أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ يَتَرَ بَّصُوۡنَ بِكُمۡ‌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَـكُمۡ فَتۡحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُـوۡۤا اَلَمۡ نَـكُنۡ مَّعَكُمۡ ‌ ۖ وَاِنۡ كَانَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نَصِيۡبٌۙ قَالُـوۡۤا اَلَمۡ نَسۡتَحۡوِذۡ عَلَيۡكُمۡ وَنَمۡنَعۡكُمۡ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ؕ فَاللّٰهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ‌ؕ وَلَنۡ يَّجۡعَلَ اللّٰهُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ سَبِيۡلًا  ۞

ترجمہ:

یہ منافق تمہارا جائزہ لے رہے ہیں ‘ اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح نصیب ہو تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ‘ اور اگر کافروں کو (کامیابی سے) حصہ ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں آگئے تھے اور کیا ہم نے تم کو مسلمانوں سے نہیں بچایا تھا ‘ تو (اے منافقو) اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، اور اللہ کافروں کے لیے مسلمانوں کے خلاف (غلبہ کی) ہرگز گز کوئی سبیل نہیں بنائے گا ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے منافقو) اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، اور اللہ کافروں کے لیے مسلمانوں کے خلاف (غلبہ کی) ہرگز گز کوئی سبیل نہیں بنائے گا۔ (النساء : ١٤١) 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ منافقوں کی سزا کو موخر کر دے گا اور اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے خلاف تلوار اٹھانے کا حکم نہیں دیا۔ 

مسلمانوں سے وعدہ غلبہ کے باوجود غلبہ کفار کی توجیہ :

حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے پاس ایک شخص آیا اور کہا مجھے یہ بتائیے کہ اللہ نے فرمایا ہے اور اللہ کافروں کے لیے مسلمانوں کے خلاف ہرگز ہرگز کوئی سبیل نہیں بنائے گا، حالانکہ وہ ہم سے قتال کرتے ہیں اور (بعض اوقات) ہم پر غالب آجاتے ہیں ‘ حضرت علی (رض) نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن کافروں کی مسلمانوں کے خلاف کوئی سبیل نہیں ہوگی۔ امام حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص ٣٠٩) 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا انجام کار مسلمان کافروں پر غالب ہوں گے۔ (زاد المسیر ج ٢ ص ١٤١) 

دلیل اور حجت کے اعتبار سے کبھی بھی کافروں کو مسلمان پر غلبہ نہیں ہوگا۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٣٣٣) 

اس آیت کی بہترین توجیہ یہ ہے کہ کافر دنیا کی جنگوں میں بھی ہرگز ہرگز مسلمانوں پر غلبہ نہیں پاسکیں گے بشرطیکہ مسلمان اللہ کے احکام کی نافرمانی نہ کریں اور کسی برائی میں مبتلا نہ ہوں اور گناہوں پر اصرار نہ کریں اور توبہ کو نہ چھوڑیں ‘ اور جب وہ برے کاموں میں ملوث ہوجائیں اور اللہ کی اطاعت کو چھوڑ دیں اور لڑائی میں کافر ان پر غالب آجائیں تو یہ صرف ان کی شامت اعمال کا نتیجہ ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر “۔ (الشوری : ٣٠) 

ترجمہ : اور جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے تو وہ تمہاری ہی شامت اعمال کا نتیجہ ہے اور تمہاری بہت سی خطاؤں کو وہ معاف کردیتا ہے۔ 

کافروں کا مسلمانوں پر غلبہ نہ ہونے سے فقہاء احناف اور شوافع کا استنباط مسائل :

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

امام شافعی نے اس آیت سے کئی مسائل مستنبط کیے ہیں۔ 

(١) کافر جب مسلمان پر غلبہ پالے اور اس کے مال کو دارالحرب میں محفوظ کرلے تب بھی وہ اس مالک مالک نہیں ہوگا ‘ اور اس کی دلیل یہ آیت ہے کہ اللہ کافروں کے لیے مسلمانوں کے خلاف ہرگز ہرگز کوئی سبیل نہیں بنائے گا۔ 

(٢) کافر کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مسلمان غلام کو خریدے۔ 

(٣) مسلمان کو ذمی کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ‘ ان تینوں مسئلوں پر یہ آیت دلیل ہے، (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٣٣٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

فقہاء احناف کے نزدیک کافر ‘ غلبہ سے مسلمان کے مال کا مالک ہوجاتا ہے۔ 

علامہ نظام الدین الشاشی حنفی اشارۃ النص کے بیان میں لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” للفقرآء المہاجرین الذین اخرجوا من دیارھم واموالھم “۔ (الحشر : ٥٩) 

ترجمہ : (یہ مال) فقراء مہاجرین کے لیے (بھی) ہیں جو اپنے گھروں اور اموال سے نکال دیئے گئے ہیں۔ 

