أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا ثُمَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا ثُمَّ ازۡدَادُوۡا كُفۡرًا لَّمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَـغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَـهۡدِيَهُمۡ سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر وہ کفر میں اور بڑھ گئے اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ کبھی انہیں راہ راست پر چلائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر وہ کفر میں اور بڑھ گئے اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ کبھی انہیں راہ راست پر چلائے گا۔ (النساء : ١٣٧) 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اللہ پر رسول پر اور آسمانی کتابوں پر ایمان برقرار رکھیں اور اس میں ثابت قدم رہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان دو قسموں کا ذکر فرما رہا ہے جو ایمان سے خارج ہیں ‘ ان میں پہلی قسم وہ ہے جو نفاق سے بظاہر ایمان لائے تھے ‘ پھر کفر کی طرف لوٹ گئے اور گمراہی میں مرگئے ‘ انہوں نے توبہ کا موقع ضائع کردیا اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا ‘ اور دوسری قسم ان منافقوں کی ہے جو ظاہری اسلام پر برقرار رہے اور درپردہ کافروں کے ہم نوا رہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 137