میری نظر میں یہ مذہبی بلیک میلنگ ہے!!!

تلخ نگاری کے لئے مجھے معاف رکھیں کہ ایسے کسی قائد،کسی غازی،کسی لیڈر کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں جو ہماری بھولی بھالی عوام کے جذبات کا استحصال کرکے صرف نذرانہ بٹورنے،خوابوں کی جنت کی خیالی سیر کرانے،دوچار نعرے لگوا کر اسلام کو پوری کائنات میں پھیلانے،ہاتھوں میں مریدوں کے ہاتھ تھام کر غوث اعظم کا ہاتھ بتانے،اپنی ایک پھونک میں سارے مسائل حل کر دینے کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں۔کیونکہ قیادت اگر گمراہ کرنے کے نظریہ پر عمل پیرا ہو،یا قیادت کے اندر لیڈنگ رول کی صلاحیت مفقود ہو تب تو قوم و ملت کا خدا ہی حافظ ہے۔ایسی صورت میں قیادت کی کرسی سے دست بردار ہوجانا ہی اخلاقی،دینی اور سماجی ذمہ داری ہے۔بقول شخصے

کرسی ہے، تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے

کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے۔

ارے صاحب! قیادت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ ہمارے جلسے میں آکر دو چار موضوع، ضعیف، مدلس روایات سنا کر ہم سے نعرے لگوا لے۔ صبح ایک مشت نذرانہ وصول کرکے اپنی راہ لے۔جی نہیں! قیادت کا مطلب ہے کہ آپ کا قائد آپ کے دکھ درد میں ساتھ ہو،آپ کی ہر مشکل گھڑی میں وہ آپ کی رہنمائی کر رہا ہو،دینی و دنیوی معاملات میں آپ کو لیڈ کرے،قوم و ملت کے ان مسائل کے حل کرنے میں کوشاں نظر آئے جو بالواسطہ یا بلا واسطہ قوم کے سود و زیاں سے جڑے ہوں۔ملت کے نفع و ضرر کا سارا خاکہ ان کے دماغ میں تیار ہو۔

ادھر ہماری ملی حماقت کا بھی جواب نہیں کہ ہم نام نہاد قائدین کو صرف جلسوں میں ڈھونڈتے ہیں یا پھر پیری مریدی کی دکان پر۔یا اپنے باپ دادا کو بنا عمل کے جنت میں داخلہ دلانے کے لئے سجائی گئی محفل میں یا پھر سیٹھوں کی تجارتی منڈی یا کوٹھی کے افتتاح کے موقع پر۔

اگر قیادت کو ڈھونڈنا ہی ہے تو ملک میں پچھلے ۱۰؍ روز کے اندر ہوئے مختلف حادثات کی جگہ پر ڈھونڈئے۔پلوامہ حملہ کے بعد آپ کو بار بار پاکستانی اور غدار وطن کہا گیا،آپ کے کشمیری برادران کو ذہنی و جسمانی ہراسمنٹ جھیلنے پڑے، میرٹھ میں ۳۰۰؍ سے زائد مسلم پریواروں کے گھر نذر آتش کر دئے گئے، پولیس کے ذریعے مختلف جگہوں پر مسلم نوجوانوں کو تھرڈ ڈگری ٹارچر کر کے موت کی نیند سلادیا گیا، بابری مسجد کا قضیہ سپریم کورٹ سے باہر کر کے “آپسی اتفاق اور مصالحت” کے نام پر کمیونل مائنڈ شری شری روی شنکر کے حوالے کر دیا گیا۔

کیا ان جگہوں میں سے کہیں بھی آپ کو قائد نظر آئے؟ کیا یہاں آپ کو قیادت کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم جس طرح کسی کے جنازے میں یا کسی مزار کے میلے میں ایک بڑی بھیڑ بن کر پہنچ جاتے ہیں اگر اس کا عشر عشیر ہی قومی مسائل کو سلجھانے کے لئے ایک جگہ آجائے تو برسوں سے دہشت گردی کے جھوٹے کیس میں پھنسائے گئے ۵۲۰۰۰؍ مسلم لڑکے جیل کے باہر آجائیں۔آپ کو پتا ہے کہ دہشت گردی کے کیس میں پھنسائے گئے ۹۹ فیصد لڑکے ناحق پھنسائے گئے ہیں۔سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے اس کے گواہ ہیں۔

پھنسائے گئے ان نوجوانوں کے والدین سے کوئی پوچھے کہ آپ کا قائد کون ہے؟ تب قیادت کا سارا بھرم ہی ٹوٹ کے بکھر جائے گا۔کیونکہ ماں باپ کے لئے ان کی اولاد ہی دنیا و عقبی ہوا کرتی ہے۔اور یہ جھوٹی، خود ساختہ اور قوم پر بالجبر تھوپی گئی قیادت کو قطعی سمجھ میں نہیں آئے گی۔

قوم کے نزرانوں سے عیش و عشرت کی ملائی کھانے والے لوگ پھر کس منہ سے خود کو قوم کا رہنما قائد کہتے، کہلواتے ہیں؟

ہر خرقۂ سالوس کے اندر ہے مہاجن

مشتاق نوری