محبتِ الہی کے تقاضے اور گناہوں کی نحوست

*🖤 محبتِ الہی کے تقاضے _ اور _گناہوں کی نحوست _* 🖤

〰〰〰〰〰〰

*آج کا انسان دنیاوی خواہشات اور مادہ پرستی میں ایسا گرفتار ہو گیا ہے کہ اس نے اپنی محبت کا قبلہ اپنے محبوب حقیقی سے پھیر کر دنیا اور اہل دنیا کی طرف درست کر لیا ہے- یہی وجہ ہے کہ آج لوگ اپنے اوپر سے انسانیت کا لبادہ اترانے اور مکمل طور پر حیوانیت و شیطانیت کے لباس میں ملبوس ہونے میں ذرا بھی حیا محسوس نہیں کرتے-*

کیونکہ….

*~شرم نبی خوف خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں*

شرم اور خوف ہو بھی کیسے ؟ کہ شرم تو انسان کو اس سے آتی ہے جسے وہ محبوب رکھتا ہے اور خوف اس سے کیا جاتا ہے جس کی رضا کو تمام مخلوق کی خوشنودی پر مقدم رکھا جائے کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسا فعل نہ سرزد ہو جائے جس کے باعث میرا محبوب ناراض ہو جائے چنانچہ واضح ہو گیا کہ آج جو لوگ مسلسل لیل و نہار گناہوں کے دریا میں غوطہ زن رہتے ہیں- اور ذرا بھی اپنے کرتوتوں پر نادم و پشیماں نہیں ہوتے – اس کی سب سے بڑی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کا دل خالق حقیقی کے عشق حقیقی سے خالی ہوتا جا رہا ہے- ایسے حالات میں ضروری ہے کہ لوگوں کے تاریک سینوں میں ان کے محبوب حقیقی کی شمعِ محبت فروزاں کرنے کی کوشش کی جائے *” بھٹکے ہوے آہو“* کو *” سوئے حرم“* لے چلنے کی سعی خیر کی جائے. چنانچہ اسی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے صوفیاء کرام کی مایہ ناز تصنیفات کے کافی مطالعہ کے بعد اس امید کے ساتھ اس موضوع پر قلم اٹھانے کی جسارت ہورہی ہے کہ ضرور اللّٰہ رب العزت علم کلام کی تعلیم و تعلّم کے صدقے ہمیں تزکیۂ نفس و قلب کی توفیق عطا فرما کر ہمارے دلوں کو اپنے عشق و محبت سے مامور فرمایے گا مگر *اپنے دل و دماغ کی تختی پر یہ ضرور نقش کر لیں کہ صرف کلامی مباحث کی بنیاد پر عشق حقیقی ہر گز حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ علم کلام کی یہ عقلی بحثیں خشک اسباق کی سی ہیں، جب تک ان تعلیمات پر دل سے عمل نہ جائے* لہٰذا میں نے اسلام میں محبت الٰہی کا جو تصور ہے اسے قرآن و احادیث اور سلف صالحین کے آثار کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے (جو مندرجہ ذیل ہیں) لیکن اس کو پڑھنے کے بعد حتی المقدور عمل پیرا ہونے کی کوشش کرنا آپ پر لازم و ضروری ہے-

*قرآن کی روشنی میں محبت الٰہی کا تصور :-*

اس بات پر امّت کا اتفاق ہے کہ اللّٰہ عزّوجل سے محبت فرض ہے اور یہ محبت تمام مخلوق سے بڑھ کر ہو جیسا کہ ارشادِ باری تعالٰی ہے :- *قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ (سورۃ توبہ آیت 24)*

اسی طرح دوسرے مقام پر مؤمن بندوں کا تعرف کراتے ہوے ارشاد فرماتا ہے :-

*وَالَّذِیْنَ آمَنُو ااَشَدُّ حُبّاً لِلّٰہِ -(سورۃ بقرہ آیت 165)*

یوں تو اللّٰہ رب العزت اپنی تمام مخلوق سے محبت کرتا ہی ہے لیکن اللّٰہ کے وہ بندے جو اپنے پروردگار سے عشق و محبت کرتے ہیں تو بالخصوص ان کے لیے اللّٰہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے –

*یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہ-*

*ترجمہ :وہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں- (سورۃ مائدہ آیت 54)*

*❤محبت الٰہی شرط ایمان ہے احادیث کی روشنی میں :-*

حضرت ابو زرین عقیلی رضی اللّٰہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ! ایمان کیا ہے ؟آپ نے فرمایا-

*اَنْ یَّکُوْنَ اللّه وَ رَسُوْلُه اَحَبَّ اِلَیْك مِمَّا سِوَاھُمَا -*

*یہ کہ اللّٰہ تعالٰی اور اس کا رسول صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم تمہارے نزدیک ان دونوں کے علاوہ (ہر چیز سے) زیادہ محبوب ہوں -*

📚 *مسند امام احمد بن حنبل جلد چہارم، صفحہ 11*

📿ایک دوسری حدیث میں ہے-

*لَا یُؤمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُونَ اللّٰه وَرَسُوْلُه اَحَبَّ اِلَیْه مِمَّا سِوَاھُمَا -*

