حدیث نمبر :398

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ وضو کا ایک شیطان ہے جسے ولہان کہا جاتا ہے ۱؎ تو پانی کے وسوسوں سے بچو۲؎(ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد محدثین کے نزدیک قوی نہیں کیونکہ ہم نے خارجہ کے سوا کسی کو نہ جانا جو اسے مرفوعًا نقل کرے اور خارجہ ہمارے دوستوں کے نزدیک قوی نہیں۔

شرح

۱؎ ولہان وَلْہٌ سے بنا،بمعنی حیرت یا حرص۔چونکہ یہ شیطان وضو کرنے والے کو حیرت میں ڈال دیتا ہے اور پانی کے زیادہ استعمال پر حریص کرتا ہے اس لئے اسے ولہان کہا جاتا ہے۔زیادتی عشق کو بھی ولہ اور عاشق حیرت زدہ کو بھی ولہان کہتے ہیں۔شیطان کی جماعتیں مختلف ہیں۔جن کے علیحدہ علیحدہ کام ہیں ان میں سے ایک جماعت کا یہ کام اور یہ نام ہے۔

۲؎ دل میں جو شک بلا دلیل پیدا ہواسے وسوسہ کہا جاتا ہے۔بلاوجہ یہ خیال کرنا کہ شاید پانی نجس ہو،شاید کپڑوں پرچھینٹیں پڑ گئیں ہوں،شاید پانی پورے عضو پر نہ بہاہو،یہ سب کچھ وسوسے ہیں۔بعض لوگوں کو دیکھا گیا کہ وہ ہاتھوں کی لکیروں میں پانی پہنچاتے ہیں۔