أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ يَتَّخِذُوۡنَ الۡـكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ؕ اَيَبۡتَغُوۡنَ عِنۡدَهُمُ الۡعِزَّةَ فَاِنَّ الۡعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًا ۞

ترجمہ:

جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا وہ کافروں کے پاس غلبہ تلاش کرتے ہیں بیشک تمام غلبہ اللہ کے پاس ہے ،

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : منافقین کو خوش خبری دیجئے کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (النساء : ١٣٩) 

اس آیت میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں ان سے مراد منافقین ہیں اور کافروں سے مراد یہود ہیں ‘ منافقین یہود سے دوستی رکھتے تھے اور بعض ‘ بعض سے کہتے تھے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشن کامیاب نہیں ہوگا ‘ اور یہود یہ کہتے تھے کہ بالآخر غلبہ اور اقتدار ان ہی کو حاصل ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا رد کرکے فرمایا : بیشک تمام غلبہ اللہ ہی کے پاس ہے ‘ اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ تمام غلبہ اللہ ہی کے پاس ہے اور ایک اور آیت میں فرمایا ہے : 

(آیت) ” وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین “۔ (المنافقون : ٨) 

ترجمہ : غلبہ تو صرف اللہ ‘ اس کے رسول اور ایمان والوں کے لیے ہے۔ 

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ اس کے رسول اور مسلمانوں کے لیے بھی غلبہ ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل غلبہ صرف اللہ کے لیے ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ اپنی عنایت سے غلبہ عطا فرما دے اس کے لیے بھی غلبہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 139