أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ؕ اَ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِيۡنًا ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم اپنے خلاف اللہ کے لیے ایک واضح حجت قائم کرنا چاہتے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم اپنے خلاف اللہ کے لیے ایک واضح حجت قائم کرنا چاہتے ہو۔ (النساء : ١٤٤) 

کافروں کے نابالغ بچوں پر عذاب نہیں ہوگا : 

اس آیت کی دو تفسیریں ہیں ایک تفسیر یہ ہے کہ ” اے ایمان والو ! “ اس سے مراد مخلصین مومنین ہیں ‘ اور کافروں سے مراد یہودی یا منافق ہیں اور معنی یہ ہے کہ اے اخلاص کے ساتھ ایمان لانے والو ! یہودیوں یا منافقوں کو دوست نہ بناؤ‘ 

جیسا کہ منافق کافروں کو دوست بناتے ہیں ورنہ تم بھی منافقوں کی مثل ہو جاؤگے ‘ اور اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ ” اے ایمان والو ! “ سے مراد منافق ہیں اور معنی یہ ہے کہ اے بظاہر ایمان لانے والو ! کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ‘ بلکہ مخلص مومنین کو اپنا دوست بناؤ تاکہ تمہیں بھی اخلاص نصیب ہو لیکن پہلی تفسیر راجح ہے۔ 

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم اپنے خلاف واضح حجت قائم کرنا چاہتے ہو ؟ یعنی تم ایسی حجت اور دلیل قائم کرنا چاہتے ہو جس کی بناء پر تم عذاب کے مستحق ہوجاؤ‘ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ کسی شخص کو بغیر دلیل کے عذاب نہیں دے گا ‘ حالانکہ اگر وہ تمام آسمانوں اور زمینوں کی مخلوق کو عذاب دے تو یہ اس کا عین عدل ہوگا کیونکہ وہ سب مخلوق کا مالک ہے اور مالک اپنے ملک میں جو چاہے کرسکتا ہے ‘ لیکن اس نے اپنی حکمت سے اور اپنے فضل سے یہ وعدہ کرلیا کہ وہ اپنے مخلص اور صالح بندوں کو عذاب نہیں دے گا اور خلف وعد محال ہے اس لیے مخلصین اور صالحین کو عذاب ہونا بھی محال ہے ‘ نیز اس آیت سے جب یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ وہ بغیر دلیل کے عذاب نہیں دیتا تو اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ مشرکوں اور کافروں کے نابالغ بچوں کو عذاب نہیں ہوگا کیونکہ نابالغ بچوں کے حق میں بعث متحقق نہیں ہوئی اور نہ ہی نابالغ بچے مکلف ہوتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 144