53540972_2198083523585654_126369414000934912_n

🌴#ہندو پیشواؤں کی” گھرواپسی”وایا”دیوبند”😋

تحریر :محمد زاہد المرکزی کالپی شریف

کل مولانا سلمان ندوی کا بیان آیا کہ” رام” مسلمانوں کے پیغمبر ہیں، اس سے پہلے بھی مولانا سلمان ندوی بابری مسجد معاملے پر بابری مسجد کو ایودھیا کے باہر شفٹ کرنے کی صلاح دے چکے ہیں جس کے نتیجے میں مسلم پرسنل لا بورڈ نے انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا تھا ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مولانا سلمان ندوی کبھی اپنی ہی جماعت کے لئے وبال جان بن جاتے ہیں اور کبھی پوری امت مسلمہ کا ٹھیکہ لے کر ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر، اسلام کا واضح فرمان ہے کہ جب تک قرآن و حدیث سے کسی کے پیغمبر یا نبی ہونے پر ثبوت شرعی نہ مل جائے اس وقت تک ہم کسی کو مسلمانوں کا پیشوا یا مسلمان نہیں کہہ سکتے پیغمبر تو بڑی دور کی بات ہے. حال ہی میں ہندوستان میں جس طریقے سے “بھگوانوں” کی گھر واپسی ہونے لگی ہے اس سے کافی مشقتیں کھڑی ہو گئی ہیں سیاست میں اس طرح کے بیانات آئے دن آتے رہتے ہیں، تلنگانہ چناؤ کے وقت وزیراعلی اترپردیش” یوگی آدتیناتھ” کا بیان آیا تھا کہ “ہنومان” دلت ہیں اس سے انھیں کافی نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ جگہ جگہ دلتوں نے “ہنومان مندروں” پرقبضہ شروع کردیا تھا. اسی جماعت کے ہی کے ایک اور صاحب مفتی الیاس 2015 میں یہ بیان دے چکے ہیں کہ بھگوان “شنکر” اور ان کی بیوی ” پاروتی” حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا ہیں.

🌴🌴اپنے اپنے خدا بچاؤ 🌴🌴

دوسروں کے پیشواؤں کو اگر اپنا پیغمبر یا پیشوا بنانے کا یہی کھیل چلتا رہا تو عنقریب ہم کوئی اس نام کی تحریک بھی دیکھیں گے جن کے نام کچھ اس طرح کے ہونگے

(1) رام بچاؤ سنگھرش سمتی राम बचाओ संघर्ष समिति

(2)شنکر بھگوان ہندو ادھیکار منچ शंकर भगवान हिंदू अधिकार मंच

(3)بھگوان بچاؤ ایمان بچاؤ भगवान बचाओ ईमान बचाओ

اب کچھ سوالات بھگوانوں پر قبضہ جمانے والے ندویوں سے بھی ہوجائیں تاکہ جواب پاکر انکے ساتھ اور لوگ شدھی کرن(शुद्धिकरण) کرکے “گھر واپسی” کر سکیں.

(1) سلمان ندوی اگر آپ “رام” کو اپنا پیغمبر مانتے ہیں؟تو ثبوت کیا؟ کہاں ہے آپ کی تحقیق انیق؟ اگر ہاں تو عبادت کا طریقہ کیا ہوگا؟پوجا یا نماز؟ یا آرتی؟

(2) کیا آپ پوجا کریں گے؟ یا صحیح طریقہ عبادت سے ہندوؤں کو روشناس کرائیں گے؟ پوجا تو آپ کریں گے نہیں اور صحیح طریقہ عبادت آپ سے کوئی سیکھے گا نہیں تو پھر کیا کریں گے؟ یا حکومت کو خوش کرنا چاہتے ہیں اگر ایسا ہے🌴 تو ان بطش ربک لشدید 🌴اولئک الذين اشتروا الضلالۃ بالھدی…. اور یہ تجارت گھاٹے کی ہے.

(3) کیا آپ انھیں راضی کرنا چاہتے ہیں جنکے متعلق فرمان ہے کہ “وہ ہرگز راضی نہیں ہونگے جب تک کہ تم خود ان کے دین پر نہ ہوجاؤ” تو دیر کس بات کی دورنگی چھوڑ دے یک رنگ ہوجا….

