وضو کے متعلق خبر دیجئے

حدیث نمبر :384

روایت ہے حضرت لقیط ابن صبرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیایارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وضو کے متعلق خبر دیجئے فرمایاوضوپوراکرو انگلیوں کے درمیان خلال کرو اورناک کے پانی میں مبالغہ کرو مگر جب تم روزہ دار ہو۲؎ (ابوداؤد)ترمذی اور نسائی نے روایت کی اور ابن ماجہ و دارمی نے بین الاصابع تک روایت کی۔

شرح

۱؎ آپ کانام لقیط ابن عامر ابن صبرہ ہے،کنیت ابورزین عقیلی ہیں،مشہور صحابی ہیں،طائف والوں میں آپ کا شمار ہے۔

۲؎ یعنی اعضاء پورے دھوؤ اور تین تین بار دھوؤ ہاتھوں،اورپاؤں کی انگلیوں میں خلال کرو،اگر پاؤں کی انگلیاں چپٹی ہوئی ہوں کہ بغیر خلال ان میں پانی نہ پہنچے تو خلال ضروری ہے،ورنہ سنت۔حق یہ ہے کہ ہاتھوں کی انگلیوں میں بھی خلال کرنا چاہیئے،اس خلال میں چھنگلی شرط نہیں جیسے بھی ہوجائے کافی ہے۔ناک میں پانی بانسے تک پہنچنانا ضروری ہے حتی کہ غسل میں فرض ہے اور اتنا چڑھانا کہ حلق میں اتر جائے بہتر ہے مگر روزے کی حالت میں صرف بانسے تک پہنچائے،اگرحلق میں چلا گیا تو روزہ فاسدہوجائے گا۔(اشعۃ اللمعات)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.