اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَهُوَ خَادِعُوْهُمۡ‌ ۚ وَاِذَا قَامُوۡۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوۡا كُسَالٰى ۙ يُرَآءُوۡنَ النَّاسَ وَلَا يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 142

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَهُوَ خَادِعُوْهُمۡ‌ ۚ وَاِذَا قَامُوۡۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوۡا كُسَالٰى ۙ يُرَآءُوۡنَ النَّاسَ وَلَا يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

بیشک منافق (اپنے زعم میں) اللہ کو دھوکا دے رہے ہیں درآں حالیکہ اللہ ان کو دھوکے کی سزا دینے والا ہے اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک منافق (اپنے زعم میں) اللہ کو دھوکا دے رہے ہیں درآں حالیکہ اللہ ان کو دھوکے کی سزا دینے والا ہے (النساء : ١٤٢) 

منافقوں کے دھوکے کا معنی ‘ ان کے دھوکے کی سزا ‘ اور شان نزول : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی علامتیں اور ان کے خواص بیان فرمائے تھے ‘ اس آیت میں ان کا تتمہ بیان فرمایا ہے۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی ‘ ابو عامر بن النعمان اور دیگر منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہے، جیسے سورة بقرہ میں ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی (آیت) ” یخادعون اللہ والذین امنوا وما یخدعون الاانفسھم “۔ (البقرہ : ٩) 

حسن نے بیان کیا ہے کہ مومن اور منافق دونوں پر ایک نور ڈالا جائے گا جس میں چلتے ہوئے وہ پل صراط تک پہنچیں گے ‘ پل صراط پر پہنچنے کے بعد منافقین کا نور بجھا دیا جائے گا اور مومن اپنے نور کی وجہ سے پل صراط پر چلتے رہیں گے اس وقت منافقین مومنوں سے کہیں گے :

(آیت) ” یوم یقول المنفقون والمنفقت للذین امنوا انظرونا نقتبس من نورکم قیل ارجعوا ورآء کم فالتمسوا نورا فضرب بینھم بسورلہ باب باطنہ فیہ الرحمۃ وظاہرہ من قبلہ العذاب، ینادونھم الم نکن معکم قالوا بلی ولکنکم فتنتم انفسکم وتربصتم وارتبتم وغرتکم الامانی حتی جآء امر اللہ وغرکم باللہ الغرور “۔ (الحدید : ١٤۔ ١٣) 

ترجمہ : جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے یہ کہیں گے ‘ ہمیں دیکھو ہم تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں ‘ ان سے کہا جائے گا اپنے پیچھے واپس جاؤ پھر وہاں کوئی نور تلاش کرو ‘ پس ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی ‘ جس کی اندرونی جانب کے دروازہ میں رحمت ہوگی اور بیرونی جانب کے دروازہ میں عذاب ہوگا، منافق مسلمانوں کو پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں لیکن تم نے خود کو (نفاق کے) فتنہ میں ڈال دیا ‘ اور تم (مسلمانوں کی مصیبتوں کے) منتظر رہے ‘ اور تم (اسلام کے متعلق) شک کرتے رہے اور تمہاری جھوٹی آرزوؤں نے تم کو دھوکے میں ڈالے رکھا ‘ حتی کہ اللہ کا حکم آگیا اور (شیطان کے) دھوکے نے تم کو اللہ کے متعلق دھوکے میں رکھا۔ 

حسن نے کہا اللہ تعالیٰ جو ان کو دھوکے کی سزا دے گا ‘ اس کا بھی یہی معنی ہے ‘ ابن جریج نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے (جامع البیان ج ٤ ص ٤٤٩) 

خداع کے معنی ہیں کسی شخص کو کسی شے کی حقیقت کے خلاف وہم میں ڈالنا ‘ اللہ کو ان کے دھوکا دینے کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے باطن میں جو کفر چھپایا ہوا تھا اس کے خلاف زبان سے اسلام کو ظاہر کرتے تھے ‘ تاکہ اس نفاق کے ذریعہ وہ دنیا میں اپنی جان اور مال کو محفوظ کرلیں ‘ اور جو فوائد مسلمانوں کو حاصل ہوتے ہیں مثلا صدقات اور مال غنیمت اس میں بھی حصہ دار بن جائیں۔ 