(4) وہ نصوص، آثار کہاں جن سے یہ بکواس جاری ہے؟ کیا مفتی الیاس ثابت کر سکتے ہیں کہ شنکر اور پاروتی مسلمانوں کے پیشوا ہیں؟ یا صرف مشہور ہونے کا جنون سوار ہے اور غیر مسلموں کی توجہ حاصل کرنے کا ایک اسسٹنٹ ہے کچھ دیر کیلئے نیوز چینلز، اخبارات کی زینت بن سکتے ہیں مگر اللہ اور رسول جس چیز کی اجازت نہیں دیتے، شریعت جس چیز کی اجازت نہیں دیتی، آپ اس میں مداخلت کرکے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا اسلام آپ کی مرضی پر چلے گا؟ کیا آپ جو کہیں گے اسلام اور مسلمانوں کو وہی ماننا پڑے گا؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر بیانات کا کیا فائدہ؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر آپ کی یہ ارتقاۓ فہم کہیں وہ اثر نہ دکھا جائے کہ بعد مرنے کے ہندو دعویٰ کردیں یہ ہمارا ہے ہمارے خداؤں کو مانتا تھا اور آپ کو “قبرستان” کی بجائے “شمشمان” میں جلاکر راکھ کردیا جائے!!! اور آپ کی استھیوں (مابقیہ ہڈی وغیرہ) کو گنگا میں وسرجن (بہا) کردیا جائے!! ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کہ بجائے وید پرانوں، کیرتن، بھاگوت، رامائن، گیتا، منو اسمرتی، رگ وید، سام وید یجر وید، اتھر وید، کلکی پران، وغیرہ کے منتروں، شلوکوں کا پنڈتوں کے ذریعے جاپ کرایا جائے، اتفاق دیکھئے ہندو بھی ایصال ثواب کے قائل ہیں اور وہ سنیوں کی طرح تیجہ، دسواں بیسواں، چالیسواں کی طرح ہی “دن” منڈن “ایکا دشی، تیرھویں وغیرہ بڑے ہی اہتمام سے کرتے ہیں اور آپ کو ان سے خاصی چڑھ رہی ہے پر کیا کریں؟ آپ نے بھی یہی مذہب چنا خیر!پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا.

(5) اگر اس سے آپ بھائی چارہ، سدبھاونا کا رول ماڈل بننا چاہتے ہیں تو جا کے مندروں میں ماتھا ٹیک دیجئے اس سے بہتر آپ بھائی چارے کی مثال نہیں دے سکتے، آپ ایسا کریں اور جن کے منظور نظر بننا چاہتے ہو بن جائیں. یہ منافقانہ خصلت تو ابھی کہیں کا نہیں ہونے دے رہی ہے،” توڑ دے سارے بندھن تو بجنے دے گھنٹی کا شور” اور کہ دیجئے “جو تم کو ہو پسند وہی بات کہوں گا جو دن کو کہو رات تو میں رات کہوں گا”

سلمان صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ جب یہ حکومت کی طرف سے پھنس جاتے ہیں تو یہ الٹے سیدھے بیانات دے کر حکومت کو راضی کرنا چاہتے ہیں یاد رہنا چاہیے کہ یہ وہی مولانا سلمان ندوی ہیں جنہوں نے داعش کے سربراہ” ابوبکر “کو خط لکھ کر اس کی خلافت کی حمایت کی تھی، اسی کو دلیل بنا کر حکومت جب دباؤ بناتی ہے تو وہ کہیں رام مندر بننے کی حمایت کرتے ہیں تو کہیں بابری مسجد کو ایودھیا سے باہر شفٹ کرنے کی بات کرتے ہیں اور کبھی رام کو ہندو اور مسلمانوں کا پیشوا بنا کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جب مسلمانوں کے بھی پیشوا ہیں تو مندر بننے دیا جائے. حالانکہ یہ ظاہر ہے کہ ہندو بھی یہ چیز ماننے کو تیار نہیں ہوں گے اگر ہندو یہی تسلیم کرلیں کہ مسلمانوں کے پیشوا رام ہیں تو پھر انہیں کیا پڑی ہے مسجد بھی بنی رہی اپنی جگہ اور مندر بھی جہاں تھا وہیں بنا رہے دونوں لوگ اپنے اپنے طریقے پر عبادت کرتے رہیں. مگر معاملہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ جتنا مذہبی نہیں ہے اس سے لاکھ گنا زیادہ سیاسی ہے اس لئے بار بار اس پر کیسے کیسے بیانات آتے ہیں. حال ہی میں سپریم کورٹ اس بات پر فیصلہ کر رہا ہے کہ زمین مندر کی ہے یا مسجد کی مالک کون؟ کس کو دی جائے؟ حالانکہ اہم یہ نہیں ہے کہ مندر کی ملکیت ہے یا مسجد کی اہم یہ ہے کہ جس نے مسجد کو توڑا انہیں سزا کب ہوگی؟ انکا کیس سنا جائے جن کے ذریعے ہزاروں لوگ فسادات میں اپنی جانیں گنوا چکے، ان کے محرکین کو کیوں نہ پھانسی کی سزا دی جائے؟ جنھوں نے دیش کی ایکتا اور اکھنڈتا، معاشرتی، مذہبی تفریق کا بیج بویا ہے کیوں نہ مندر مسجد کے نام پر ہونے والے دنگوں کو ختم کرنے کے لئے ایسے لوگوں کو ہی ختم کر کر دیا جائے تاکہ دیش اور دنیا دونوں سلامت رہیں.

Zahidalibarkati@gmail.com