😡آہ ! سانحہ کرائس چرچ 😡

 از قلم شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی

عمر أبو ريشة شامی شاعر ہیں ان کے ایک ” نوحہ ” بعنوان أمتي ( او میری قوم ) کے چند اشعار اور ان کی اردو ترجمانی پیش خدمت ہے ۔

فقیر خالد محمود یہ خیال رکھتا ہے کہ شاعر نے اسباب و علاج دونوں ہی بیان کیئے ہیں ۔

یہ الگ بات ہے کہ اپنے اللہ تعالی اور رسول مقبول کی تعلیمات، ہدایات کو تقریبا پس پشت ڈالے رکھنے کی وجہ سے دشمنوں کے لیئے تر نوالہ ثابت امت ، حالات کے بہترین عکاس اس قصیدہ کی ادبی اور فنی خوبیوں سے آراستہ حقیقت نگاری پر ہی سر دھنتی رہے گی اور اسباق شاید زینت قرطاس و بیان ہی رہیں گے ۔

مطلع ہے 

أمتي هل لك بين الأمم 

منبر للسيف أو للقلم

میری قوم مجھے ذرا یہ تو بتا کہ ساری اقوام عالم میں تیرا بھی کوئی بلند مرتبہ و مقام ہے وہ میدان ہائے جنگ میں کام آنے والے اسلحہ کی بناء پر ہو یا زبان و ادب کی بناء پر ۔

( چلو اسلحہ کی وجہ سے تیرا رعب و دبدبہ نہ سہی ، اگر تیرے قلم کو ہی کوئی وقعت نصیب ہے ، تیرے کہے کی کوئی شنوائی ہے ، تیرے لکھے پر کوئی کارروائی ہے تو وہ ہی بتا دے ۔ )

شعر نمبر 17

أمتي كم صنم مجدته 

لم يكن يحمل طهر الصنم

اے میری قوم ( غیر مسلم قوتوں، بیرونی آقاؤں ، غیر دینی نظاموں کے ) کتنے ایسے بتوں کو تو نے شان و شوکت کے ساتھ سر چڑھائے رکھا ان کو پروٹوکول کے اعلی سنگھاسن پر بٹھائے رکھا جو ایک بت کی مادی و اخلاقی طہارت بھی اپنے اندر نہ رکھتے تھے ۔

شعر نمبر 18 

لايلام الذئب في عدوانه

إن يك الراعي عدوَّ الغنم ۔

اگر محافظ ہی ریوڑ کا دشمن ہو جائے اور بھیڑیا حدود کی پامالی کرے ، زیادتی و تعدی کرے تو اس بھیڑیئے کو ملامت نہیں کیا جاتا کہ اس کی تو جبلت ہی یہی ہے ۔ وہ جو کر رہا ہے اپنی فطرت کے مطابق کر رہا ہے اور لعنتیں کرنے سے فطرتیں تو نہیں بدلتیں

یعنی محافظوں (حکومتوں ، مقتدرہ قوتوں اور دفاعی اداروں ) کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی یا پھر ان سب کو بدلنا ہو گا ۔

تو اے قوم ۔ 

شعر 19

فاحبسي الشكوى فلولاك لما

كان في الحكم عبيدُ الدرهم

اپنے یہ شکوے شکایتیں بند کر دو ۔ تم اگر ایسی نہ ہوتی تو ہیئت اقتدار پیسوں کے پجاریوں کے پاس نہ ہوتی ۔

فقیر شعر نمبر 18 کو اس معنی میں بھی لیتا ہے کہ اگر استاد اپنے شاگرد کا ، والد اپنی اولاد کا ، میاں بیوی ایک دوسرے کے، پیر اپنے مرید کا ، امام اپنے مقتدیوں کا ، مہتمم اپنے ادارہ کا ہی محافظ و مخلص و خیر خواہ نہیں تو دوسرے فریق سے شکوہ کاہے کا ۔ قابل اصلاح تو اپنا انداز زیست اور طرز عمل ہے ۔