أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ اَيُّهَا النَّاسُ وَيَاۡتِ بِاٰخَرِيۡنَ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

اے لوگو ! اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور دوسرے لوگوں کو لے آئے ‘ اور اللہ اس پر قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے لوگو ! اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور دوسرے لوگوں کو لے آئے ‘ اور اللہ اس پر قادر ہے۔ (النساء : ١٣٣) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صراحۃ عام تہدید فرمائی ہے کہ اے لوگوں ! اگر اللہ چاہے تو وہ تم کو فنا کر دے گا اور تمہارے بدلہ میں ایک دوسری قوم پیدا کر دے گا ‘ کیونکہ آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز اس کے قبضہ وقدرت میں ہے اور وہ جس چیز کو چاہے پیدا کرنے اور فنا کے گھاٹ اتارنے پر قادر ہے ‘ اس آیت میں اللہ نے ان مشرکین پر غضب کا اظہار فرمایا ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذاء پہنچاتے تھے اور آپ کی دعوت کو مسترد کرتے تھے اور اس میں اپنی قدرت قاہرہ اور سلطنت غالبہ کا اظہار فرمایا ہے ‘ اس آیت کی مثل یہ آیات ہیں : 

(آیت) ” وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم “۔ (محمد : ٣٨) 

ترجمہ : اور اگر تم نے (حق سے) روگردانی کی ‘ تو اللہ تمہارے جگہ دوسری قوم لے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔ 

(آیت) ” ان یشایذھبکم ویات بخلق جدید ‘، وما ذالک علی اللہ بعزیز “۔ (ابراہیم : ٢٠۔ ١٩) 

ترجمہ : اور اگر (اللہ) چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق پیدا کر دے ‘ اور ‘ یہ اللہ پر کچھ دشوار نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 133