پارٹ ون کے لیے

ولادتِ مبارک

جائے ولادت:

آپ کی جائے ولادت میں اختلاف ہے، مؤلف سیر العارفین نے آپ کا مولد سجستان لکھا ہے۔ بعض نے سنجار متصل موصل لکھا ہے۔ بعض نے متصل اصفہان سنجر لکھا ہے۔ مگر صحیح یہ ہے کہ حسبِ سیر الاقطاب آپ کا آبائی وطن سنجرستان (صوبہ سجستان یعنی سنجر یا سیسان ہے اور جائے ولادت صفاہان (اصفہان) ہے لیکن آپ کی بود و باش سنجان میں رہی جو سنجر کے نام سے مشہور ہے بقولِ ابوالفضل یہ قصبہ سنجر سیسان سے متعلق ہے۔ یہاں آپ کے خاندان کے افراد اب تک موجود ہیں، اس کے گرد پہاڑ ہیں پھل بکثرت ہوتے ہیں باشندگان نیک خصلت ہیں۔

خلفائے عباسیہ سادات پر مظالم کرتے تھے اس لئے اغلب گمان ہے کہ آپ کے اجداد نے ان کے مظالم سے تنگ آکر دارالخلافت بغداد سے دور سنجر (جس کو ابوالفضل نے سنکر یا سنگر لکھا ہے اور گاف کو جیم سے بدل کر آپ کو سنجری لکھا ہے) میں اقامت اختیار کر لی تھی مگر آپ کی ولادت کے موقع پر آپ کی والدہ اصفہان میں تھیں۔ اس سیستان کے سنجری خاندانِ رسالت کی جائے قیام آبائی سابقہ نسبت مکانی کی وجہ سے اصفہان میں بھی سنجر (اصفہان کا مضافاتی محلہ) کہلائی۔

تاریخ و سنہ ولادت: آپ کی ولادت کے مختلف سنین ۵۲۳؁ھ اور ۵۳۷؁ھ کے درمیان لکھے گئے ہیں مگر بحوالہ کلمات الصادقین مؤلف مرأت الاسرار نے آپ کا بعمر ۹۷ سال ۶۲۷؁ھ میں وصال پانا لکھا ہے ۶۲۷ میں سے ۹۷ سال عمر کے کم کر دینے سے آپ کا سنہ ولادت ۵۳۰؁ھ بر آمد ہوتا ہے یہی سالِ ولادت مؤلف مرأت الانساب (ص:۱۶۰) اور خاندان زبیر کبنوی (جلد اول ص:۳۱۶) وغیرہ نے لکھا ہے۔ مرقعہ خواجگان نے ص:۱۱ پر بحوالہ آئینہ تصوف اور بعض دوسرے تذکرہ نویسوں نے آپ کی تاریخِ ولادت ۹؍جمادی الثانی لکھی ہے۔ ۵۳۰؁ھ کی یہ تاریخ ۱۵؍مارچ ۱۱۳۶؁ء روز یکشنبہ سے مطابقت کرتی ہے۔

اسمِ گرامی اور خطابات و القاب: بعض کے نزدیک آپ کا پورا نام معین الدین حسن ہے مگر بعض کے نزدیک معین الدین ہے اور والدین کے پکارنے کا مختصر نام حسن ہے۔ بعدِ وصال آپ کی پیشانی پر بخط نور ’’ہٰذَا حَبِیْبُ اللّٰہِ‘‘ مرقوم تھا۔ اس لئے یہ دربارِ ایزدی سے عطا کردہ خطاب سمجھا جاتا ہے۔مدینہ منورہ پہنچ کر جب آپ نے دربارِ رسالت میں سلام پیش کیا تو جوابِ سلام کے ساتھ قطب مشائخ بر و بحر کا خطاب عطا ہوا۔ چوں کہ آپ نے ہندوستان میں بفیض رسالت محمدی نبیوں کی طرح خدمت انجام دیں اس لئے بعض پرانے تذکروں میں آپ کا خطاب ہند النبی مرقوم ہے۔ عام طور سے لوگ آپ کو عطائے رسول، خواجہ اجمیر، خواجہ بزرگ ہند الولی، غریب نواز، سلطان الہند، نائب رسول فی الہند و غیرہ کے خطابات سے یاد کرتے ہیں۔

بعض حضرات فاتحہ کے موقعہ پر آپ کے نام کے ساتھ تاج المقربین و المحققین، سید العابدین، تاج العاشقین، برہان الواصلین، آفتابِ جہاں، رحمتِ ہندوستاں، پناہِ بے کساں، دلیل العارفین کے القاب لگاتے ہیں۔

