سیدی اعلی حضرت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں کہ

“بعض حضرات گمان کرتے ہیں کہ ہم عیاذاًباللہ تعالی حضرت مولیٰ روحنا فداہ کے درپے توہین ہیں ، جو مرتبہ شیخین کو ان کے رتبہ سے بڑھاتے ہیں ، حالانکہ یہ ان کی محض نادانی اور مسلمان پر بلاوجہ سوئے ظن ہے مگر کریمہ (یاایھالذین امنو اجتنبو کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم) سے ابھی ان کے کان آشنا نہیں ۔عزیزو ہمیں حکم ہے کہ ہر ذی فضل کو اس کا فضل دیں جب ہم نے مرتبہ حضرت مولا رضی اللہ تعالی عنہ کا بعد ان تین حضرات کے تمام صحابہ کرام و اہل بیت عظام و کافہ مخلوق الہی جن و بشر و ملائکہ سے زیادہ جانا تو ان کا مرتبہ ایسا ہی تھا ، تو پھر توہین کیا ہوئی ۔توہین تو عیاذاًباللہ جب ہوتی کہ ان تین حضرات کے سوا اور کسی کو حضرت مولا سے افضل بتاتے جیسا تم فضل حضرات شیخین کو کس کس طرح ہلکا کرتے ہو ، اور جو اسی کا نام توہین ہے کہ جن کا فضل قرآن و حدیث سے ثابت ان سے مفضول مانے، تو جو حضرات انبیاء سابقین صلوة اللہ و سلامہ اجمعین کا مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ عالیہ سے کم مانے وہ معاذ اللہ ان کی توہین کرنے والا ٹھہرے اور توہین انبیاء قطعاً کفر ، وائے مصیبت اس کی بیچارہ کس آفت میں پڑا ، حضور کو تفضیل نہ دے تو خدا کا غضب نازل ہو اور انبیاء کی توہین قرار پاکر جہنم ابدی کا مستحق بنے ۔۔۔۔نہ رائے رفتن نہ روئے ماندن ۔

اے عزیز! اسی لئے ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں:افضلِ شیخین فضلِ خنتین سے زائد ہے بے اس کے کہ فضلِ خنتین میں کوئی قصور و فتور راہ پائے “

(مطلع القمرین ص 118 کتب خانہ امام احمد رضا لاہور)

پتہ چلا کہ مولا علی شیر خدا پر شیخین کریمین کو فضلیت دینا مولا علی کی ہرگز توہین نہیں ، اللہ تعالی ہمیں مسلک حق اہل سنت پر قائم و دائم رکھے آمین

✍۔ارسلان احمد اصمعی قادری

9/3/2019ء