*ترجمہ : تم میں سے کوئ شخص مومن نہیں ہو سکتا حتّٰی کہ اللّٰہ تعالٰی اور اس کا رسول اس کے نزدیک ان (دونوں) کے غیر سے زیادہ محبوب ہو جائیں -*

*📚مسند امام احمد بن حنبل جلد چہارم، صفحہ:207*

🏷 اور خود حضور صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم جو سراپا محبت الٰہی کے پیکر ہیں وہ یوں دعا مانگا کرتے تھے –

*اَلّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ حُبَّکَ وَحُبَّ مَایُقَرِّبْنِیْ اِلٰی حُبَّکَ وَاجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِن الْمَاءِالْبَارِدِ -*

*ترجمہ : یا اللّٰہ! مجھے اپنی محبت, اپنے محبین کی محبت اور اس کا (عمل) کی محبت عطا فرما جو مجھے تیرے قریب کر دے اور اپنی محبت کو میرے نزدیک ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے -📚حلیتہ الاؤلیاء جلد أول صفحہ :108*

*🕹محبت حقیقی کی حقیقت اسلاف کرام کی نظر میں :-*

📿 *سیخ رومی ہمیں حضرت ابراہیم علی نبینا و علیہ الصلٰوۃ و السلام کے قصے کے ذریعے نصیحت فرما رہے ہیں:* جس وقت انہوں نے اپنی قوم پر حجت قائم کی کہ ان کے بت عبادت کے مستحق نہیں ہیں کیوں کہ ان کی سرشت میں فنا و ہلاک ہونا ہے جیسا کہ اللّٰہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کے قول کی حکایت بیان کی کہ *لَا اُحِبُّ الاٰ فِلِیْنَ (میں غروب ہونے والے کو پسند نہیں کرتا) -*

*📿حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں:* جو شخص خالص اللّٰہ تعالٰی کی محبت کا ذائقہ حاصل کر لیتا ہے تو یہ بات اسے دنیا کی طلب سے بے خبر کر دیتی ہے اور اسے تمام انسانوں سے وحشت دلاتی ہے- *📚احیاء العلوم، حصہ چہارم، صفحہ نمبر 658*

*📿حضرت آسیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا عشق الٰہی :-*

حضرت آسیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اپنا ایمان اپنے شوہر فرعون سے چھپایا تھا، جب فرعون کو اس کا پتہ چلا تو اس نے حکم دیا کہ اسے گوناگوں عذاب دیے جائیں تاکہ یہ (حضرت آسیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ) ایمان کو چھوڑ دیں، لیکن حضرت آسیہ ثابت قدم رہیں، تب فرعون نے میخیں(کلیں) منگوائی اور ان کے جسم پر گڑوا دیا اور فرعون کہنے لگا اب بھی وقت ہے ایمان چھوڑ دو مگر حضرت آسیہ نے (عشق الٰہی سے لبریز جملہ) جواب ارشاد فرمایا : *تو میرے وجود پر قادر ہے لیکن میرا دل میرے رب کی پناہ میں ہے، اگر تو میرا ہر عضو کاٹ دے تب بھی میرا عشق بڑھتا جائے گا-*

📚 *مکاشفة القلوب، صفحہ :90*

📿 *حضرت حسن بصری رحمتہ اللّٰہ فرماتے ہیں:* جو شخص اپنے رب کو پہچان لیتا ہے وہ اس سے محبت کرتا ہے اور جو آدمی دنیا کی پہچان حاصل کر لیتا ہے وہ اس سے بے رغبت ہو جاتا ہے اور مومن کھیل کود میں نہیں پڑتا کہ غافل ہو جائے پس جب وہ فکر کرتا ہے تو غمگین ہو جاتا ہے –

*((احیاء العلوم ،جلد چہارم، ص : ٦٥٨))*

*📿حضرت سری سقطی رحمتہ اللّٰہ فرماتے ہیں:* قیامت کے دن امتوں کو ان کے انبیاے کرام کی نسبت سے پکارا جائے گا – پس کہا جاے گا:

اے امت موسٰی!

اے امت عیسٰی!

اے امت محمد (علیہم الصلوٰۃ و السلام) لیکن جو اللّٰہ تعالٰی سے محبت کرنے والے ہیں ان کو یوں پکارا جاے گا.

اے اللّٰہ کے دوستو! اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی کی طرف آو تو خوشی کے مارے ان کے دل نکلنے والے ہوں گے-

*((📚 المرجع السابق ))*

*مختصراً جو کچھ ذکر کیا گیا اہل خرد کے لیے یہی بہت ہے- کیونکہ…..*

*طوفان نوح لانے سے کیا فائدہ اے چشم؟*

*دو بوند💦 ہی بہت ہیں گر کچھ اثر کریں*

*اللّٰہ تعالٰی سے امید ہے کہ ضرور قارئیں کے قلوب میں اس تحریر کا اثر ظاہر فرماے گا کیونکہ…..*

*دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے……*

*پر نہیں پر قوت پرواز مگر رکھتی ہے……*

*🤲🏻اللہ رب العزت ہمارے دلوں کو بھی انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء عظام رحمہم اللہ کے صدقہ و طفیل اپنے عشق سے لبریز فرمائے (آمین یا رب العالمین)*

〰〰〰〰〰〰

*✍🏻شہزادئ مفتی عبد المالک مصباحی صاحب چیف ایڈیٹر رضائے مدینہ جمشید پور*

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.