حدیث نمبر :399

روایت ہے حضرت معاذ بن جبل سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاکہ جب وضو کرتےتو اپنا چہرہ اپنے کپڑے کے کنارے سے پونچھتے ۱؎ (ترمذی)

شرح

۱؎ اس سے چندمسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ وضوء کے بعد اعضائے وضوء کا پونچھنا ممنوع نہیں بشرطیکہ تکبّرانہ نہ ہو۔ہاں مستحب یہ ہے کہ زیادہ مبالغہ سے نہ پونچھے،تری کا کچھ اثر باقی رہنے دے۔دوسرے یہ کہ اعضاءکی تری ماءمستعمل نہیں،پانی کے جوقطرے عضو سے الگ ہوجائیں وہ مستعمل ہیں جو بعض کے نزدیک نجس ہیں مگر حق یہ ہے کہ پاک تو ہیں لیکن پاک کر نہیں سکتے۔وہ جو حدیث پاک میں آیا کہ حضرت میمونہ نے حضور انور کی خدمت میں وضو کے بعدرومال پیش کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ فرمایا اور اعضاء جھاڑتے ہوئے تشریف لے گئے اس کی وجوہ دوسری ہوسکتی ہیں۔رومال صاف نہ ہویااس وقت جلدی ہو۔مرقاۃ نے فرمایا مستحب یہی ہے کہ نہ پونچھے لیکن پونچھنا بھی بلاکراہت جائز ہے۔