اس آیت کا سیاق مال غنیمت کے استحقاق کے بیان میں ہے اور یہ اس مسئلہ میں نص (تصریح) ہے اور آیت کے الفاظ سے اشارۃ یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ وہ مہاجرین جو اپنے گھروں اور اموال سے نکال دیئے گئے تھے وہ اب فقیر ہوچکے ہیں (حالانکہ وہ پہلے صاحب جائداد تھے) اور اس سے اشارۃ یہ معلوم ہوا کہ کافر کو جب مسلمان کے مال پر غلبہ ہوجائے (اور وہ مال مسلمان کے ہاتھ سے نکل جائے) تو کافر اس کے مالک ہوجاتے ہیں ‘ کیونکہ اگر وہ مال بدستور مسلمان کی ملکیت میں رہتا تو اس پر قرآن مجید میں فقر کا اطلاق نہ ہوتا (اصول الشاشی ص ٢٩‘ مطبوعہ مکتبہ مکتبہ امدادیہ ملتان) 

فقہاء احناف کے نزدیک کافر ‘ مسلمان غلام کو خرید تو سکتا ہے لیکن وہ اس سے خدمت نہیں لے سکتا۔ 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

امام شافعی نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ کافر کا مسلمان غلام کو خریدنا فاسد ہے کیونکہ اگر اس کا یہ خریدنا صحیح ہو تو کافر کا مسلمان پر مالکانہ تفوق ہوگا اور یہ اس آیت خلاف ہے ‘ اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اس کا خریدنا صحیح ہے لیکن کافر کو اس سے منع کیا جائے گا کہ وہ مسلمان سے خدمت لے وہ اس سے صرف اشیاء کی خریدوفروخت کا کام لے سکتا ہے اور اس میں اس کا تفوق ظاہر نہیں ہوگا۔ (روح المعانی ج ٥ ص ١٧٥‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اسی طرح فقہاء احناف کے نزدیک ذمی کے بدلہ میں مسلمان کو قتل کردیا جائے : 

علامہ ابوالحسن احمد بن محمد قدوری متوفی ٤٢٨ ھ لکھتے ہیں : 

آزاد کو آزاد کے بدلہ میں اور آزاد کو غلام کے بدلہ میں اور مسلمان کو ذمی کے بدلہ میں قتل کردیا جائے گا۔ (مختصر القدوری ص ٢٠١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی) 

امام علی بن عمر دار قطنی متوفی ٢٨٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مسلمان کو ذمی کے بدلہ میں قتل کردیا اور فرمایا میں سب سے زیادہ عہد پورا کرنے والا ہوں۔ (سنن دار قطنی ج ٣ ص ١٣٥‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ٢٣٠) 

صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ لکھتے ہیں : 

علماء نے اس آیت سے چند مسائل مستنبط کیے ہیں۔ 

(١) کافر مسلمان کا وارث نہیں۔ 

(٢) کافر مسلمان کے مال پر استیلاء پاکر مالک نہیں ہوسکتا۔ 

(٣) کافر مسلمان کے خریدنے کا مجاز نہیں۔ rnّ (٤) ذمی کے عوض مسلمان کو قتل نہ کیا جائے گا۔ (جمل) 

کا فر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا اس میں سب کا اتفاق ہے اور موخر الذکر تینوں مسائل فقہاء شافعیہ کے نزدیک ہیں جیسا کہ خود حضرت نے جمل کا حوالہ دے کر اشارہ فرمایا ہے کیونکہ جمل ‘ علامہ سلیمان بن عمر شافعی متوفی ١٢٠٤ ھ کی تالیف ہے۔ اس آیت سے فقہاء احناف نے جو دیگر مسائل مستنبط کیے ہیں وہ یہ ہیں : 

(١) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کافر کی مسلمان پر کوئی سبیل نہیں رکھی اس لیے اگر کسی عورت کا خاوند مرتد ہوجائے اور عدت تک دوبارہ اسلام قبول نہ کرے تو وہ عورت اس کے نکاح سے نکل جائے گی ‘ اور جب تک وہ ارتداد پر رہے گا اور اسلام کی طرف رجوع نہیں کرے گا وہ اس سے الگ رہے گی۔ (روح المعانی ج ٥ ص ١٧٥) 

(٢) کافر مسلمان کے نکاح کا ولی نہیں ہوسکتا اور نہ مسلمان کا وارث ہوسکتا ہے۔ 

(٣) کافر کی مسلمان کے خلاف شہادت جائز نہیں ہے۔ 

(٤) کافر کو مسلمان کا قاضی بنانا جائز نہیں ہے۔

(٥) کافر کو مسلمان کے لشکر کا امیر بنانا جائز نہیں ہے۔ (التفسیرات الاحمدیہ ص ٣٢٣۔ ٣٢٢ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 141