عجیب و غریب نشانی

حکایت نمبر172: عجیب و غریب نشانی

حضرت سیدنا حاتمِ اَصم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم فرماتے ہیں، ایک مرتبہ میری ایک راہب سے ملاقات ہوئی ۔میں نے اس سے کہا :”تجھے اس ذات کی قسم جس کی تُو عبادت کرتاہے! اپنے معبود سے سوال کر کہ وہ ہمیں کوئی عجیب وغریب نشانی دکھائے۔ ” میری یہ بات سن کرراہب نے کہا : ”تم کیا نشانی دیکھنا چاہتے ہو؟”میں نے کہا:” تم جس کی عبادت کرتے ہو اس سے دعا کرو کہ وہ سامنے خالی زمین میں تازہ کھجوروں سے لدا ہواایک درخت اُگادے۔”

وہ راہب اپنے گرجا میں داخل ہوا اورکچھ دیر بعد باہر آکر کہنے لگا :”وہ دیکھو! تمہارے سامنے کیا ہے ؟” جب میں نے سامنے کی طرف دیکھا تو وہاں ایک کھجور کا درخت نظر آیا جس میں تازہ کھجوریں لگی ہوئی تھیں۔” پھر اس راہب نے مجھ سے کہا: ”اے دینِ محمدی کو ماننے والے! اب تُواپنے معبود سے دعا کر کہ وہ ہمارے لئے کوئی عجیب وغریب نشانی ظاہر کرے ۔” میں نے کہا : ”اے راہب! بتا تُو کس طرح کی نشانی دیکھنا چاہتاہے؟ ”اس نے کہا: ”تم اپنے معبود سے دعا کرو کہ وہ اس کھجور کے گرد سبزہ اُگادے اورہر طرف ہریالی ہی ہریالی کر دے ۔ ”راہب کی یہ بات سن کر میں ایک طرف گیااوراپنے مالک حقیقی عزوجل کی بارگاہ میں سربسجود ہو کراس طرح دعا کی :”اے میرے رحیم وکریم پروردگارعزوجل !تُو خوب جانتاہے کہ میں تجھ سے جو دعا مانگ رہا ہوں تیرے دین کی سربلندی کے لئے مانگ رہا ہوں۔ اے میرے مولیٰ عزوجل!میری دعا قبول فرما۔” 

جب میں نے سجدے سے سر اُٹھا یاتودیکھاکہ وہ زمین جو ابھی کچھ دیرپہلے ویران تھی اوراس پر سبزہ نام کو نہ تھا،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ !اب وہ سرسبز وشاداب ہوچکی تھی ،ہر طرف ہریالی ہی ہریالی تھی اور کھجور کے چاروں طرف بہترین قسم کے پودے اُگے ہوئے تھے ۔ 

پھرمیں نے اس راہب سے پوچھا :”اے راہب! تجھے تیرے معبود کی قسم! سچ سچ بتا کہ تُو نے کن الفاظ کے ذریعے دعا کی اور کس سے دعا کی ؟”اس راہب نے جواب دیا: ”تمہارے یہاں آنے سے پہلے ہی اسلام کی محبت میرے دل میں پیدا ہو گئی تھی ۔ پھر جب تم نے نشانی دکھانے کے لئے کہا تو میں گرجا میں گیا اور تمہارے قبلہ (یعنی خانہ کعبہ)کی طرف سجدہ کیا پھر اس طرح دعا کی: ”اے میرے پروردگارعزوجل !جس دین محمدی کی محبت تُو نے میرے دل میں ڈالی ہے اگر وہ تیرے نزدیک حق وسچ اور مقبول ہے تو مجھے یہ نشانی دکھادے کہ تازہ پھلوں سے لدا ہواکھجور کا درخت اُگ آئے ۔” میں نے ان ہی الفاظ کے ساتھ دعا مانگی تھی ۔

حضرت سیدنا حاتمِ اَصم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے اس راہب سے کہا :”ہمیں یہ دونوں نشانیاں ایک ہی ذات نے دکھائیں ہیں جو واقعی معبود حقیقی ہے ۔”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ باتیں سن کر اس راہب نے کہا:”حضور ! میں نصرانیت سے توبہ کرتاہوں اورسچے دل سے مسلمان ہوتا ہوں،پھر اس نے کلمہ شہادت پڑھا: ”اَشْھَدُاَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔”

؎ بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں شمع وہ لے کر آیا ہمارا نبی ا 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.