🌹خود کو عقل کل سمجھنے کی بیماری میں مبتلا ذہنیت کے نام🌻

شوشل میڈیا کی ہنگامی دنیا میں عام طور سے کم پڑھے لکھے لوگ شامل ہیں، اور جو صاحب علم و دانش ہیں بھی تو وہ اس مقصد کی خاطر نہیں کہ وہ آپ کے سارے سوالوں کے تشفی بخش جواب دیں.

انسان موقع بموقع کھول کر دیکھنا چاہتا ہے کہ ابھی دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے، نہ یہ کہ کیا سوال آیا ہے؟

اس لیے اگر کسی سوال کے تشفی بخش جواب چاہتے ہیں تو آپ کی عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ براہ راست ماہرین فن سے رابطہ کریں. اور انھیں سے سمجھنے کی کوشش فرمائیں.

اس کے برعکس اگر آپ نے اپنے فہم کے اعتبار سے کچھ کا کچھ سمجھ رکھا ہے، اور اسی کو لے کر ہنگامہ آرائی میں رات و دن ایک کیے ہوئے ہیں اور پھر اس بات پر بضد ہیں کہ سارے لوگ اپنے اپنے کام کاج چھوڑ کر اسی میں لگے رہیں. تو پھر آپ جان لیں کہ یہ خود کو عقل کل سمجھنے کا نشہ جلدی ہی فکری پاگل پن کا شکار بنادے گا. اسی بیماری کو علمی دنیا میں *جہل مرکب* کا نام دیا گیا ہے.

اپنی صلاحیتوں سے انصاف کیجیے، اگر آپ کسی تعمیری کاموں کے لائق ہیں، تو پھر بلا تاخیر ادھر ہی توجہ فرمائیے.

ورنہ اس ہنگامہ آرائی کے بانجھ طریقہ کار سےسوائے ذلت و رسوائی کے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے.

ہاں اتنا ضرور ہوگا کہ کچھ لوگ آپ کی واہ واہی میں لائک اور شیر کا تمغہ عطا کریں گے،تو کچھ مختلف الخیال لوگ گالی بازی پر اتر آئیں گے، پھر جواب الجواب میں آپ کا حقیقی چہرہ بھی سامنے آجائے گا. بلکہ بعض سنجیدگی کا درس دینے والے تو اس شعر کے مصداق بھی بنتے نظر آئے ہیں کہ

وہ مجھ کو صبر کی تلقین کررہا تھا مگر

ذرا سی ٹھیس لگی خود بکھر گیا کیسے

ابھی بھی موقع ہے، حق و باطل واضح ہے. شذوذ کو چھوڑ کر مطرد کی جانب، مرجوح کو چھوڑ کر راجح کی طرف، گالی بازوں کی دنیا سے دعا خوانی کی جانب اور نفرت سے محبت کی طرف جلد لوٹ آئیے.

بین الاقوامی دہشت گردی کا آلہ کار بننے کے بجائے اسلام و مسلمین کی بھلائی کے لیے جو کچھ مثبت تعمیری کام کرسکتے ہیں کر گزرئیے، ورنہ یہ فرقہ وارانہ ذہنیت اور انتقامی جذبہ کہیں کا نہیں چھوڑے گا.

✍️ عدنان غوثی مصباحی

8/مارچ 2018ء