سر و کانوں کا مسح

حدیث نمبر :392

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر و کانوں کا مسح فرماتے تھے اندرونی کانوں کا کلمہ کی انگلیوں سے ۱؎ بیرونی کا اپنے انگوٹھوں سے۲؎(نسائی)

شرح

۱؎ کلمہ کی انگلی کہ کفار عرب سبابہ کہتے تھے،یعنی گالیاں دینے والی انگلی،چونکہ گالی گلوچ کرتے وقت اس انگلی سے ا شارہ کرتے جاتے تھے اس لیے اس کا یہ نام رکھا تھا۔اسلام نے اس کا نام سباحہ یا مسبحہ رکھا یعنی تسبیح پڑھنے والی انگلی،اور اردو زبان میں اسے کلمے کی انگلی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ انگلی تسبیح اور کلمے میں استعمال ہوتی ہے کہ پہلے اسی پر شمار کی جاتی ہے۔

۲؎ یعنی سر کے مسح کے بعد اسی پانی سے نہ کہ دوسرے پانی سے،لہذا یہ حدیث حنفیوں کی دلیل ہے۔امام شافعی کے ہاں کان کا اندرونی حصہ منہ کے ساتھ دھویا جاتا ہے اور بیرونی حصے کاسر کے ساتھ مسح ہوتا ہے۔یہ حدیث ان کے خلاف ہے،نیز ایک ہی عضو کادھلنا اورمسح خلاف قانون ہے۔غسل و مسح جمع نہیں ہوناچاہیئے۔بعض آئمہ کے نزدیک کان کے مسح کے لیے الگ پانی لیتے ہیں یہ حدیث ان کے بھی خلاف ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.