حدیث نمبر :387

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو ایک چلو پانی لےکر ٹھوڑی کے نیچے پہنچاتے جس سے اپنی داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے کہ میرے رب نے مجھے یوں ہی حکم دیا ہے ۱؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ داڑھی شریف کا یہ خلال چہرہ دھونے کے ساتھ تھا نہ کہ وضو کے بعد۔اور اَمْرِ رب سے مراد وحی خفی یعنی الہام ہے یا بواسطۂ جبریل۔معلوم ہوا کہ حضور پر وحی صرف قرآن ہی کی نہیں ہوئی اس کے علاوہ اوربھی ہیں۔خیال رہے کہ یہ امر وجوب کا نہیں بلکہ استحبابی ہے کیونکہ داڑھی کا خلال کسی کے ہاں فرض نہیں۔