حدیث نمبر :393

روایت ہے حضرت ربیع بنت معوذ سے ۱؎ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو فرماتے دیکھا تو آپ نے اپنے اگلے پچھلے حصہ،سر کا اور کنپٹیوں اور کانوں کا ایک بار مسح کیا۲؎ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے وضو کیا تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں کے سوراخوں میں ڈالیں۳؎ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ترمذی نے پہلی روایت اوراحمدوابن ماجہ نے دوسری روایت نقل کی۔

شرح

۱؎ آپ انصاریہ،نجاریہ ہیں،بیعت الرضوان میں موجود تھیں،آپ کے دادا کا نام عفرا ہے۔

۲؎ اس حدیث سے صراحتًا معلوم ہوا کہ کان کا شمار سر میں ہے اس کا مسح ہوگا دھویا نہ جائے گا اور مسح ایک بار ہوگا نہ کہ تین بار،لہذا یہ حنفیوں کے قوی دلیل ہے۔کنپٹیاں چہرے میں داخل ہیں کیونکہ چہرے کی حد چوڑائی میں کان کی لَو سے دوسرے کان کی لَو تک ہے لہذا چہرے کے ساتھ تین بار دھوئی جائیں گی۔کان کے مسح کے ساتھ حضور کی انگلیاں کنپٹی پر بھی لگ گئی ہوں گی اور یہ سمجھیں کہ آپ اس کا مسح فرمارہے ہیں جیسا کہ عمامہ کے مسح میں ذکر کیا گیا۔لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں کنپٹیوں کے دھونے کا حکم ہے۔

۳؎ یہ بھی سنت ہے۔خیال رہے کہ دونوں کا مسح ایک ساتھ ہوگا داہنے سے شروع کرنا ان اعضاء میں ہوتا ہے جو دونوں ایک ساتھ نہ دھوئے جاسکتے ہیں اسی لئے کلائی تک دونوں ہاتھ ایک ساتھ دھوئے جاتے ہیں اور کہنی تک ترتیب وار کہ پہلے داہنا پھربایاں۔(مرقاۃ)