سانحہ نیوزی لینڈ کے منفی و مثبت پہلو

سب سے بڑا منفی پہلو تو یہ ہے.. 

چارلی ہیبڈو کے واقعے پر پوری ملت کفر متحد نظر آئی، مشرق سے لے کر مغرب تک کے عیسائی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے تھے، مسلمانوں کی عالمی تنظیم “او آئی سی” سمیت کسی بھی مسلمان ملک کے صدر، وزیر اعظم اور بادشاہ و وزیر نے ان کے جنازوں میں شرکت نہ کی۔ 

سانحہ نیوزی لینڈ میں مسلمان حکمرانوں کی بے حسی کو دیکھ کر دل خون کے آنسو رویا کہ سوائے طیب اوردگان کے کسی کے منہ سے ایک جملہ بھی نہیں نکلا.. 

عالم کفر کو ہم پتھر سمجھتے ہیں مگر وہ پتھر بھی تسبیح میں پروئے ہوئے نظر آئے تسبیح نما نظر آئے … 

اور عالم اسلام جس کو ہم قیمتی موتی تصّور کرتے ہیں وہ تسبیح کے بکھرے ہوئے موتیوں کی مانند گندگی میں گرے پڑے نظر آئے..

ہمارا میڈیا آرمی کے اعلی افسران حکومتی عہدیداران کی,, پی ایس ایل،، میں حاضری کو تو دکھاتا رہا مگر مسلمانوں کے درد کے لئے ایک جملہ ادا نہ ہوا. 

کاش کوئی آئے اور مسلم حکمرانوں کو گندگی کے اس ڈھیر سے نکال کر دھو کر ان کو نمایاں کر دے، اور پھر سے تسبیح میں پرو دے…

مثبت پہلو 

جب یہ تحریک زوروں پر تھی کہ دوپٹہ اپنی آنکھوں پر باندھ لو تو اللہ نے ایک غیر مسلم حکمران کو دوپٹہ اُڑھا کر پوری دنیا کے سامنے کر دیا کے دیکھ لو دوپٹے میں کوئی برائی نہیں

ایک پولیس کی اعلی آفیسر سے خطبہ پڑھوا دیا کہ دیکھ لو اسلام ابھی اتنا بھی کمزور نہیں ہوا..

نیوزی لینڈ کے غیر مسلموں میں اسلام سے متعلق جاننے کی خواہش پیدا ہو گی ۔

دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھا جاتا تھا وہاں اب مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ایسے ممالک بھی ہیں جو انتہائی مجبوری میں ہمدردی جتانے پر مجبور ہیں ۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم اور انتظامیہ اس معاملے میں خاص طور پر قابل تعریف ہیں ۔ 

یہ سانحے آتے تو اس لئے ہیں کہ انسان سنبھل جائے.. 

میں پُچھیا اقبال توں دس، اقبال بولیا

اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹُوٹا تو کیا غم ہے

کہ خُونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحَر پیدا

علامہ اقبال نے تو کہا تھا کہ ہزاروں لاکھوں ستارے چھپتے ہیں تو پھر سحر ہوتی ہے… 

اللہ نے قرآن میں بھی ارشاد فرمایا

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا 

تو بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔

جس طرح 9/11 کے بعد غیرمسلموں نے اسلام کو پڑھنا شروع کیا… 

میں سمجھتا ہوں کہ اس حادثہ عظیمہ کے بعد بھی غیر مسلم بڑی تعداد میں اسلام کی طرف رخ موڑیں گے.. 

یہ علیحدہ بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے غلامی کی زنجیریں اپنے گلے میں ڈالی ہوئی ہیں.. 

اقبال کہتے ہیں… 

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

علامہ اقبال یقین پیدا کرنے کی تلقین کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اگر تو ایک ملّت بننا چاہتا ہے رنگ و خوں کو توڑ کر ملّت بن جا……

پھر اقبال بولے

بُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جا

نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی

پھر اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صرف ایک ہی غلامی ہے کہ جس پر ناز کیا جاسکتا ہے جس پر ہزار آزادیاں قربان کی جاسکتی ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی ہے….. 

حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی غلامی پہ ناز کرتے ہیں

اقبال کہتے ہیں.. 

چمک اُٹھا جو ستارہ ترے مقدّر کا

حبَش سے تجھ کو اُٹھا کر حجاز میں لایا

ہُوئی اسی سے ترے غم کدے کی آبادی

تری غلامی کے صدقے ہزار آزادی

پھر اقبال نے کہا کہ وہ کون سی صفتیں ہیں جن کو اپنا کر توں اپنی قوت کو بڑھا سکتا ہے… 

تو پھر کہا صرف جدید اسلحہ سے لیس ہو جانا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے لئے کچھ اور لوازمات بھی ہیں وہ کیا ہیں؟ 

یقیں محکم، عمل پیہم، محبّت فاتحِ عالم

جہادِ زِندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

حملہ آور کی,, گنیں،، ہمیں ایک سبق دے گئیں کہ قومیں اپنا ماضی کبھی نہیں بھولا کرتیں تم اگر بھول جاؤ تو تمہاری مرضی.. 

تاتاریوں کی قتل و غارت، چنگیزیوں کی تباہیاں، سقوطِ بغداد فرنگیوں کے ظلم وستم، عراق و افغانستان وشام و فلسطین و کشمیر وبرما کی تباہیاں اور مسلم نوجوانوں کی نسل کشی بیٹیوں کی لٹتی عزتی بھول جاؤ تو تمہاری مرضی…. 

آخر میں

شہدائے نیوزی لینڈ کے لئے دعا کرتے ہیں اللہ تبارک و تعالی ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے.. 

تحریر :۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی