أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَلَمۡ يُفَرِّقُوۡا بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ اُولٰٓئِكَ سَوۡفَ يُؤۡتِيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا  ۞

ترجمہ:

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور انہوں نے ان رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کیا ‘ یہ وہ لوگ ہیں کہ (اللہ) عنقریب انکو ان کے اجر عطا فرمائے گا اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور انہوں نے ان رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کیا ‘ یہ وہ لوگ ہیں کہ (اللہ) عنقریب انکو ان کے اجر عطا فرمائے گا اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ (النساء : ١٥٢) 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ اسلوب ہے کہ مومنوں کے ذکر کے بعد کافروں کا اور کافروں کے ذکر کے بعد مومنوں کا ذکر فرماتا ہے کیونکہ ایک ضد دوسری ضد سے پہچانی جاتی ہے ‘ سو پہلے ان لوگوں کا ذکر فرمایا تھا جو بعض نبیوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا کفر کرتے ہیں اور جو رسولوں میں فرق کرتے ہیں اور ان کے متعلق فرمایا یہ یقینا کافر ہیں اور ان کو ذلت والا عذاب دیا جائے گا ‘ اس کے بعد مسلمانوں کا ذکر فرمایا جو رسولوں کے درمیان ایمان لانے کا فرق نہیں کرتے اور سب رسولوں پر ایمان لاتے ہیں پھر آخرت میں ان کے اجر وثواب کا ذکر فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان سے اجر کا وعدہ فرمایا اور مغفرت کا بھی ‘ یعنی ان مسلمانوں میں سے کامل اطاعت گزار اور فرماں بردار ہیں ان کو اپنے فضل سے ثواب عطا فرمائے گا ‘ اور جن سے کچھ کو تاہیاں اور گناہ ہوگئے انکو بخش دے گا ‘ یا ان کی توبہ سے ان کو بخش دے گا ‘ یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا کسی فرشتے یا کسی اور نبی ‘ یا کسی اور مقبول بندہ کی شفاعت سے معاف کردے گا ‘ یا محض اپنے فضل سے بخش دے گا ‘ یا پھر ان کو کچھ عرصے کے لیے دوزخ میں داخل کرے گا اور پھر نکال لے گا اور جنت میں داخل کر دے گا۔ 

اے بارلہ ! اس کتاب کے مصنف کو اور اس کے خیر خواہ قاری کو بلا عذاب و حساب و کتاب اپنے محبوب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے بخش دینا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 152