اکثر منافقین اللہ کو مانتے تھے ‘ اب یہ سوال ہوگا کہ وہ اپنے زعم میں اللہ کو کس طرح دھوکا دیتے تھے ‘ کیونکہ ان کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ اللہ سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے منکر تھے اور وہ اپنے زعم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا دیتا تھے اور اللہ نے یہ فرما کر کہ وہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں یہ ظاہر فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا دینا ‘ اللہ کو دھوکا دینا ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کوئی معاملہ کرنا بعینہ اللہ کے ساتھ معاملہ کرنا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کے دھوکے کی یہ سزا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے نفاق پر مطلع فرما دیا اور آپ نے مسلمانوں کو اس کی خبر دے دی ان کا راز فاش ہوگیا اور وہ دنیا میں رسول ہوگئے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کو الگ سزا دے گا۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرتے ہیں۔ (النساء : ١٤٢) 

اس آیت میں منافقوں کی تین علامتیں ذکر فرمائی ہیں سستی سے نماز پڑھنا ‘ لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز پڑھنا اور اللہ کا ذکر بہت کم کرنا ‘ سستی اور کم ذکر کرنے پر حسب ذیل احادیث میں دلیل ہے : 

گراں باری اور سستی سے نماز پڑھنے کے متعلق احادیث : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

علاء بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں کہ وہ بصرہ میں حضرت انس بن مالک (رض) کے گھر گئے جب وہ ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوگئے تھے ‘ ان کا گھر مسجد کے ساتھ تھا ‘ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے پوچھا کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے ہم نے کہا ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ہیں انہوں نے کہا عصر کی نماز پڑھو ‘ ہم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی ‘ جب ہم فارغ ہوئے تو حضرت انس (رض) نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اتنی تاخیر کرنا منافق کی نماز ہے ‘ وہ بیٹھ کر سورج کو دیکھتا رہتا ہے حتی کہ جس وقت سورج دو سینگھوں کے درمیان ہوتا ہے تو کھڑا ہو کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور اس میں اللہ کا ذکر بہت کم کرتا ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٢٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٣‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٠ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٥١٠) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عشاء اور فجر کی نماز منافقوں پر سب سے بھاری ہے ‘ اور فرمایا کاش ان کو معلوم ہوتا کہ عشاء اور فجر کی نماز میں کتنا اجر ہے۔ (صحیح البخاری ‘ : کتاب مواقیت الصلوۃ ‘ باب : ٢١‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٥١) 

ریاکاری سے عبادت کرنے کے متعلق احادیث : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک ریا شرک ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٥٤٠ )

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت محمود بن ولید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اپنی امت پر جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ شرک اصغر ہے ‘ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! شرک اصغر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ریا ‘ قیامت کے دن جب اللہ عزوجل لوگوں کو انکے اعمال کی جزا دے گا تو فرمائے گا : جاؤ انہی لوگوں کے پاس جن کے لیے تم ریاکاری کرتے تھے ‘ دیکھو ان سے تمہیں کوئی جزا ملتی ہے۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٤٢٨‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٣٩٨ ھ) 

حضرت شداد بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے اپنی امت پر شرک اور شہوت خفیہ کا خوف ہے ‘ میں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی ‘ آپ نے فرمایا ہاں ‘ لیکن وہ سورج ‘ چاند ‘ پتھروں اور بتوں کی عبادت نہیں کرے گی ‘ لیکن وہ اپنے اعمال میں ریا کرے گی ‘ اور شہوت خفیہ یہ ہے کہ ایک شخص روزہ رکھے ‘ پھر کسی نفسانی خواہش کی بناء پر وہ روزہ ترک کردے۔ (مسند احمد ج ٤ ص ١٢٤‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٣٩٨ ھ) 

حضرت بشیر بن عقربہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے محض لوگوں کے دکھانے اور سنانے کے لیے خطبہ دیا اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن ریا اور سمعہ (دکھانے اور سنانے) کے مقام پر کھڑا کرے گا۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٥٠٠‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٣٩٨ ھ) 

