یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸)

اے لوگو کھاؤ جو کچھ زمین میں (ف۲۹۶) حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

(ف296)

یہ آیت ان اشخاص کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے بجارو غیرہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی حلال فرمائی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دینا اس کی رزاقیت سے بغاوت ہے مسلم شریف کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو مال میں اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہوں وہ ان کے لئے حلال ہے اور اسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو باطل سے بے تعلق پیدا کیا پھر ان کے پاس شیاطین آئے اور انہوں نے دین سے بہکایا اور جو میں نے ان کے لئے حلال کیا تھا اس کو حرام ٹھہرایا ایک اور حدیث میں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا امیں نے یہ آیت سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تلاوت کی تو حضرت سعد بن ابی وقاص نے کھڑے ہو کر عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مستجاب الدعوۃ کردے حضور نے فرمایا: اے سعد اپنی خوراک پاک کرو مستجاب الدعوۃ ہوجاؤ گے اس ذات پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی جان ہے آدمی اپنے پیٹ میں حرام کا لقمہ ڈالتا ہے تو چالیس روز تک قبولیت سے محرومی رہتی ہے۔(تفسیر ابن کبیر)

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۱۶۹)

وہ تو تمہیں یہی حکم دے گا بدی اور بے حیائی کا اور یہ کہ اللہ پر وہ بات جوڑو جس کی تمہیں خبر نہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِـعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَاؕ-اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ(۱۷۰)

اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو (ف۲۹۷) تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت (ف۲۹۸)

(ف297)

توحید و قرآن پر ایمان لاؤ اور پاک چیزوں کو حلال جانو جنہیں اللہ نے حلال کیا۔

(ف298)

توحید و قرآن پر ایمان لاؤ اور پاک چیزوں کو حلال جانو جنہیں اللہ نے حلال کیا۔

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءًؕ-صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۱۷۱)

اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے (ف۲۹۹) بہرے گونگے اندھے تو انہیں سمجھ نہیں (ف۳۰۰)

(ف299)

یعنی جس طرح چوپائے چرنے والے کی صرف آواز ہی سنتے ہیں کلا م کے معنی نہیں سمجھتے یہی حال ان کفار کا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صدائے مبارک کو سنتے ہیں لیکن اس کے معنی دل نشین کرکے ارشادِ فیض بنیاد سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔

(ف300)

یہ اس لئے کہ وہ حق بات سن کر منتفع نہ ہوئے کلام حق ان کی زبان پر جاری نہ ہوا نصیحتوں سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ(۱۷۲)

اے ایمان والو کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو (ف۳۰۱)

(ف301)

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر واجب ہے۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِۚ-فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۷۳)

اس نے یہی تم پر حرام کیے ہیں مردار (ف۳۰۲) اور خون (ف۳۰۳) اور سور کا گوشت (ف۳۰۴)اور وہ جانور جو غیر خداکا نام لے کر ذبح کیا گیا (ف۳۰۵) تو جو ناچار ہو (ف۳۰۶) نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف302)

جو حلال جانور بغیر ذبح کئے مرجائے یا اس کو طریق شرع کے خلاف مارا گیا ہو مثلاً گلا گھونٹ کر یا لاٹھی پتھر ڈھیلے غُلّے گولی سے مار کر ہلاک کیا گیا ہو یا وہ گر کر مر گیا ہو یا کسی جانور نے سینگ سے مارا ہو یا کسی درندے نے ہلاک کیا ہو اس کو مردار کہتے ہیں اور اسی کے حکم میں داخل ہے زندہ جانور کا وہ عضو جو کاٹ لیا گیا ہو۔ مسئلہ: مردار کا کھانا حرام ہے مگر اس کا پکا ہوا چمڑا کام میں لانا اور اس کے بال سینگ ہڈی پٹھے سُم سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔(تفسیر احمدی)

(ف303)

مسئلہ خون ہر جانور کا حرام ہے اگر بہنے والا ہو دوسری آیت میں فرمایا : ” اَوْدَماً مَّسْفُوْحًاً ”

(ف304)

