آزادی اور حدود و قیود

اگر کسی ملک یا مذہب کا قانون کچھ پابندیاں لگاتا ہے تو اس کا مطلب ظلم کرنا ہرگز نہیں ہوتا بلکہ اس کی زندگی کو محفوظ بنانا ہوتا ہے…… 

(1) کوئی حکومت ایک بہترین کارپٹ روڈ,, موٹروے,, بناتی ھے، اور حد رفتار130 /120کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دیتی ھے.. وہاں پر کوئی نہیں کہتا میرا ملک میری مرضی.. 

بلکہ یہ کہا جاتا ہے حکومت کا فیصلہ،، میرا تحفظ میری زندگی،، 

(2) ایک بچہ درخت پر چڑھنا سیکھ جاتا ہے، بچہ درخت پر چڑھتا ہے جیسے ہی ایک کمزور شاخ پر قدم رکھتا ہے اس کے والدین سختی سے واپس پلٹنے کا کہتے ہیں،، کیونکہ اس سختی میں اس کی زندگی ہے…. 

(3) لاکھوں روپے کا قیمتی زیور ہوتا ہے لیکن اس کو ایک بکس میں بند کر کے رکھ دیا جاتا ہے…

کوئی یہ نہیں کہتا کہ لاکھوں روپے اس لئے خرچ کیے ہیں کہ بکس میں بند کردیا جائے اس کو باہر نکال آنکھوں کے سامنے رکھو…. 

زیور استعمال کرو لیکن سب کے لئے کھلا مت چھوڑو…… 

اٹلی میں ہمارے ایک جاننے والے,, ون وے روڈ،، پر ممنوع سمت سے داخل ہوئے پولیس نے دیکھ لیا اور ان سے لائسنس ہی لے لیا….. 

انہوں نے یہ نہیں کہا کہ روڈ تو بنایا ہی گاڑی چلانے کے لئے ہے. کیونکہ اس کی بھی کچھ حدیں ہیں روڈ بنایا گاڑی چلانے کے لئے ہی ہے لیکن صحیح سمت سے……

اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے.. 

تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَہٗ ؕ 

اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھا بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا..

اسی طرح اللہ تعالی نے ہماری آخرت کو محفوظ بنانے کے لئے کچھ حد مقرر کر دی ہیں..

کیونکہ تخلیق کرنے والے کو پتہ ہے کہ اس کی حد رفتار کیا رکھنی ہے…. 

تحریر:۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی