حدیث نمبر :400

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کپڑا تھا جس سے وضو کے بعد اپنے اعضاءشریف پونچھا کرتے تھے ۱؎ روایت کیا ترمذی نے اور فرمایا کہ یہ حدیث قوی الاسناد نہیں اور ابومعاذ راوی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۲؎

شرح

۱؎ یعنی کبھی کبھی نہ کہ ہمیشہ کیونکہ ابھی گزر گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دامن سے منہ شریف پونچھا،بعض میں یہ بھی ہے کہ اعضاء بالکل نہ پونچھے،بعض روایات میں ہے کہ وضوء کا پانی قیامت میں نور ہوگا۔غرض کہ احادیث میں تعارض نہیں کبھی وہ اعمال کئے کبھی یہ۔

۲؎ ترمذی نے ان دونوں حدیثوں کو ضعیف کہا،پہلی حدیث کو رشدابن سعد اورعبدالرحمان ابن زیاد افریقی کی وجہ سے اور اس حدیث کو ابومعاذکی وجہ سے اور فرمایا کہ بعض لوگ اعضائے وضو پونچھنے کو مکروہ سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں عبادت کے اثر کو دور کردینا ہے اور وضوء کا پانی تسبیح بھی کرتا ہے۔واﷲ اعلم!