اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم

حدیث جس میں مریضوں کو اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا گیا أس پہ کیے گئے اعتراض کا جواب؛

اعتراض:

“اونٹ کے پیشاب کے شفابخش اور حفظانِ صحت کے مطابق ہونے کا ذکر صحیح البخاری میں مروی ہے۔ fir susu pee lo.”

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

پہلی بات تو یہ کہ کتنی ہی ایسی ہی چیزیں ہیں جنکو طبیعت پسند نہیں کرتی لیکن اس سے دوائی وغیرہ تیار کی جاتی ہیں ،

أور اسکے علاوہ بھی اس دور فتن بعض کچھ دیگر أشیاء بھی جانوروں کے فضلات سے بنتی ہیں

جیسے كافي کاپی لاک یہ انڈونیشیا میں بننے والی معروف کافی ہے جو خاص قسم کے جانور کے فضلات سے بنائی جاتی ہے

، أور یہ دنیا کی تقریباً سب سے مہنگی كافي ہے ،

إسی طرح کافی أیوری یہ بھی فضلات سے بنتی ہے آپ گوگل پہ اسکا انٹروڈکشن پڑھ سکتے ہیں،

اور ایک عجیب بات ہماری بہت سی کریمز میں بھی مختلف جانوروں کے پیشاب استعمال کیے جاتے ہیں

آپ DHEA أور melatonin کا تعارف پڑھ لیں تو حقیقت واضح ہوجائے

یعنی ہم پتا نہیں کتنی کریمز و آئل وغیرہ استعمال کرتے ہیں جن میں أونٹ أور دیگر جانوروں کا پیشاب ہوتا ہے حتی کہ انسان کا بھی أس وقت تو ہم کوئی اعتراض نہیں کرتے کیونکہ أس سے شیطان خوش نہیں ہوتا ۔

تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اونٹ کے پیشاب میں شفا کا فرمادیا تو کونسا حرج ہوگیا حالانکہ آپ نے پیشاب عام پینے کا حکم نہیں دیا بلکہ ایک خاص عذر کے تحت پینے کا فرمایا۔

أور غور طلب بات یہ بھی ہے کہ

حضور صلی الله علیہ وسلم نے خاص انہیں اونٹوں کا پیشاب پینے کا کیوں کہا حالانکہ اونٹ تو اور بھی تھے تو موجودہ تحقیق یہ ثابت کرچکی ہے کہ بعض علاقوں کے جانوروں کے فضلات میں خاص قسم کی شفاء ہوتی ہے کیونکہ وہ موزوں آب و ہوا کی وجہ سے مختلف ڈیفنڈ سیلز رکھتے ہیں.

لیکن یہ پیشاب پینے کا ضرورت کے وقت کہا گیا نہ کہ عام حالات میں جیسے قرآن نے مردہ اور خون کے استعمال کو ضرورت کے وقت استعمال کرنے کو جائز کہا تو کیا قرآن پہ بھی اعتراض ہوگا۔

پھر یہ قصہ کچھ لوگوں کے ساتھ خاص ہے لہذا قصۃ عین کو عام حالات میں استدلال کے لیے حجت نہیں پکڑ سکتے۔

اور بہت سی موجودہ میڈیسنز بھی جانور کے فضلات سے بنائی جاتی ہیں۔

مزید TNF کا انٹروڈکشن پڑھیں JBC پہ یعنی جنرل آف بائیولوجیکل کیمسٹری تو حقیقت واضح ہو جائے گی

لہذا فضلات جانور کو اشد ضرورت کے وقت شفاء کے لیے استعمال کرنا قرآن و حدیث کی رو سے جائز ہے۔۔

بشرطیکہ اس کے علاوہ کسی اور دوائی سے علاج ممکن نہ ہو۔

سو بخاری کی یہ حدیث حضور صلی الله علیہ وسلم کی نبوت پر دلیل ہے کہ جب میڈیکل سرچ بھی نہ تھی اس وقت بھی حضور صلی الله علیہ وسلم کو علم ہوگیا کہ فلاں انٹوں کے پیشاب میں فلاں لوگوں کے لیے شفاء ہے۔

لہذا دوست !

حدیث پہ اعتراض کرنے سے پہلے کچھ سوچ لیا کریں کہ جن کے کلام پہ آپ اعتراض کررہے ہیں وہ کلام أس ذات کا ہے جس پہ وحی نازل ہوتی رہی تو کوئی شئے حقیقت کے خلاف کیسے ہوسکتی ہے؟

یہ سوچ إیمان میں إضافہ کرتی ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.