵) اللہ کے نشانوں سے ہیں (ف۲۸۶) تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے (ف۲۸۷) اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے والاخبردار ہے

(ف285)

صفاو مروہ مکّہ مکرّمہ کے دو پہاڑ ہیں جو کعبہ معظمہ کے مقابل جانب شرق واقع ہیں مروہ شمال کی طرف مائل اور صفا جنوب کی طرف جبل ابی قُبَیْس کے دامن میں ہے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل علیہ السلام نے ان دونوں پہاڑوں کے قریب اس مقام پر جہاں چاہ ِزمزم ہے بحکم الٰہی سکونت اختیار فرمائی اس وقت یہ مقام سنگلاخ بیابان تھا نہ یہاں سبزہ تھا نہ پانی نہ خوردو نوش کا کوئی سامان رضائے الہی کے لئے ان مقبول بندوں نے صبر کیا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بہت خرد سال تھے تشنگی سے جب ان کی جاں بلبی کی حالت ہوئی تو حضرت ہاجرہ بے تاب ہو کر کوہ صفا پر تشریف لے گئیں وہاں بھی پانی نہ پایا تواُتر کر نشیب کے میدان میں دوڑتی ہوئی مروہ تک پہنچیں اس طرح سات مرتبہ گردش ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ” اِنَّ اللّٰہ َ مَعَ الصَّابِرِیْنَ” کا جلوہ اس طرح ظاہر فرمایا کہ غیب سے ایک چشمہ زمزم نمودار کیا اور ان کے صبر و اخلاص کی برکت سے ان کے اتباع میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیان دوڑنے والوں کو مقبول بارگاہ کیا اور ان دونوں کو محل اجابت دعا بنایا۔

(ف286)

شعائر اللہ سے دین کے اعلام یعنی نشانیاں مراد ہیں خواہ وہ مکانات ہوں جیسے کعبہ عرفات مزدلفہ جمارثلثہ’ صفا’ مروہ’ منٰی’ مساجد یا ازمنہ جیسے رمضان ،اشہر حرام، عیدالفطر واضحٰی جمعہ ایاّم تشریق یا دوسرے علامات جیسے اذان، اقامت نمازِ با جماعت، نمازِ جمعہ، نماز عیدین، ختنہ یہ سب شعائر دین ہیں۔

(ف287)

شان نزول زمانہ جاہلیت میں صفا و مروہ پر دو بت رکھے تھے صفا پر جو بت تھا اس کا نام اساف اور جو مروہ پر تھا اس کا نام نائلہ تھا کفار جب صفاومروہ کے در میان سعی کرتے تو ان بتوں پر تعظیمًاہاتھ پھیرتے عہد اسلام میں بت تو توڑ دیئے گئے لیکن چونکہ کفار یہاں مشرکانہ فعل کرتے تھے اس لئے مسلمانوں کو صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا گراں ہوا کہ اس میں کفار کے مشرکانہ فعل کے ساتھ کچھ مشابہت ہے اس آیت میں ان کا اطمینان فرما دیا گیا کہ چونکہ تمہاری نیت خالص عبادت الٰہی کی ہے تمہیں اندیشہ مشابہت نہیں اور جس طرح کعبہ کے اندر زمانہ جاہلیت میں کفار نے بت رکھے تھے اب عہد اسلام میں بت اٹھادیئے گئے اور کعبہ شریف کا طواف درست رہا اور وہ شعائر دین میں سے رہا اسی طرح کفار کی بت پرستی سے صفا و مروہ کے شعائر دین ہونے میں کچھ فرق نہیں آیا مسئلہ: سعی (یعنی صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا) واجب ہے حدیث سے ثابت ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے اس پر مداومت فرمائی ہے اس کے ترک سے دم دینا یعنی قربانی واجب ہوتی ہے مسئلہ : صفاو مروہ کے درمیان سعی حج و عمرہ دونوں میں لازم ہے فرق یہ ہے کہ حج کے اندر عرفات میں جانا اور وہاں سے طواف کعبہ کے لئے آنا شرط ہے اور عمرہ کے لئے عرفات میں جانا شرط نہیں۔مسئلہ : عمرہ کرنے والا اگر بیرونِ مکّہ سے آئے اس کو براہ راست مکّہ مکرّمہ میں آکر طواف کرنا چاہئے اور اگر مکہ کا ساکن ہو تو اس کو چاہئے کہ حرم سے باہر جائے وہاں سے طواف کعبہ کااحرام باندھ کر آئے حج و عمرہ میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ حج سال میں ایک ہی مرتبہ ہوسکتا ہے کیونکہ عرفات میں عرفہ کے دن یعنی نویں ذی الحجہ کو جانا جو حج میں شرط ہے سال میں ایک ہی مرتبہ ممکن ہے اور عمرہ ہر دن ہوسکتا ہے اس کے لئے کوئی وقت معین نہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِۙ-اُولٰٓىٕكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ(۱۵۹)

بےشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) بعد اس کے کہ لوگوں کے لیے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکے ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت (ف۲۸۹)

(ف288)

یہ آیت علماء یہود کی شان میں نازل ہوئی جو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت شریف اور آیت رجم اور توریت کے دوسرے احکام کو چھپایا کرتے تھے۔ مسئلہ : علوم دین کا اظہار فرض ہے۔

(ف289)

لعنت کرنے والوں سے ملائکہ و مومنین مراد ہیں ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندے مراد ہیں۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓىٕكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْۚ-وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۱۶۰)

مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں (اصلاح کریں)اور ظاہر کردیں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ(۱۶۱)

بےشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی (ف۲۹۰)

(ف290)

مومن تو کافروں پر لعنت کریں گے ہی کافر بھی روز قیامت باہم ایک دوسرے پر لعنت کریں گے

مسئلہ : اس آیت میں ان پر لعنت فرمائی گئی جو کفر پر مرے ا س سے معلوم ہوا کہ جس کی موت کفر پر معلوم ہو اس پر لعنت کرنی جائز ہے

مسئلہ:گنہگار مسلمان پر بالتعیین لعنت کرنا جائز نہیں لیکن علی الاطلاق جائز ہے جیسا کہ حدیث شریف میں چور اور سود خوار وغیرہ پر لعنت آئی ہے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ(۱۶۲)

ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)

اور تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۲۹۱)اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا