نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کا قتلِ عام

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کا قتلِ عام ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر :محمد اسمٰعیل بدایونی

آج نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے قتلِ عام پر مغربی میڈیا کی قاتل کو نفسیاتی مریض قرار دینے پر مجھے ایک کہانی یاد آگئی ۔

یہودی سوداگر مارکیٹ کے مصروف چوراہے پر اپنی دکان لگائے بیٹھا ہے ۔۔۔۔۔دکان پر رش لگا ہوا ہے ایک مسلمان اس کی دکان پر پہنچا اور کہا :مجھے 40 کلو شکر دے دو

یہودی نے 40 کلو شکر کا دیانت داری سے وزن کیا اور چینی کی بوری ترازو سے اٹھا کر نیچے رکھ دی اور دوسرے سامان کو تو لنے لگا اچانک مسلمان گاہک نے دیکھا کہ یہودی کا بیٹا اس چالیس کلو شکر کی بوری میں سے شکر نکال کر واپس اپنی دکان میں موجود شکر کی بوری میں ڈال رہا تھا۔۔۔۔

مسلمان نے یہودی سودا گر سے شکایت کی

بھئی یہ دیکھو تمہارا بیٹا میرے وزن کیے ہوئے سامان میں سے شکر نکال کر واپس تمہاری دکان میں موجود بوری میں ڈال رہا ہے تو یہودی سودا گر نے کہا یہ نفسیاتی مریض ہے ۔

مسلمان خریدار نے پوچھا: تو پھر یہ تمہاری بوری میں سے شکر نکال کر میری بوری میں کیوں نہیں ڈال رہا تو یہودی نے کہا اب اتنا بھی نفسیاتی نہیں ہے ۔

نیوزی لینڈ میں پچاس مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے دہشت گرد کو مغربی میڈیا نے نفسیاتی مریض قرار دے دیا ۔۔۔۔

سوال ہوا پھر یہ نفسیاتی مریض کسی گرجا گھر اور کسی یہودی عبادت گاہ کو نقصان کیوں نہیں پہنچاتے ؟

جواب ملا اب اتنے بھی نفسیاتی نہیں ہیں ۔۔۔۔۔

اہل ِ مغرب کی اسلام دشمنی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ۔۔۔۔اسلام کی مقبولیت سے خائف لبرل و سیکولر اور سرمایہ دار یہودو ہنود اسلام دشمنی میں صف آراء ہیں ۔

اسلامی ممالک کیا کریں ؟

جرمِ ضعیفی کی سزا کب تک بھگتے رہیں ۔۔۔۔؟

ساقی کو ثرﷺ سے ہمارارشتہ مضبوط کیوں نہیں ہو رہا ؟

یہ مسلمانوں کو سوچنا چاہیے انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی ۔۔۔۔۔ ۔

نیوزی لینڈ کی مسجد میں مسلما نوں کے قتل عام کے ڈانڈے یوروپ کی تحریکِ استشراق سے جا ملتے ہیں ۔۔۔تحریک استشراق کے فکری دہشت گردوں نے اسلام کی مقبولیت سے خائف ہو کر اسلام و پیغمبرِ اسلام ﷺکے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا ۔۔۔۔ علمی چولا پہن کر حقائق مسخ کرنے کا گھناؤنا عمل یوروپ میں اب بھی جاری و ساری ہے ۔۔۔۔۔

آج نیوزی لینڈ میں میرے خاندان کے پچاس گھرانے شدید غم اور دکھ میں مبتلا ہیں ۔۔۔۔۔میرے بھتیجے اور بھتیجیاں یتیم ہو گئے اور وہاں موجود کچھ میری بہنیں بیوہ ہو گئیں اور بہت سے بزرگوں کی لاٹھی اس صلیبی دہشت گر د نے سفاکی سے تو ڑ دی ۔

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا

یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

میرے بس چند سوالات :

جارج بش کی صلیبی دہشت گردی کی آگ کو ایندھن فراہم کرنے والے مستشرقین کسی قلمی دہشت گردی کی زد میں آئیں گے ؟

کیا اسلامی ممالک کے سربراہ اس دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے یہ مطالبہ کریں گے کہ یوروپ کے اسکولز کے نصاب سے اسلام دشمنی کے لٹریچر کو ختم کیا جائے گا ؟

کیا ان کے اساتذہ کو اسلام سے متعلق حقیقی تعلیم فراہم کی جائے گی ؟

کیا ہم مسلمان اپنے گفتار کے ساتھ عمل و کردار سے اسلام کی تبلیغ کا فریضہ مسلم و غیر مسلم ممالک میں یکساں انجام دے سکیں گے ؟

کیا ان تمام گیمز بنانے والے سوفٹ وئیر انجینئیرز کی کونسلنگ کی جا سکے گی جو اس طرح کی د ہشت گردی کو پروان چڑھنے کے لیے ایسے گیمز بناتے ہیں جہاں مساجد میں دہشت گردی اور قرآن مجید کی بے حرمتی کی جاتی ہے ؟

سوچیے گا ضرور !!!!!!!یہ حادثہ ہے یا مربوط منصوبہ بندی ؟

ڈاکٹر اسمٰعیل بدایونی صاحب کی کتب صدائے درویش ۔ استشراقی فریب ۔ فکری یلغار اور صدائے قلم مکتبہ الغنی پبلشرز ہول سیل کراچی سے حاصل کیجیے اور گھر بیٹھے بذریعہ ڈاک فری ہوم ڈیلیوری کے لیے ابھی رابطہ کیجیے۔ 03052578627

https://www.facebook.com/IslamicResearchSociety/

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.