أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعُوۡۤا اَنۡ تَعۡدِلُوۡا بَيۡنَ النِّسَآءِ وَلَوۡ حَرَصۡتُمۡ‌ فَلَا تَمِيۡلُوۡا كُلَّ الۡمَيۡلِ فَتَذَرُوۡهَا كَالۡمُعَلَّقَةِ‌ ؕ وَاِنۡ تُصۡلِحُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور تم ہرگز اپنی بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل نہیں کرسکتے خواہ تم اس پر حریص بھی ہو سو (جس سے تم کو رغبت نہ ہو) اس بیوی سے بالکل اعراض نہ کرو کہ اس کو اس طرح چھوڑ دو کہ وہ درمیان میں لٹکی ہوئی ہو ‘ اور اگر تم اصلاح کرلو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم ہرگز اپنی بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل نہیں کرسکتے خواہ تم اس پر حریص بھی ہو۔ 

دلی محبت میں بیویوں کے درمیان عدل کرنا ممکن نہیں۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے لوگو ! تم دلی محبت میں اپنی بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکو گے۔ خواہ تم دلی محبت میں ان کے درمیان مساوات کرنے کا ارادہ بھی کرو کیونکہ محبت میں سب بیویوں کے ساتھ برابری کرنا تمہاری قدرت اور اختیار میں نہیں ہے نہ تم اس کے مالک ہو۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواج کی باریوں میں عدل کرتے تھے اور فرماتے تھے : اے اللہ یہ میری وہ تقسیم ہے جس کا میں مالک ہوں تو مجھے اس چیز پر ملامت نہ کرنا جس میں مالک نہیں ہوں ‘ امام ترمذی نے کہا اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ان کے درمیان محبت میں برابری رکھنے کا میں مالک نہیں ہوں (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ١١٤٣‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٣٤‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٥٣‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٧١)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) فرماتے تھے ‘ یا اللہ ! میرے دل میں جو محبت ہے میں اس کا مالک نہیں ہوں اور اس کے سوا باقی امور میں مجھے امید ہے کہ میں عدل کروں گا (جامع البیان ج ٤ ص ٤٢٤‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر تم چاہو بھی تو محبت اور جماع میں دو بیویوں میں عدل نہیں کرسکتے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٤٢٤‘) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (جس سے تم کو رغبت نہ ہو) اس بیوی سے بالکل اعراض نہ کرو کہ اس کو اس طرح چھوڑ دو کہ وہ درمیان میں لٹکی ہوئی ہو ‘ اور اگر تم اصلاح کرلو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔ (النساء : ١٢٩) 

بیویوں میں عدل نہ کرنے والوں کی سزا : 

ہشام نے کہا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ محبت اور عمل تزویج میں کسی ایک بیوی کی طرف بالکل نہ ہو ‘ حسن نے کہا عمل تزویج اور باریوں میں کسی ایک کی طرف بالکل نہ جھک جاؤ‘ مجاہد نے کہا دوسری بیوی کے ساتھ عمدا برا سلوک اور ظلم نہ کرو ‘ سدی نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ ایسا نہ کرو کہ دوسری بیویوں کو نہ باری دو اور نہ ان کو خرچ دو ۔ اور یہ جو فرمایا ہے کہ وہ درمیان میں لٹکی ہوئی ہو ‘ ربیع نے کہا اس کا معنی ہے نہ وہ مطلقہ ہو اور نہ شوہر والی ہو ‘ مجاہد نے کہا نہ وہ بیوہ ہو نہ شوہر والی ہو۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ٤٢٧۔ ٤٢٦ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان عدل نہ کرے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو گرا ہوا ہوگا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ١١٤٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٣٣‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٥٣‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٦٩‘ مسند احمد :‘ رقم الحدیث :‘ ٧٩٤١‘ ٨٥٧٦‘ ١٠٠٩٦‘ السنن الکبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٩٧)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 129