بنتِ صدیق، آرامِ جانِ نبی ﷺ و رضي اللہ تعالی عنہما

حکایت نمبر174: بنتِ صدیق، آرامِ جانِ نبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم و رضي اللہ تعالی عنہما

حضرت عبداللہ بن ابو ملیکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے دربان حضرت سیدنا ذکوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا:”جب اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیِّبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وقتِ وصال قریب آیا تو حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکاشانہ اقدس پر آئے اوراندر آنے کی اجازت طلب کی ۔ میں اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بارگاہ میں حاضر ہوا ،اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بھتیجے حضرت سیدنا عبداللہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہماآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے سرہانے کھڑے تھے۔ میں نے عرض کی:” باہر حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کھڑے ہیں اور اندر آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں ۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : ”ابھی میرا جی نہیں چاہ رہا کہ میں( کسی سے) ملاقات کروں ۔” حضرت سیدنا عبداللہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے عرض کی:” اے پھوپھی جان ! حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہمارے پیارے نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان میں سے ہیں اوربڑی عظمت والے ہیں، وہ آپ کے پاس آکر آپ کے لئے سلامتی کی دعاکریں گے ۔ ”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: ”اچھا اگر تمہاری یہی مرضی ہے تو اجازت دے دو۔ ”

چنانچہ اجازت ملتے ہی حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما حاضرِخدمت ہوئے اور عرض کی :’ ‘آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خوش خبری ہو ۔” اُم المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا :”کس بات پر خوش خبری۔”عرض کی: ”جیسے ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس دنیا سے رخصت ہو ں گی تو فوراً آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ملاقات آقائے دو جہاں، مالک کون ومکاں، رحمتِ عالمیاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّماورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ان صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ہو گی جو دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تو حضورنبی ئکریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنی ازواج مطہّرات رضوان اللہ تعالیٰ علیہن اجمعین میں سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تو طیّبہ وطاہرہ ہیں کیونکہ حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم خود طیب وطاہرہیں تو طیبین کے لئے طیبات ہی ہوتی ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاتو بڑی شان کی مالک ہیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی برکت سے مسلمانوں کے لئے تیمم کی اجازت عطاکی گئی ۔جب ایک سفر میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکاہارگم ہوگیا اور اسے ڈھونڈنے میں دیر لگی اورلوگوں کے پاس پانی ختم ہوگیا تو اللہ عزوجل نے آیت تیمم نازل فرمائی :

فَلَمْ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا

ترجمہ کنزالایمان :اورپانی نہ پایاتوپاک مٹی سے تیمم کرو۔ (پ5،النسآء: 43 )

(جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر تہمت لگائی گئی تو) اللہ عزوجل نے آپ کی پاکیزگی اورطہارت کے بارے میں قرآن کی آیتیں نازل فرمائیں جنہیں حضرت سیدنا جبریل امین علیہ السلام لے کر آئے،اب قیامت تک آپ کی پاکیزگی اورطہارت کا چرچا ہوتا رہے گا وہ آیتیں جو آپ کی شان میں نازل ہوئیں قیامت تک نمازوں اور خطبوں میں صبح شام مسلمانوں کی مساجد میں پڑھی جاتی رہیں گی ۔ ”یہ سن کر اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا:” اے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما !میری تعریف نہ کرو ،قسم ہے مجھے میرے اس پاک پروردگار عزوجل کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!میں تو اس بات کو پسند کرتی ہوں کہ میں گمنام ہی رہتی اور میری شہرت نہ ہوتی ۔”؎ بنتِ صدیق آرام جانِ نبی اس حریمِ براءَ ت پہ لاکھوں سلام یعنی ہے سورہ نور جن کی گواہ ان کی پر نُور صورت پہ لاکھوں سلام

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.