اِنۡ تُبۡدُوۡا خَيۡرًا اَوۡ تُخۡفُوۡهُ اَوۡ تَعۡفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيۡرًا‏ ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 149

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ تُبۡدُوۡا خَيۡرًا اَوۡ تُخۡفُوۡهُ اَوۡ تَعۡفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

اگر تم کسی نیکی کو ظاہر کرو یا چھپا کر کرو ‘ یا کسی برائی کو معاف کردو تو بیشک اللہ بہت معاف کرنے والا نہایت قدرت والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تم کسی نیکی کو ظاہرا کرو یا چھپا کر کرو ‘ یا کسی برائی کو معاف کردو تو بیشک اللہ بہت معاف کرنے والا نہایت قدرت والا ہے۔ (النساء : ١٤٩) 

تمام احکام کا مدار دو چیزوں پر ہے خالق کی عظمت اور مخلوق پر شفقت ‘ (آیت) ” مایفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم وکان اللہ شاکرا علیما “۔ میں خالق کی عظمت کو بیان فرمایا ‘ اور مخلوق پر شفقت بھی دو طرح سے ہے ‘ مخلوق سے ضرر کو دور کرنا اور ان کو نفع پہنچانا ‘ مخلوق سے ضرر کو دور کرنے کے متعلق فرمایا (آیت) ” لا یحب اللہ الجھر بالسوء “۔ الایہ اور ان کو نفع پہنچانے کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ؛ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ” تم کسی نیکی کو ظاہر کرو یا چھپا کر کرو “۔ نماز ‘ روزہ ‘ صدقہ ‘ اور خیرات تمام اقسام کے نیک کاموں کو شامل ہے۔ فرائض علی الاعلان ادا کرنے چاہئیں تاکہ انسان پر ترک فرائض کی تہمت نہ لگے اور نوافل چھپا کر ادا کرنے چاہئیں تاکہ انسان کے اعمال میں زیادہ سے زیادہ اخلاص آسکے حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن سات آدمیوں پر اللہ اپنا سایہ کرے گا جس دن کے سایہ کے سوا اور کسی کا سایہ نہیں ہوگا۔ آپ نے ان سات میں سے ایک اس شخص کا ذکر کیا جو چھپا کر صدقہ دے حتی کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ١٤٢٣) 

اس آیت میں دوسری نیکی یہ بیان فرمائی ہے کہ کسی برائی کو معاف کردو اور اس پر دلیل یہ قائم فرمائی ہے کہ اللہ بہت معاف کرنے والا نہیات قدرت والا ہے یعنی اللہ تعالیٰ عذاب پر قادر ہونے کے باوجود بندوں کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے سو تم بھی اللہ کے اخلاق سے متخلق ہوجاؤ اور اس کی صفات سے متصف ہوجاؤ اور انتقام لینے پر قدرت کے باوجود لوگوں کی غلطیوں اور خطاؤں کو معاف کردو اور اگر تم نے لوگوں کی خطاؤں کو معاف نہ کیا تو تم اللہ سے اپنی خطاؤں کی معافی کی کیسے توقع رکھو گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 149

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.