مسئلہ :خنزیر (سور) نجس العین ہے اس کا گوشت پوست بال ناخن وغیرہ تمام اجزاء نجس و حرام ہیں کسی کو کام میں لانا جائز نہیں چونکہ اُوپر سے کھانے کا بیان ہورہا ہے اس لئے یہاں گوشت کے ذکر پر اکتفا فرمایا گیا۔

(ف305)

مسئلہ: جس جانور پر وقت ذبح غیر خدا کا نام لیا جائے خواہ تنہا یا خدا کے نام کے ساتھ عطف سے ملا کر وہ حرام ہے مسئلہ :اور اگر نام خدا کے ساتھ غیر کا نام بغیر عطف ملایا تو مکروہ ہے

مسئلہ : اگر ذبح فقط اللہ کے نام پر کیا اور اس سے قبل یا بعد غیر کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ عقیقہ کا بکرا ولیمہ کا دنبہ یا جس کی طرف سے وہ ذبیحہ ہے اسی کا نام لیا یا جن اولیاء کے لئے ایصال ثواب منظور ہے ان کا نام لیا تو یہ جائز ہے اس میں کچھ حرج نہیں۔(تفسیر احمدی)

(ف306)

مضطروہ ہے جو حرام چیز کے کھانے پر مجبور ہو اور اس کو نہ کھانے سے خوف جان ہو خواہ تو شدت کی بھوک یا ناداری کی وجہ سے جان پر بن جائے اور کوئی حلال چیز ہاتھ نہ آئے یا کوئی شخص حرام کے کھانے پر جبر کرتا ہو اور اس سے جان کااندیشہ ہو ایسی حالت میں جان بچانے کے لئے حرام چیز کا قدر ضرورت یعنی اتنا کھالینا جائز ہے کہ خوف ہلاکت نہ رہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًاۙ-اُولٰٓىٕكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْۖ-ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۷۴)

وہ جو چھپاتے ہیں (ف۳۰۷)اللہ کی اتاری کتاب اور اس کے بدلے ذلیل قیمت لے لیتے ہیں (ف۳۰۸) وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں (ف۳۰۹) اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

(ف307)

شان نزول: یہود کے علماء ورؤساء جو امید رکھتے تھے کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے مبعوث ہوں گے جب انہوں نے دیکھا کہ سید عالم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری قوم میں سے مبعوث فرمائے گئے تو انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ لوگ توریت و انجیل میں حضور کے اوصاف دیکھ کر آپ کی فرمانبرداری کی طرف جھک پڑیں گے اور ان کے نذرانے ہدیئے تحفے تحائف سب بند ہوجائیں گے حکومت جاتی رہے گی اس خیال سے انہیں حسد پیدا ہوا اور توریت و انجیل میں جو حضور کی نعت و صفت اور آپ کے وقت نبوت کا بیان تھا انہوں نے اس کو چھپایا اس پر یہ آیہ ء کریمہ نازل ہوئی

مسئلہ : چھپانا یہ بھی ہے کہ کتاب کے مضمون پر کسی کو مطلع نہ ہونے دیا جائے نہ وہ کسی کو پڑھ کر سنایا جائے نہ دکھایا جائے اور یہ بھی چھپانا ہے کہ غلط تاویلیں کرکے معنی بدلنے کی کوشش کی جائے اور کتاب کے اصل معنی پر پردہ ڈالا جائے۔

(ف308)

یعنی دنیا کے حقیر نفع کے لئے اخفاء حق کرتے ہیں۔

(ف309)

کیونکہ یہ رشوتیں اور یہ مال حرام جو حق پوشی کے عوض انہوں نے لیا ہے انہیں آتش جہنم میں پہنچائے گا۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِۚ-فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ(۱۷۵)

وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی اور بخشش کے بدلے عذاب تو کس درجہ انہیں آگ کی سہار (برداشت)ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّؕ-وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠(۱۷۶)

یہ اس لیے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری اور بے شک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے (ف۳۱۰)وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں

(ف310)

شان نزول :یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی کہ انہوں نے توریت میں اختلاف کیا بعض نے اس کو حق کہا بعض نے غلط تاویلیں کیں بعض نے تحریفیں ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی اس صورت میں کتاب سے قرآن مراد ہے اور ان کا اختلاف یہ ہے کہ بعض ان میں سے اس کو شعر کہتے تھے بعض سحر بعض کہانت۔