سوالات قبر سریانی زبان میں ہوں گے

سوالات قبر سریانی زبان میں ہوں گے

امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ تعالی سے عرض کیا گیا کہ مرنے کے وقت سے زبان عربی ہو جاتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اس بارے میں تو کچھ حدیث میں ارشاد نہیں ہوا- حضرت سیدی عبد العزيز دباغ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ قبر میں سریانی زبان میں سوال ہوگا اور کچھ لفظ بھی بتائے ہیں-

(ملفوظات اعلی حضرت، ح4، ص447)

شیخ احمد بن مبارک (م1155ھ) کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے شیخ، حضرت علامہ سید عبد العزيز دباغ رحمہ اللہ تعالی سے) دریافت کیا کہ قبر میں سوالات سریانی زبان میں ہوں گے؟ کیوں کہ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کی ایک نظم میں یہ شعر موجود ہے:

ومن غریب ما تری العینان

ان سوال القبر بالسریانی

“انسان کے لیے حیرانگی کی بات یہ ہے کہ قبر میں سریانی زبان میں میت سے سوال و جواب ہوں گے”

اس نظم کے شارح بیان کرتے ہیں کہ امام سیوطی نے اپنی تصنیف “شرح الصدور” میں شیخ الاسلام علم الدین البلقینی کے فتاوی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ قبر میں سریانی زبان میں میت سے سوال جواب ہوگا- امام سیوطی فرماتے ہیں کہ تاہم مجھے کسی حدیث میں یہ بات نہیں مل سکی-

علامہ ابن حجر عسقلانی سے یہی سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ حدیث کے الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید قبر میں سوال جواب عربی زبان میں ہوگا تاہم یہ ممکن ہے کہ ہر شخص سے اس کی مخصوص زبان میں سوال جواب کیا جائے گا اور یہ بات زیادہ معقول محسوس ہوتی ہے-

شیخ سید عبد العزيز دباغ رحمہ اللہ تعالی (م1131ھ) نے جواب میں فرمایا کہ قبر میں سوال جواب سریانی زبان میں ہوگا کیوں کہ فرشتے اور ارواح یہی زبان بولتے ہیں- سوال فرشتے کریں گے اور جواب روح دے گی کیوں کہ جب روح جسم سے نکل جائے تو اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتی ہے- اللہ تعالی جب کسی ولی کو “فتح کبیر” (کا مرتبہ) عطا فرما دے تو وہ باقاعدہ سیکھے بغیر ہی سریانی زبان میں گفتگو کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے کیوں کہ اس وقت اس پر روح کا حکم غالب ہو جاتا ہے، اس لیے (روح کے غلبے کے باعث ہی) مردے کو سریانی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کوئی الجھن درپیش نہیں ہوگی-

شیخ سید عبد العزيز دباغ رحمہ اللہ تعالی سریانی زبان کے متعلق تفصیلی کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ارواح (روحوں) کی زبان سریانی ہے- یہ زبان لفظی اعتبار سے بہت مختصر اور معنوی اعتبار سے انتہائی وسیع زبان ہے- دوسری کوئی زبان اس خوبی میں اس کے ہم پلہ نہیں ہو سکتی-

شیخ احمد بن مبارک کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: کیا عربی زبان بھی؟

آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا: عربی زبان بھی اس کے ہم پلہ نہیں ہو سکتی البتہ قرآن میں موجود الفاظ کا حکم مختلف ہے- اگر عربی زبان میں سریانی کے معانی کو اکٹھا کر لیا جائے اور الفاظ عربی زبان کے ہوں تو یہ سریانی سے بھی زیادہ شیریں اور خوب صورت زبان ہوگی-

سریانی کے سوا، دنیا کی تمام زبانوں میں اطناب (پھیلاؤ) پایا جاتا ہے- سریانی زبان کے علاوہ ہر زبان میں الفاظ کی ترکیب کے ذریعے جملہ بنتا ہے لیکن سریانی میں حروف کے ذریعے جملہ بنتا ہے- یہی وجہ ہے کہ سریانی زبان کے حروف تہجی کا ایک مخصوص معنی ہے- جب ایک حرف کو دوسرے حرف سے ملا دیا جائے تو جملہ مکمل ہو جاتا ہے- جس شخص کو سریانی کے حروف کا علم ہو جائے وہ آسانی کے ساتھ سریانی زبان بول یا سمجھ سکتا ہے اور آگے چل کر وہ حروف کے اسرار کی معرفت حاصل کر سکتا ہے- یہ ایک زبردست علم ہے- اللہ تعالی نے لوگوں پر رحمت کرتے ہوئے انھیں اس علم سے محجوب رکھا ہے کیوں کہ اگر وہ اس علم سے آگاہ ہو جائیں تو ان کی ذات میں موجود ظلمت ان کی تباہی کا باعث بن جائے (کیوں کہ وہ اس علم کو منفی طور پر استعمال کریں گے) ہم اللہ تعالی سے سلامتی کے طلب گار ہیں-

جس طرح عود کی لکڑی میں رس (یعنی پانی) موجود ہوتا ہے اسی طرح سریانی زبان دنیا کی ہر زبان میں موجود ہے کیوں کہ دنیا کی ہر زبان حروف تہجی پر مشتمل ہوتی ہے اور ان حروف تہجی کی وضاحت سریانی زبان میں کی گئی ہے کہ کون سا حرف کس مخصوص مفہوم کی ادائیگی کے لیے مخصوص ہے- جیسے عربی زبان میں لفظ “احمد” ہے، سریانی زبان کے اعتبار سے اس لفظ کے پہلے حرف “ا” کا اپنا ایک مخصوص معنی ہے- اسی طرح جب آپ “ح” کو ساکن پڑھیں گے تو اس کا اپنا مخصوص معنی ہوگا- “م” پر زبر اور “د” پر پیش پڑھیں گے تو دونوں الگ الگ مفہوم پر دلالت کریں گے- اسی طرح لفظ “محمد” ہے، یہ کسی شخصیت کا نام ہو سکتا ہے لیکن سریانی زبان میں اس کا ہر حرف ایک مخصوص مفہوم پر دلالت کرے گا؛ جیسے عبرانی زبان میں نبی کریم ﷺ کا اسم گرامی “بارقلیط” ہے، اس لفظ کا ہر حرف ایک مخصوص معنی پر دلالت کرتا ہے-

مختصر یہ کہ دنیا کی تمام زبانیں سریانی زبان سے نکلی ہیں اور سریانی دیگر تمام زبانوں کی اصل ہے- دیگر زبانوں کے وجود میں آنے کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں جہالت عام ہو گئی جب کہ سریانی میں گفتگو کرنے کے لیے معرفت پہلی شرط ہے تاکہ سامع (سننے والے) کو ہر حرف کے ذریعے اس کے مخصوص مفہوم کا پتہ چل جائے لہذا سریانی زبان ایجاد کرنے والوں نے اس بات کا اہتمام کیا کہ مختصر طور پر ایسی زبان ایجاد کی جائے جس کے حروف تہجی وسیع معنی پر دلالت کر سکیں کیوں کہ مخاطب کو فائدہ اس وقت حاصل ہوگا جب اس کا ذہن آپ کے مطلوبہ معنی کی طرف منتقل ہوگا کیوں کہ بیش تر امور معنی سے متعلق ہوتے ہیں؛ یہاں تک کہ بالفرض اگر یہ ممکن ہوتا کہ آپ الفاظ و حروف کا سہارا لیے بغیر اپنا معنی مخاطب کو منتقل کر سکیں تو کبھی بھی کسی زبان کو ایجاد کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی- یہی وجہ ہے کہ صرف اکابر اہل کشف یا ارواح یا فرشتے اس زبان میں گفتگو کرتے ہیں- اگر آپ انھیں یہ زبان بولتے ہوئے سن لیں تو یہ محسوس ہوگا جیسے وہ ایک یا دو حروف میں اپنا مدعا واضح کر دیتے ہیں یا چند الفاظ میں اتنا کچھ بیان کر دیتے ہیں جسے بیان کرنے کے لیے دوسری زبانوں میں کئی رجسٹر درکار ہوں گے-

اب آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ جب بنی نوع انسان میں جہالت عام ہو گئی تو ان حروف کو دیگر معنوں کی طرف منتقل کر دیا گیا اور ان حروف کی حیثیت مہمل الفاظ کی مانند ہو گئی اور یہ دستور چل نکلا کہ مختلف حروف کو ملا کر، لفظ کی شکل دے کر مفہوم کی وضاحت کی جائے اور پھر ان الفاظ کو جملوں کی شکل میں استعمال کیا جانے لگا- اس طرح ایک بہت عظیم علم مفقود ہو گیا لیکن اس کے باوجود آپ دنیا کی کسی بھی زبان کا کوئی بھی لفظ لے لیں اس کا کوئی ایک حرف سریانی زبان کے محاورے سے ضرور مطابقت رکھتا ہوگا یعنی جو لفظ کسی مخصوص معنی کے لیے ایجاد کیا گیا ہے، اسی لفظ کا ایک حرف سریانی زبان میں اسی معنی کی وضاحت کے لیے استعمال ہوتا ہوگا- جیسے عربی زبان میں لفظ “حائط” دیوار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن سریانی زبان میں اس کا پہلا حرف “ح” اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے- عربی زبان میں پانی کے لیے لفظ “ماء” استعمال ہوتا ہے جب کہ سریانی زبان میں اس کے آخر میں آنے والا “ء” پانی کے لیے ایجاد کیا گیا ہے- عربی زبان میں آسمان کے لیے لفظ “سماء” موجود ہے اور سریانی میں اس کے معنی کے لیے صرف “س” استعمال ہوتا ہے- غرض کہ اگر آپ تحقیق کریں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہر لفظ کا کوئی ایک حرف مخصوص فہم کی ادائیگی کے لیے کافی ہوتا ہے اور بقیہ حروف خواہ مخواہ استعمال کیے جاتے ہیں-

حضرت آدم علیہ السلام جب زمین پر تشریف لائے تو اپنی زوجۂ محترمہ اور بچوں کے ساتھ سریانی میں گفتگو کیا کرتے تھے- حضرت ادریس علیہ السلام کے زمانے تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن اس کے بعد تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا اور دیگر بہت سی زبانیں وجود میں آ گئیں- اس میں سب سے پہلے ہندی (سنسکرت) زبان وجود میں آئی اور یہ سریانی زبان سے خاصی قریب ہے- حضرت آدم علیہ السلام سریانی زبان میں اس لیے گفتگو کیا کرتے تھے کیوں کہ اہل جنت کی زبان سریانی ہے اور حضرت آدم علیہ السلام بھی جنت میں یہی زبان بولا کرتے تھے-

(انظر: الابریز من کلام سیدی عبدالعزيز)

عبد مصطفی

One comment

  1. Sawalaat -e- Qabr Suryani Zubaan Mein Honge

    Imam -e- Ahle Sunnat, Aala Hazrat Rahimahullahu Ta’ala Se Arz Kiya Gaya Ke Marne Ke Waqt Se Zubaan Arabi Ho Jaati Hai? Aap Ne Farmaya Ke Is Baare Mein To Kuchh Hadees Mein Irshad Nahin Hua, Hazrate Sayyidi Abdul Azeez Dabbagh Radiallaho Ta’ala Anho Farmate Hain Ke Qabr Mein Suryani Zubaan Mein Sawal Hoga Aur Kuchh Lafz Bhi Bataye Hain

    (ملفوظات اعلی حضرت، ح4، ص447)

    Shaykh Ahmad Bin Mubarak (M1155H) Kehte Hain Ke Maine (Apne Shaykh, Hazrat Allama Syed Abdul Azeez Dabbagh Radiallaho Ta’ala Anho Se) Daryaft Kiya Ke Qabr Mein Sawalaat Suryani Zubaan Mein Honge? Kyunki Imam Jalaluddin Suyooti Alaihi Rahma Ki Ek Nazm Mein Ye Sher Maujood Hai :

    ومن غریب ما تری العینان
    ان سوال القبر بالسریانی

    “Insan Ke Liye Hairangi Ki Baat Ye Hai Ke Qabr Mein Suryani Zubaan Mein Mayyat Se Sawal -o- Jawab Honge”

    Is Nazm Ke Shaareh Bayaan Karte Hain Ke Imam Suyooti Ne Apni Tasneef “Sharhus Sudoor” Mein Shaykhul Islam Allama Ilmuddeen Ke Fatawa Ke Hawale Se Ye Baat Naqal Ki Hai Ke Qabr Mein Suryani Zubaan Mein Mayyat Se Sawal Jawab Hoga,
    Imam Suyooti Farmate Hain Ke Taaham Mujhe Kisi Hadees Mein Ye Baat Nahin Mil Saki

    Allama Ibne Hajar Asqalani Se Yahi Sawal Kiya Gaya To Unhone Jawab Diya Ke Hadees Ke Alfaaz Se Ye Zaahir Hota Hai Ke Shayad Qabr Mein Sawal Jawab Arabi Zubaan Mein Hoga Taaham Ye Mumkin Hai Ke Har Shakhs Se Us Ki Makhsoos Zubaan Mein Sawal Jawab Kiya Jayega Aur Ye Baat Zyada Maqool Mahsoos Hoti Hai

    Shaykh Abdul Azeez Dabbagh Rahimahullahu Ta’ala (M1131H) Ne Jawab Mein Farmaya Ke Qabr Mein Sawal Jawab Suryani Zubaan Mein Hoga Kyunki Firishte Aur Arwaah Yahi Zubaan Bolte Hain,
    Sawal Firishte Karenge Aur Jawab Rooh Degi Kyunki Jab Rooh Jism Se Nikal Jaaye To Apni Asal Ki Taraf Laut Jaati Hai
    Allah Ta’ala Jab Kisi Wali Ko “Fathe Kabeer” (Ka Martaba) Ata Farmata Hai To Wo Baqayeda Sikhe Baghair Hi Suryani Zubaan Mein Guftagu Karne Ki Salahiyat Haasil Kar Leta Hai Kyunki Us Waqt Us Par Rooh Ka Hukm Ghalib Ho Jaata Hai, Is Liye (Rooh Ke Ghalbe Ke Baayis Hi) Murde Ko Suryani Zubaan Mein Guftagu Karte Huye Koi Uljhan Darpesh Nahin Hogi

    Shaykh Syed Abdul Azeez Dabbagh Rahimahullahu Ta’ala Suryani Zubaan Ke Mutalliq Tafseeli Kalaam Karte Huye Farmate Hain Ke Arwaah (Rooho) Ki Zubaan Suryani Hai,
    Ye Zubaan Lafzi Aitbar Se Bahut Mukhtasar Aur Maanwi Aitbar Se Intehayi Wasee Zubaan Hai, Dusri Koi Zubaan Is Khoobi Mein Is Ke Ham Palla Nahin Ho Sakti!
    Shaykh Ahmad Bin Mubarak Kehte Hain Ke Maine Daryaft Kiya Ke Kya Arabi Zubaan Bhi?
    Aap Alaihi Rahma Ne Farmaya Ke Arabi Zubaan Bhi Is Ke Ham Palla Nahin Ho Sakti Albatta Quraan Mein Maujood Alfaaz Ka Hukm Mukhtalif Hai,
    Agar Arabi Zubaan Mein Suryani Ke Muaani Ko Ikathha Kar Liya Jaaye Aur Alfaaz Arabi Zubaan Ke Ho To Ye Suryani Se Bhi Zyada Sheeri Aur Khoobsurat Zubaan Hogi

    Suryani Ke Siwa, Dunya Ki Tamam Zubaano Mein Itnaab (Phailao) Paaya Jaata Hai,
    Suryani Zubaan Ke Ilawa Har Zubaan Mein Alfaaz Ki Tarkeeb Ke Zariye Jumla Banta Hai Lekin Suryani Zubaan Mein Huroof Ke Zariye Jumla Banta Hai, Yahi Wajah Hai Ke Suryani Zubaan Ke Huroof -e- Tahajji Ka Makhsoos Maana Hai, Jab Ek Harf Ko Dusre Harf Se Mila Diya Jaaye To Jumla Mukammal Ho Jaata Hai
    Jis Shakhs Ko Suryani Ke Huroof Ka Ilm Ho Jaaye Wo Aasani Ke Saath Suryani Bol Ya Samajh Sakta Hai Aur Aage Chal Kar Wo Huroof Ke Asraar Ki Maarifat Haasil Kar Sakta Hai
    Ye Ek Zabardast Ilm Hai, Allah Ta’ala Ne Logon Par Rahmat Karte Huye Unhein Is Ilm Se Mahjoob Rakha Hai Kyunki Agar Wo Is Se Aagah Ho Jaayein To Un Ki Zaat Mein Maujood Zulmat Un Ki Tabahi Ka Baayis Ban Jaaye (Kyunki Wo Is Ilm Ko Manfi Taur Par Istemal Karenge) Hum Allah Ta’ala Se Salamati Ke Talabgaar Hain

    Jis Tarah Ood Ki Lakdi Mein Ras (Yaani Paani) Maujood Hota Hai Isi Tarah Suryani Zubaan Dunya Ki Har Zubaan Mein Maujood Hai Kyunki Dunya Ki Har Zubaan Huroof -e- Tahajji Par Mushtamil Hoti Hai Aur Un Huroof -e- Tahajji Ki Wazahat Suryani Zubaan Mein Ki Gayi Hai Ke Kaun Sa Harf Kis Makhsoos Mafhoom Ki Adayegi Ke Liye Makhsoos Hai,
    Jaise Arabi Zubaan Mein Lafze “Ahmad” Hai, Suryani Ke Aitbar Se Is Lafz Ke Pehle Harf “Alif” Ka Apna Makhsoos Maana Hai, Isi Tarah Jab Aap “Haa” Ko Saakin Padhenge To Us Ka Apna Makhsoos Maana Hoga, “Meem” Par Zabar Aur “Daal” Par Pesh Padhenge To Dono Alag Alag Mafhoom Par Dalalat Karenge
    Isi Tarah Lafze “Muhammad” Hai, Ye Kisi Shakhsiyat Ka Naam Ho Sakta Hai Lekin Suryani Zubaan Mein Is Ka Har Harf Ek Makhsoos Mafhoom Par Dalalat Karega

    Mukhtasar Ye Ke Dunya Ki Tamam Zubaanein Suryani Zubaan Se Nikli Hain Aur Suryani Deegar Tamam Zubaano Ki Asal Hai
    Deegar Zubaano Ke Wujood Mein Aane Ki Wajah Ye Hai Ke Logon Mein Jahalat Aam Ho Gayi Jab Ke Suryani Mein Guftagu Karne Ke Liye Maarfat Pehli Shart Hai Taaki Sunne Waale Ko Har Harf Ke Zariye Us Ke Makhsoos Mafhoom Ka Pata Chal Jaaye Lihaza Suryani Zubaan Ijaad Karne Waalo Ne Is Baat Ka Ihtemam Kiya Ke Mukhtasar Taur Par Aisi Zubaan Ijaad Ki Jaaye Jis Ke Huroof -e- Tahajji Wasee Maana Par Dalalat Kar Sakein Kyunki Mukhatib Ko Fayeda Us Waqt Haasil Hoga Jab Us Ka Zahan Aap Ke Matlooba Maana Ki Taraf Muntaqil Hoga Kyunki Beshtar Umoor Maana Se Mutalliq Hote Hain, Yahan Tak Ke Bilfarz Agar Ye Mumkin Hota Ke Aap Alfaaz Wa Huroof Ka Sahara Liye Baghair Apna Maana Mukhatib Ko Muntaqil Kar Sakein To Kabhi Bhi Kisi Zubaan Ko Ijaad Karne Ki Zaroorat Pesh Na Aati, Yahi Wajah Hai Ke Sirf Akabir Ahle Kashf Ya Arwaah Ya Firishte Is Zubaan Mein Guftagu Karte Hain,
    Agar Aap Unhein Ye Zubaan Bolte Huye Sun Lein To Ye Mahsoos Hoga Jaise Wo Ek Ya Do Huroof Mein Apna Mudda Waazeh Kar Dete Hain Ya Chand Alfaaz Mein Itna Kuchh Bayaan Kar Dete Hain Jise Bayaan Karne Ke Liye Dusri Zubaano Mein Kayi Register Darkaar Honge

    Ab Aap Ko Andaza Ho Jayega Ke Jab Insano Mein Jahalat Aam Ho Gayi To In Huroof Ko Deegar Maano Ki Taraf Muntaqil Kar Diya Gaya Aur In Huroof Ki Haisiyat Muhmal Alfaaz Ki Manind Ho Gayi Aur Ye Dastoor Chal Nikla Ke Mukhtalif Huroof Ko Mila Kar, Lafz Ki Shakl De Kar Mafhoom Ki Wazahat Ki Jaaye Aur Phir Un Alfaaz Ko Jumlo Ki Shakl Mein Istemal Kiya Jaane Laga, Is Tarah Ek Bahut Azeem Ilm Mafqood Ho Gaya Lekin Is Ke Bawajood Aap Dunya Ki Kisi Bhi Zubaan Ka Koi Bhi Lafz Le Lein Us Ka Koi Ek Harf Suryani Ke Muhawre Se Zaroor Mutabiqat Rakhta Hoga Yaani Jo Lafz Kisi Makhsoos Maana Ke Liye Ijaad Kiya Gaya Hai, Usi Lafz Ka Ek Harf Suryani Zubaan Mein Usi Maane Ki Wazahat Ke Liye Istemal Hota Hoga,
    Jaise Arabi Zubaan Mein Lafze “Haayit” Deewar Ke Maana Mein Istemal Hota Hai Lekin Suryani Zubaan Mein Is Ka Pehla Harf “Haa” Isi Maana Mein Istemal Hota Hai
    Arabi Zubaan Mein Paani Ke Liye Lafze “Maa’a” Istemal Hota Hai Jab Ke Suryani Zubaan Mein Is Ke Aakhir Mein Aane Waala “Hamza” Paani Ke Liye Ijaad Kiya Gaya Hai
    Arabi Zubaan Mein Aasman Ke Liye Lafze “Samaa” Maujood Hai Aur Suryani Zubaan Mein Is Ke Maana Ke Liye Sirf “Seen” Istemal Hota Hai, Gharze Ke Agar Aap Tehqeeq Karein To Aap Ko Pata Chal Jayega Ke Har Lafz Ka Koi Ek Harf Makhsoos Faham Ki Adayegi Ke Liye Kaafi Hota Hai Aur Baqya Huroof Khwah Makhwah Istemal Kiye Jaate Hain

    Hazrate Adam Alaihissalam Jab Zameen Par Tashreef Laaye To Apni Zauja -e- Muhtarma Aur Bachho Ke Saath Suryani Mein Guftagu Kiya Karte The,
    Hazrate Idrees Alaihissalam Ke Zamane Tak Is Mein Koi Tabdeeli Nahin Aayi Lekin Us Ke Baad Tabdeeli Ka Amal Shuru Ho Gaya Aur Deegar Bahut Si Zubanein Wujood Mein Aa Gayi, Us Mein Sab Se Pehle Hindi (Sanskrit) Zubaan Wujood Mein Aayi Aur Ye Suryani Zubaan Se Khaasi Qareeb Hai
    Hazrate Adam Alaihissalam Suryani Zubaan Mein Is Liye Guftagu Kiya Karte The Kyunki Ahle Jannat Ki Zubaan Suryani Hai Aur Hazrate Adam Alaihissalam Bhi Jannat Mein Yahi Zubaan Bola Karte The

    (انظر: الابریز من کلام سیدی عبدالعزيز)

    Abde Mustafa

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.