اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ ۪-وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(۱۶۴)

بےشک آسمانوں (ف۲۹۲) اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنااور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلادیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں .

(ف292)

(۲۹۲) کعبہ معظمہ کے گرد مشرکین کے تین سو ساٹھ بت تھے جنہیں وہ معبود اعتقاد کرتے تھے انہیں یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ معبود صرف ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس لئے انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی آیت طلب کی جس سے وحدانیت پر استدلال صحیح ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں یہ بتایا گیا کہ آسمان اور اس کی بلندی اور اس کا بغیر کسی ستون اور علاقہ کے قائم رہنا اور جو کچھ اس میں نظر آتا ہے آفتاب مہتاب ستارے وغیرہ یہ تمام اور زمین اور اس کی درازی اور پانی پر مفروش ہونا اور پہاڑ دریا چشمے معاون جواہر درخت سبزہ پھل اور شب و روز کا آنا جانا گھٹنا بڑھنا کشتیاں اور ان کا مسخر ہونا باوجود بہت سے وزن اور بوجھ کے روئے آب پر رہنا اور آدمیوں کا ان میں سوار ہو کر دریا کے عجائب دیکھنا اور تجارتو ں میں ان سے باربرداری کا کام لینا اور بارش اور اس سے خشک ومردہ ہو جانے کے بعد زمین کا سر سبزوشاداب کرنا اور تازہ زندگی عطا فرمانا اور زمین کو انواع و اقسام کے جانوروں سے بھر دینا جس میں بیشمار عجائب حکمت و دیعت ہیں اسی طرح ہواؤں کی گردش اور ان کے خواص اور ہوا کے عجا ئبات اور اَبر اور اس کا اتنے کثیر پانی کے ساتھ آسمان و زمین کے درمیان معلق رہنا یہ آٹھ انواع ہیں جو حضرت قادر مختار کے علم و حکمت اور اس کی وحدانیت پر برہان قوی ہیں اور ان کی دلالت وحدانیت پر بے شمار وجوہ سے ہے اجمالی بیان یہ ہے کہ یہ سب امور ممکنہ ہیں اور ان کا وجود بہت سے مختلف طریقوں سے ممکن تھا مگر وہ مخصوص شان سے وجود میں آئے یہ دلالت کرتا ہے کہ ضرور ان کے لئے موجد ہے قادر و حکیم جو بمقتضائے حکمت و مشیت جیسا چاہتا ہے بناتا ہے کسی کو دخل و اعتراض کی مجال نہیں وہ معبود بالیقین واحد ویکتا ہے کیونکہ اگر اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی فرض کیا جائے تو اس کو بھی اس مقدورات پر قادر ماننا پڑے گا اب دو حال سے خالی نہیں یا تو ایجاد و تاثیر میں دونوں متفق الارادہ ہوں گے یا نہ ہوں گے اگر ہوں تو ایک ہی شئے کے وجود میں دو موثروں کا تاثیر کرنا لازم آئے گا اور یہ محال ہے کیونکہ یہ مستلزم ہے معلول کے دونوں سے مستغنی ہونے کو اور دونوں کی طرف مفتقر ہونے کو کیونکہ علت جب مستقلہ ہو تو معلول صرف اسی کی طرف محتاج ہوتا ہے دوسرے کی طرف محتاج نہیں ہوتا اور دونوں کو علت مستقلہ فرض کیا گیا ہے تو لازم آئے گا کہ معلول دونوں میں سے ہر ایک کی طرف محتاج ہو اور ہر ایک سے غنی ہو تو نقیضین مجتمع ہوگئیں اور یہ محال ہے اور اگر یہ فرض کرو کہ تاثیر ان میں سے ایک کی ہے تو ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی اور دوسرے کا عجز لازم آئے گا جو اِلٰہ ہونے کے منافی ہے اور اگر یہ فرض کرو کہ دونوں کے ارادے مختلف ہوتے ہیں تو تمانع و تطار دلازم آئے گا کہ ایک کسی شئے کے وجود کا ارادہ کرے اور دوسرا اسی حال میں اس کے عدم کا تو وہ شئے ایک ہی حال میں موجود و معدوم دونوں ہوگی یا دونوں نہ ہوگی یہ دونوں تقدیر یں باطل ہیں ضرور ہے کہ یا موجودگی ہوگی یا معدوم ایک ہی بات ہوگی اگر موجود ہوئی تو عدم کا چاہنے والا عاجز ہوااِلٰہ نہ رہا اور اگر معدوم ہوئی تو وجود کا ارادہ کرنے والا مجبور رہا اِلٰہ نہ رہا لہذا ثابت ہوگیا کہ الہ ایک ہی ہو سکتا ہے اور یہ تمام انواع بے نہایت وجوہ سے اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ-وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَۙ-اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاۙ-وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ (۱۶۵)

اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں اور کیسی ہو اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جب کہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لیے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لیے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ(۱۶۶)

جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پَیروؤں سے (ف۲۹۳) اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں (ف۲۹۴)

(ف293)

یہ روز قیامت کا بیان ہے جب مشرکین اور ان کے پیشوا جنہوں نے انہیں کفر کی ترغیب دی تھی ایک جگہ جمع ہوں گے اور عذاب نازل ہوتا ہوا دیکھ کر ایک دوسرے سے بیزار ہوجائیں گے۔

(ف294)

یعنی وہ تمام تعلقات جو دنیا میں ان کے مابین تھے خواہ وہ دوستیاں ہوں یا رشتہ داریاں یا باہمی موافقت کے عہد

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّاؕ-كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْؕ-وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠(۱۶۷)

اور کہیں گے پَیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں) تو ہم ان سے توڑ دیتے(جدا ہو جاتے) جیسے انہوں نے ہم سے توڑدی یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر (ف۲۹۵) اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں

(ف295)

یعنی اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال ان کے سامنے کرے گا تو انہیں نہایت حسرت ہوگی انہوں نے یہ کام کیوں کئے تھے ایک قول یہ ہے کہ جنت کے مقامات دکھا کر ان سے کہا جائے گا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے تو یہ تمہارے لئے تھے پھر وہ مساکین و منازل مؤمنین کو دیئے جائیں گے اس پر انہیں حسرت و ندامت ہوگی۔