چشتی کہلانے کی وجہ تسمیہ: یہ خیال غلط ہے کہ چشتی سلسلہ حضرتِ خواجہ غریب نواز سے شروع ہوا بلکہ اس کی ابتدا حضرتِ خواجہ ابواسحاق سے ہوئی، مبدأ و منشأ چشتیاں حضرت خواجہ ابواسحاق شامی جب بقصدِ حصولِ بیت حضرت خواجہ ممشادعلودینوری کے یہاں بغداد میں حاضر ہوئے اور شرفِ بیعت و ارادت سے مشرف ہوئے تو حضرت خواجہ ممشاد علودینوری رحمۃ اللہ علیہ نے دریافت فرمایا ’’تیرا نام کیا ہے؟‘‘ عرض کیا اس عاجز کو ابو اسحاق شامی کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا آج سے ہم تجھ کو ابو اسحاق چشتی کہیں گے اور جو تیرے سلسلۂ ارادت میں تا قیامِ قیامت داخل ہوگا وہ بھی چشتی کہلائے گا۔ پس حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی حسبِ فرمانِ مرشد چشت (شاقلان جو ہرات سے تیس کوس ہے) میں تشریف لائے اور رشد و ہدایت میں مصروف ہوئے۔ آپ کے سلسلہ کے بزرگان میں سے حضرت خواجہ ابو احمد چشتی، حضرت خواجہ محمد چشتی، حضرت خواجہ ابو یوسف چشتی اور حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی بھی چشت میں قیام پذیر ہو کر مدفون ہوئے بایں وجہ یہ سلسلہ چشتی کے نام سے مشہور ہوا چوں کہ مذکورہ بالا حضرات حضور خواجہ غریب نواز کے پیرانِ سلسلہ ہیں اس لئے حضرت خواجہ غریب نواز بھی چشتی کہلائے۔

رضاعت: آپ کا عہدِ طفلی عام بچوں جیسا نہ تھا بلکہ ایامِ رضاعت تک میں شانِ غریب نوازی کا اظہار فرماتے تھے ’’بزمانۂ رضاعت جب کوئی عورت اپنا بچہ لے کر آپ کے یہاں آ جاتی اور اس کا بچہ دودھ کے لئے روتا تو آپ کا اشارہ سمجھ جاتیں اور آپ کا دودھ اسے پلا دیتیں۔ اس نظارے سے آپ بہت بہت خوش ہوتے اور فرطِ مسرت سے ہنستے۔ تین چار سال کی عمر کے زمانہ میں آپ اپنے ہم عمر بچوں کو بلاتے اور انہیں کھانا کھلاتے۔

صغرِ سنی: ایک عید کے موقع پر حضرتِ خواجہ بزمانہ صغرِ سنی عمدہ لباس پہنے ہوئے نماز کے لئے جا رہے تھے، راستے میں آپ نے ایک نابینا لڑکے کو پھٹے پرانے کپڑوں میں دیکھا، آپ کو اس پر رحم آیا اسی وقت اپنے کپڑے اتار کر اس بچے کو دے دئے اور اس کو اپنے ساتھ عید گاہ لے گئے۔ آپ اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کبھی کھیل کود میں شریک نہ ہوتے تھے۔

نشو و نما اور ابتدائی تعلیم: آپ کا نشو و نما خراسان میں ہوا، ابتدائی تعلیم کے متعلق کتابوں میں تفصیلات نہیں ہیں مگر حال کے ایک تذکرہ میں لکھا ہے کہ ابتدائی تعلیم آپ نے گھر پر حاصل کی۔ نو سال کی عمر میں قرآنِ مجید حفظ کیا بعد ازآں آپ سنجر کے مدرسے میں داخل ہو گئے یہاں آپ نے تفسیر، حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی اور تھوڑے عرصے میں بہت علم حاصل کر لیا۔

ایک مجذوب سے ملاقات: ایک دن آپ اپنے باغ کو سیراب کر رہے تھے کہ اپنے وقت کے مشہور مجذوب حضرت ابراہیم قندوری کا وہاں سے گزر ہوا۔ حضرت خواجہ نے نہایت عزت و احترام کے ساتھ انہیں بٹھایا اور خوشۂ انگور سے ان کی تواضع کی۔ خواجہ کے حسنِ سلوک سے مجذوب کا دل خوش ہو گیا انہوں نے اپنی بغل سے سوکھی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا نکالا اور دانت سے چبا کر حضرت خواجہ کو دیا، اسے کھاتے ہی دل کی حالت بدل گئی، کیف و سر مستی کے عالم میں باغ و پن چکی فروخت کر کے ساری قیمت فقراء اور مساکین میں تقسیم کر دی اور خراسان کی طرف نکل گئے۔ (ماہنامہ استقامت کا اولیاء نمبر، جولائی ۱۹۷۷؁ء، ص:۶۳)  جاری ۔۔۔

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری