سوالات قبر سریانی زبان میں ہوں گے

امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ تعالی سے عرض کیا گیا کہ مرنے کے وقت سے زبان عربی ہو جاتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اس بارے میں تو کچھ حدیث میں ارشاد نہیں ہوا- حضرت سیدی عبد العزيز دباغ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ قبر میں سریانی زبان میں سوال ہوگا اور کچھ لفظ بھی بتائے ہیں-

(ملفوظات اعلی حضرت، ح4، ص447)

شیخ احمد بن مبارک (م1155ھ) کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے شیخ، حضرت علامہ سید عبد العزيز دباغ رحمہ اللہ تعالی سے) دریافت کیا کہ قبر میں سوالات سریانی زبان میں ہوں گے؟ کیوں کہ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کی ایک نظم میں یہ شعر موجود ہے:

ومن غریب ما تری العینان

ان سوال القبر بالسریانی

“انسان کے لیے حیرانگی کی بات یہ ہے کہ قبر میں سریانی زبان میں میت سے سوال و جواب ہوں گے”

اس نظم کے شارح بیان کرتے ہیں کہ امام سیوطی نے اپنی تصنیف “شرح الصدور” میں شیخ الاسلام علم الدین البلقینی کے فتاوی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ قبر میں سریانی زبان میں میت سے سوال جواب ہوگا- امام سیوطی فرماتے ہیں کہ تاہم مجھے کسی حدیث میں یہ بات نہیں مل سکی-

علامہ ابن حجر عسقلانی سے یہی سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ حدیث کے الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید قبر میں سوال جواب عربی زبان میں ہوگا تاہم یہ ممکن ہے کہ ہر شخص سے اس کی مخصوص زبان میں سوال جواب کیا جائے گا اور یہ بات زیادہ معقول محسوس ہوتی ہے-

شیخ سید عبد العزيز دباغ رحمہ اللہ تعالی (م1131ھ) نے جواب میں فرمایا کہ قبر میں سوال جواب سریانی زبان میں ہوگا کیوں کہ فرشتے اور ارواح یہی زبان بولتے ہیں- سوال فرشتے کریں گے اور جواب روح دے گی کیوں کہ جب روح جسم سے نکل جائے تو اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتی ہے- اللہ تعالی جب کسی ولی کو “فتح کبیر” (کا مرتبہ) عطا فرما دے تو وہ باقاعدہ سیکھے بغیر ہی سریانی زبان میں گفتگو کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے کیوں کہ اس وقت اس پر روح کا حکم غالب ہو جاتا ہے، اس لیے (روح کے غلبے کے باعث ہی) مردے کو سریانی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کوئی الجھن درپیش نہیں ہوگی-

شیخ سید عبد العزيز دباغ رحمہ اللہ تعالی سریانی زبان کے متعلق تفصیلی کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ارواح (روحوں) کی زبان سریانی ہے- یہ زبان لفظی اعتبار سے بہت مختصر اور معنوی اعتبار سے انتہائی وسیع زبان ہے- دوسری کوئی زبان اس خوبی میں اس کے ہم پلہ نہیں ہو سکتی-

شیخ احمد بن مبارک کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: کیا عربی زبان بھی؟

آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا: عربی زبان بھی اس کے ہم پلہ نہیں ہو سکتی البتہ قرآن میں موجود الفاظ کا حکم مختلف ہے- اگر عربی زبان میں سریانی کے معانی کو اکٹھا کر لیا جائے اور الفاظ عربی زبان کے ہوں تو یہ سریانی سے بھی زیادہ شیریں اور خوب صورت زبان ہوگی-

سریانی کے سوا، دنیا کی تمام زبانوں میں اطناب (پھیلاؤ) پایا جاتا ہے- سریانی زبان کے علاوہ ہر زبان میں الفاظ کی ترکیب کے ذریعے جملہ بنتا ہے لیکن سریانی میں حروف کے ذریعے جملہ بنتا ہے- یہی وجہ ہے کہ سریانی زبان کے حروف تہجی کا ایک مخصوص معنی ہے- جب ایک حرف کو دوسرے حرف سے ملا دیا جائے تو جملہ مکمل ہو جاتا ہے- جس شخص کو سریانی کے حروف کا علم ہو جائے وہ آسانی کے ساتھ سریانی زبان بول یا سمجھ سکتا ہے اور آگے چل کر وہ حروف کے اسرار کی معرفت حاصل کر سکتا ہے- یہ ایک زبردست علم ہے- اللہ تعالی نے لوگوں پر رحمت کرتے ہوئے انھیں اس علم سے محجوب رکھا ہے کیوں کہ اگر وہ اس علم سے آگاہ ہو جائیں تو ان کی ذات میں موجود ظلمت ان کی تباہی کا باعث بن جائے (کیوں کہ وہ اس علم کو منفی طور پر استعمال کریں گے) ہم اللہ تعالی سے سلامتی کے طلب گار ہیں-

جس طرح عود کی لکڑی میں رس (یعنی پانی) موجود ہوتا ہے اسی طرح سریانی زبان دنیا کی ہر زبان میں موجود ہے کیوں کہ دنیا کی ہر زبان حروف تہجی پر مشتمل ہوتی ہے اور ان حروف تہجی کی وضاحت سریانی زبان میں کی گئی ہے کہ کون سا حرف کس مخصوص مفہوم کی ادائیگی کے لیے مخصوص ہے- جیسے عربی زبان میں لفظ “احمد” ہے، سریانی زبان کے اعتبار سے اس لفظ کے پہلے حرف “ا” کا اپنا ایک مخصوص معنی ہے- اسی طرح جب آپ “ح” کو ساکن پڑھیں گے تو اس کا اپنا مخصوص معنی ہوگا- “م” پر زبر اور “د” پر پیش پڑھیں گے تو دونوں الگ الگ مفہوم پر دلالت کریں گے- اسی طرح لفظ “محمد” ہے، یہ کسی شخصیت کا نام ہو سکتا ہے لیکن سریانی زبان میں اس کا ہر حرف ایک مخصوص مفہوم پر دلالت کرے گا؛ جیسے عبرانی زبان میں نبی کریم ﷺ کا اسم گرامی “بارقلیط” ہے، اس لفظ کا ہر حرف ایک مخصوص معنی پر دلالت کرتا ہے-

مختصر یہ کہ دنیا کی تمام زبانیں سریانی زبان سے نکلی ہیں اور سریانی دیگر تمام زبانوں کی اصل ہے- دیگر زبانوں کے وجود میں آنے کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں جہالت عام ہو گئی جب کہ سریانی میں گفتگو کرنے کے لیے معرفت پہلی شرط ہے تاکہ سامع (سننے والے) کو ہر حرف کے ذریعے اس کے مخصوص مفہوم کا پتہ چل جائے لہذا سریانی زبان ایجاد کرنے والوں نے اس بات کا اہتمام کیا کہ مختصر طور پر ایسی زبان ایجاد کی جائے جس کے حروف تہجی وسیع معنی پر دلالت کر سکیں کیوں کہ مخاطب کو فائدہ اس وقت حاصل ہوگا جب اس کا ذہن آپ کے مطلوبہ معنی کی طرف منتقل ہوگا کیوں کہ بیش تر امور معنی سے متعلق ہوتے ہیں؛ یہاں تک کہ بالفرض اگر یہ ممکن ہوتا کہ آپ الفاظ و حروف کا سہارا لیے بغیر اپنا معنی مخاطب کو منتقل کر سکیں تو کبھی بھی کسی زبان کو ایجاد کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی- یہی وجہ ہے کہ صرف اکابر اہل کشف یا ارواح یا فرشتے اس زبان میں گفتگو کرتے ہیں- اگر آپ انھیں یہ زبان بولتے ہوئے سن لیں تو یہ محسوس ہوگا جیسے وہ ایک یا دو حروف میں اپنا مدعا واضح کر دیتے ہیں یا چند الفاظ میں اتنا کچھ بیان کر دیتے ہیں جسے بیان کرنے کے لیے دوسری زبانوں میں کئی رجسٹر درکار ہوں گے-

اب آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ جب بنی نوع انسان میں جہالت عام ہو گئی تو ان حروف کو دیگر معنوں کی طرف منتقل کر دیا گیا اور ان حروف کی حیثیت مہمل الفاظ کی مانند ہو گئی اور یہ دستور چل نکلا کہ مختلف حروف کو ملا کر، لفظ کی شکل دے کر مفہوم کی وضاحت کی جائے اور پھر ان الفاظ کو جملوں کی شکل میں استعمال کیا جانے لگا- اس طرح ایک بہت عظیم علم مفقود ہو گیا لیکن اس کے باوجود آپ دنیا کی کسی بھی زبان کا کوئی بھی لفظ لے لیں اس کا کوئی ایک حرف سریانی زبان کے محاورے سے ضرور مطابقت رکھتا ہوگا یعنی جو لفظ کسی مخصوص معنی کے لیے ایجاد کیا گیا ہے، اسی لفظ کا ایک حرف سریانی زبان میں اسی معنی کی وضاحت کے لیے استعمال ہوتا ہوگا- جیسے عربی زبان میں لفظ “حائط” دیوار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن سریانی زبان میں اس کا پہلا حرف “ح” اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے- عربی زبان میں پانی کے لیے لفظ “ماء” استعمال ہوتا ہے جب کہ سریانی زبان میں اس کے آخر میں آنے والا “ء” پانی کے لیے ایجاد کیا گیا ہے- عربی زبان میں آسمان کے لیے لفظ “سماء” موجود ہے اور سریانی میں اس کے معنی کے لیے صرف “س” استعمال ہوتا ہے- غرض کہ اگر آپ تحقیق کریں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہر لفظ کا کوئی ایک حرف مخصوص فہم کی ادائیگی کے لیے کافی ہوتا ہے اور بقیہ حروف خواہ مخواہ استعمال کیے جاتے ہیں-

حضرت آدم علیہ السلام جب زمین پر تشریف لائے تو اپنی زوجۂ محترمہ اور بچوں کے ساتھ سریانی میں گفتگو کیا کرتے تھے- حضرت ادریس علیہ السلام کے زمانے تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن اس کے بعد تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا اور دیگر بہت سی زبانیں وجود میں آ گئیں- اس میں سب سے پہلے ہندی (سنسکرت) زبان وجود میں آئی اور یہ سریانی زبان سے خاصی قریب ہے- حضرت آدم علیہ السلام سریانی زبان میں اس لیے گفتگو کیا کرتے تھے کیوں کہ اہل جنت کی زبان سریانی ہے اور حضرت آدم علیہ السلام بھی جنت میں یہی زبان بولا کرتے تھے-

(انظر: الابریز من کلام سیدی عبدالعزيز)

عبد مصطفی