أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ ‌ؕ وَلَـقَدۡ وَصَّيۡنَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَاِيَّاكُمۡ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ وَاِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَنِيًّا حَمِيۡدًا‏ ۞

ترجمہ:

اور اللہ ہی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے ‘ اور بیشک ہم نے ان لوگوں کو حکم دیا جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تم کو بھی کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اگر تم نہیں مانو گے تو اللہ ہی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے ‘ اور اللہ بےنیاز ہے حمد وثنا کیا ہوا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ ہی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے ‘ اور بیشک ہم نے ان لوگوں کو حکم دیا جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تم کو بھی کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اگر تم نہیں مانو گے تو اللہ ہی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے ‘ اور اللہ بےنیاز ہے حمد وثنا کیا ہوا اور اللہ ہی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے ‘ اور اللہ کافی ہے حمایت کرنے والا۔ (النساء : ١٣٢۔ ١٣١) 

بندوں کی اطاعت اور ان کے شکر سے اللہ کے غنی ہونے کا بیان : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یتیموں اور کمزوروں کے ساتھ عدل اور احسان کرنے کا حکم دیا تھا ‘ اور اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اس لیے نہیں فرمایا تھا کہ اس میں اللہ کا کوئی فائدہ ہے یا اللہ کو اس کی کوئی احتیاج ہے ‘ کیونکہ آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز اللہ کی ملکیت میں ہے اور وہ ہر چیز سے غنی ہے اور ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ بندوں کو نیکی اور خیر پر برانگیختہ کرتا ہے۔ 

اس آیت میں اللہ نے یہ خبر دی ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمینوں کا مالک ہے اور ان میں حاکم ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کی مخلوق اور اس کی مملوک ہے ‘ اور جس طرح ہم نے تم کو احکام دیئے ہیں اس سے پہلے یہود اور نصاری کو بھی احکام دیئے تھے اور ہم نے ان کو بھی یہ حکم دیا تھا کہ اللہ سے ڈریں اور صرف تنہا اس کی عبادت کریں اور اس کی دی ہوئی شریعت پر عمل کریں ‘ اسی طرح ہم نے تم کو بھی یہ حکم دیا ہے ‘ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کو کفر (انکار) کرو تو تمہارے کفر اور معصیت سے اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا جس طرح تمہارے ایمان ‘ اطاعت اور شکر سے اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ‘ کیونکہ وہ مالک الملک ہے اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ‘ اس نے یہ احکام اپنی رحمت سے صرف تمہارے فائدہ کے لیے دئیے ہیں اس کا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہے ‘ اور یہ اس کی وصیت قدیمہ ہے صرف تم اس وصیت کے ساتھ مخصوص نہیں ہو اور ہم نے پچھلی امتوں سے بھی کہا تھا اور تم سے بھی کہتے ہیں کہ اگر تم اللہ کے ان احسانات کو نہ مانو اور اس کی اطاعت نہ کرو ‘ اور اس کا شکر نہ بجا لاؤ تو تمام آسمان اور زمینیں اللہ کی مالک میں ہیں اور ان میں سارے فرشتے اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں اور اللہ اپنی ہر مخلوق اور اس کی عبادت سے غنی ہے وہ اپنی بےپایاں نعمتوں اور احسانات کی وجہ سے بذاتہ حمد وثناء کا مستحق ہے کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے۔ 

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 131