اللہ کا ذکر کم کرنے کا معنی : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ منافق صرف دکھانے کے لیے نماز پڑھتے ہیں اور صرف سنانے کے لیے نیک کام کرتے ہیں۔ ان کے پاس جب دوسرے لوگ ہوتے ہیں تو وہ نماز پڑھتے ہیں اور جب کوئی نہیں ہوتا تو وہ نماز نہیں پڑھتے اور یہ جو فرمایا ہے کہ وہ اللہ کا ذکر بہت کم کرتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ نماز میں جو تکبیرات بلند آواز سے پڑھی جاتی ہیں ان کو پڑھتے ہیں اور نماز میں اللہ کا جو ذکر پست آواز سے کیا جاتا ہے اس میں خاموش رہتے ہیں۔ مثلا قرات اور تسبیحات وغیرہ کو نہیں پڑھتے یا معنی یہ ہے کہ نماز کے علاوہ وہ اور کسی وقت میں اللہ کا ذکر نہیں کرتے ‘ آج کل ہم اکثر لوگوں کا یہی حال دیکھتے ہیں وہ اکثر اوقات گپ شب ‘ دوسروں کی غیبت ‘ کہانیوں ‘ لطیفوں اور کاروباری باتوں میں گزار دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تقدیس تسبیح و تہلیل ‘ توبہ استغفار اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود شریف پڑھنے کا ذکر ان کی زبانوں پر نہیں آتا ‘ یا بہت کم آتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ اس (کفر اور ایمان) کے درمیان متزلزل ہیں ‘ نہ ان (کافروں) کی طرف ہیں نہ ان (مسلمانوں) کی طرف ہیں ‘ اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو آپ اس کے لیے کوئی راہ نہ پائیں گے۔ (النساء : ١٤٢) 

منافق کا مذبذب ہونا : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافق کو مذبذب فرمایا ہے ‘ مذبذب اس شخص کو کہتے ہیں جو دو چیزوں یا دو کاموں کے درمیان مترود ہو ‘ تذبذب کا اصل معنی تحیر اور اضطراب ہے ‘ کیونکہ منافق اپنے دین میں متحیر ہوتا ہے ‘ اور وہ کسی صحیح اعتقاد کی طرف رجوع نہیں کرتا ‘ منافقین نہ مشرکین کی طرح صراحۃ شرک کرتے تھے اور نہ مومنوں کی طرح مخلص تھے ‘ وہ اس کے درمیان مذبذب تھے اس کا معنی ہے وہ اسلام اور کفر کے درمیان مذبذب ہیں۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان حیران ہو کبھی اس ریوڑ کی طرف کی طرف جاتی ہو اور کبھی اس ریوڑ کی طرف۔ 

(صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٨٤‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٥٢‘ مسنداحمد ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٧٩‘ ٥٧٩٤) 

ہدایت کے دو معنی اور ان کے محمل : 

” جس کو اللہ گمراہ کردے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ جس کے کفر اور خباثت کی وجہ سے اللہ اس سے ہدایت کی استعداد اور صلاحیت کو سلب کرلے آپ اس کو ہدایت یافتہ نہیں بنا سکتے ‘ یہاں آپ سے ہدایت کے جس معنی کی نفی کی ہے اس کا معنی ہے کسی شخص کو ہدایت یافتہ اور مومن بنانا اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کی شان ہے ‘ اور ہدایت کا دوسرا معنی ہے سیدھا راستہ دکھانا ‘ سو اس معنی میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بھی ہدایت دیتے تھے اور دیگر کافروں ‘ منافقوں کو بھی بلکہ تمام مخلوق کو ہدایت دیتے تھے اور اس معنی میں ہدایت دینا آپ کا منصب ہے ‘ اور قرآن مجید میں جہاں بھی آپ سے ہدایت کی نفی کی گئی ہے وہاں ہدایت کا معنی ہدایت یافتہ اور مومن بنانا ہے یعنی سیدھے راستہ پر چلانا اور جہاں آپ کی طرف ہدایت کی نسبت کی گئی ہے وہاں ہدایت سے مراد ہے سیدھا راستہ دکھانا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 142

One comment

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.