أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ فِى الۡـكِتٰبِ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَاُبِهَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَهُمۡ حَتّٰى يَخُوۡضُوۡا فِىۡ حَدِيۡثٍ غَيۡرِهٖۤ‌ ‌ ۖ اِنَّكُمۡ اِذًا مِّثۡلُهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ‌‌‌الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡكٰفِرِيۡنَ فِىۡ جَهَـنَّمَ جَمِيۡعَا ۞

ترجمہ:

اور بیشک اللہ نے تم پر کتاب میں یہ حکم نازل کیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آتیوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو حتی کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں (ورنہ) بلاشبہ تم بھی ان کی مثل قرار دیے جاؤ گے ‘ بیشک اللہ تمام منافقوں اور سب کافروں کو دوزخ میں جمع کرنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ نے تم پر کتاب میں یہ حکم نازل کیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آتیوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو حتی کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں (ورنہ) بلاشبہ تم بھی ان کی مثل قرار دیے جاؤ گے ‘۔ (النساء : ١٤٠) 

کفر اور معصیت پر راضی ہونا بھی کفر اور معصیت ہے : 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں 

منافقین ‘ علماء یہود کی مجلس میں بیٹھتے تھے اور وہ قرآن مجید کا مذاق اڑاتے تھے اور اس کی تکذیب کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی مجلس میں بیٹھنے سے منع فرما دیا۔ (الوسیط ؛ ج ٢ ص ١٢٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے منافقو ! تم بھی کفر میں ان علماء یہود کی مثل ہو ‘ اہل علم نے کہا ہے کہ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص کفر سے راضی ہو وہ بھی کافر ہے اور جو شخص کسی برے کام سے راضی ہو اور براکام کرنے والوں کے ساتھ مل جل کر رہے تو خواہ اس نے وہ برا کام نہ کیا ہو پھر بھی وہ ان کے ساتھ گناہ میں برابر کا شریک ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”(ورنہ) تم بھی ان کی مثل قرار دئیے جاؤ گے۔ “ یہ اس وقت ہے جب ان کی مجلس میں بیٹھنے والا وہاں بیٹھنے پر راضی ہو ‘ لیکن اگر وہ وہاں بیٹھنے سے بیزار ہو اور ان کی کفریہ باتوں پر غضبناک اور متنفر ہو لیکن کسی مجبوری اور خوف کی وجہ سے وہاں بیٹھا ہو تو پھر وہ ان کی مثل نہیں ہوگا ‘ اسی وجہ سے ہم یہ فرق کرتے ہیں کہ منافق مدینہ میں یہود کے پاس بیٹھتے تھے اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید کے خلاف باتیں کرتے تھے اور مذاق اڑاتے تھے اور منافق خوش ہوتے تھے اس لیے وہ بھی ان کافروں کی مثل قرار پائے ‘ اور مکہ میں جب مسلمان مشرکوں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید کے خلاف باتیں سنتے تھے تو انکے دل ان باتوں سے بیزار اور متنفر ہوتے تھے اور مسلمان مشرکوں کے غلبہ اور ظلم کی وجہ سے مجبور تھے اس لیے ان مسلمانوں کا یہ حکم نہیں ہے۔ 

ہمارے علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک شخص کسی کے پاس مسلمان ہونے کے لیے جائے اور وہ اس سے یہ کہے کہ تم کل آنا ‘ یا شام کو آنا تو وہ شخص کافر ہوجائے گا کیونکہ وہ شخص اتنی دیر کے لیے اس کے کفر پر راضی ہوگیا۔ 

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کفار کے پاس بیٹھنا ان سے ملنا جلنا اور باتیں کرنا مطلقا منع نہیں ہے ‘ ان کے پاس بیٹھنا اس وقت ممنوع ہے جب وہ اسلام کے خلاف باتیں کر رہے ہوں ‘ ہاں کفار کے ساتھ محبت کا تعلق رکھنا ممنوع ہے اور معاشی ‘ عمرانی ‘ ملکی اور بین الاقوامی معاملات میں ضرورۃ ان سے ملنا جلنا اور باتیں کرنا جائز ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ منافق تمہارا جائزہ لے رہے ہیں ‘ اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح نصیب ہو تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ‘ اور اگر کافروں کو (کامیابی سے) حصہ ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں آگئے تھے اور کیا ہم نے تم کو مسلمانوں سے نہیں بچایا تھا ‘۔ (النساء : ١٤٠) 

منافقوں کا مسلمانوں اور کافروں کو فریب دینا :

ابو سلیمان نے کہا ہے کہ یہ آیت بالخصوص منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ مقاتل نے کہا منافقین مسلمانوں کے حالات کو دیکھتے رہتے تھے ‘ اگر مسلمانوں کو فتح ہوتی تو وہ کہتے کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ سو تم ہم کو غنیمت میں سے حصہ دو ‘ اور اگر کافروں کو غلبہ ہوجاتا تو کہتے کیا ہم تمہاری رائے پر غالب نہیں آگئے تھے یا ہم تمہاری دوستی میں غالب نہیں تھے یا کیا ہم نے تمہاری مدد نہیں کی تھی ‘ یا کیا ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم دین میں تمہارے ساتھ ہیں ‘ اور کہتے کیا ہم نے تم مسلمانوں سے نہیں بچایا تھا یعنی کیا ہم نے تم ان کے رسوا کرنے سے نہیں بچایا تھا ‘ یا کیا ہم نے تم کو ان کے منصوبوں سے آگاہ نہیں کیا تھا یا کیا ہم نے تم کو اسلام میں داخل ہونے سے نہیں روکا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ اس کلام سے کافروں پر احسان جتانا چاہتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 140