یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِؕ-قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّؕ-وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰىۚ-وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا۪-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۱۸۹)

تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں (ف۳۴۴) تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لیے (ف۳۴۵) اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ (ف۳۴۶) گھروں میں پچھیت توڑ کرآؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے اور گھروں میں دروازوں سے آؤ (ف۳۴۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ

(ف344)

شانِ نزول:یہ آیت حضرت معاذ بن جبل اور ثعلبہ بن غنم انصاری کے جواب میں نازل ہوئی ان دونوں نے دریافت کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم چاند کا کیا حال ہے ابتداء میں بہت باریک نکلتا ہے پھر روز بروز بڑھتا ہے یہاں تک کہ پورا روشن ہوجاتا ہے پھر گھٹنے لگتا ہے اور یہاں تک گھٹتا ہے کہ پہلے کی طرح باریک ہوجاتا ہے ایک حال پر نہیں رہتا اس سوال سے مقصد چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمتیں دریافت کرنا تھا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ سوال کا مقصود چاند کے اختلافات کا سبب دریافت کرنا تھا ۔

(ف345)

چاند کے گھٹنے بڑھنے کے فوائد بیان فرمائے کہ وہ وقت کی علامتیں ہیں اور آدمیوں کے ہزار ہا دینی و دنیوی کام اس سے متعلق ہیں زراعت ، تجارت ،لین دین کے معاملات، روزے اور عید کے اوقات عورتوں کی عدتیں حیض کے ایّام حمل اور دودھ پلانے کی مدتیں اور دودھ چھڑانے کے وقت اور حج کے اوقات اس سے معلوم ہوتے ہیں کیونکہ اول میں جب چاند باریک ہوتا ہے تو دیکھنے والا جان لیتا ہے کہ ابتدائی تاریخیں ہیں اور جب چاند پورا روشن ہوتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مہینے کی درمیانی تاریخ ہے اور جب چاند چھپ جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مہینہ ختم پر ہے اسی طرح ان کی مابین ایّام میں چاند کی حالتیں دلالت کیا کرتی ہیں پھر مہینوں سے سال کا حساب ہوتا ہے یہ وہ قدرتی جنتری ہے جو آسمان کے صفحہ پر ہمیشہ کھلی رہتی ہے اور ہر ملک اور ہر زبان کے لوگ پڑھے بھی اور بے پڑھے بھی سب اس سے اپنا حساب معلوم کرلیتے ہیں۔

(ف346)

شان نزول :زمانہ جاہلیت میں لوگوں کی یہ عادت تھی کہ جب وہ حج کے لئے احرام باندھتے تو کسی مکان میں اس کے دروازے سے داخل نہ ہوتے اگر ضرورت ہوتی تو پچھیت توڑ کر آتے اور اس کو نیکی جانتے’ اس پر یہ آیت نازل ہوئی’

(ف347)

خواہ حالت احرام ہو یا غیراحرام

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۱۹۰)

اور اللہ کی راہ میں لڑو(ف۳۴۸) ان سے جو تم سے لڑتے ہیں (ف۳۴۹) اور حد سے نہ بڑھو (ف۳۵۰) اللہ پسند نہیں رکھتاحد سے بڑھنے والوں کو

(ف348)

۶ ھ؁ میں حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا اس سال سید عالم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم مدینہ طیبہ سے بقصد عمرہ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکا اور اس پر صلح ہوئی کہ آپ سال آئندہ تشریف لائیں تو آپ کے لئے تین روز مکہ مکرمہ خالی کردیا جائے گا چنانچہ اگلے سال ۷ ھ؁ میں حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم عمرہ قضاء کے لئے تشریف لائے اب حضور کے ساتھ ایک ہزار چار سو کی جماعت تھی مسلمانوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ کفار وفائے عہد نہ کریں گے اور حرم مکہ میں شہر حرام یعنی ماہ ذی القعدہ میں جنگ کریں گے اور مسلمان بحالت احرام ہیں اس حالت میں جنگ کرنا گراں ہے کیونکہ زمانہ جاہلیت سے ابتدائے اسلام تک نہ حرم میں جنگ جائز تھی نہ ماہ حرام میں نہ حالت احرام میں تو انہیں تردد ہوا کہ اس وقت جنگ کی اجازت ملتی ہے یا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

(ف349)

اس کے معنی یا تو یہ ہیں کہ جو کفار تم سے لڑیں یا جنگ کی ابتداء کریں تم ان سے دین کی حمایت اور اعزاز کے لئے لڑو یہ حکم ابتداء اسلام میں تھاپھر منسوخ کیا گیا اور کفار سے قتال کرنا واجب ہوا خواہ وہ ابتداء کریں یا نہ کریں یا یہ معنی ہیں کہ جو تم سے لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ بات سارے ہی کفار میں ہے کیونکہ وہ سب دین کے مخالف اور مسلمانوں کے دشمن ہیں خواہ انہوں نے کسی وجہ سے جنگ نہ کی ہو لیکن موقع پانے پرچُوکنے والے نہیں’ یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جو کافر میدان میں تمہارے مقابل آئیں اور تم سے لڑنے والے ہوں ان سے لڑو اس صورت میں ضعیف بوڑھے بچے مجنون اپاہج اندھے بیمار عورتیں وغیرہ جو جنگ کی قدرت نہیں رکھتے اس حکم میں داخل نہ ہوں گے ان کو قتل کرنا جائز نہیں۔

(ف350)

جو جنگ کے قابل نہیں ان سے نہ لڑو یا جن سے تم نے عہد کیا ہو یا بغیر دعوت کے جنگ نہ کرو کیونکہ طریقہ شرع یہ ہے کہ پہلے کفار کو اسلام کی دعوت دی جائے اگر ا نکار کریں تو جزیہ طلب کیاجائے اس سے بھی منکر ہوں تب جنگ کی جائے اس معنی پر آیت کا حکم باقی ہے منسوخ نہیں۔(تفسیر احمدی)

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِۚ-وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِۚ-فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْؕ-كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ(۱۹۱)

اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو (ف۳۵۱) اور انہیں نکال دو (ف۳۵۲) جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا (ف۳۵۳) اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے (ف۳۵۴) اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں (ف۳۵۵) اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو (ف۳۵۶)کافروں کی یہی سزا ہے

(ف351)

خواہ حرم ہو یا غیر حرم۔

(ف352)

مکہ مکرمہ سے ۔

(ف353)

سال گزشتہ چنانچہ روز فتح مکہ جن لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا اُن کے ساتھ یہی کیا گیا۔

(ف354)

فساد سے شرک مراد ہے یا مسلمانوں کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکنا ۔

(ف355)

کیونکہ یہ حرمت حرم کے خلاف ہے۔

(ف356)

کہ انہوں نے حرم شریف کی بے حرمتی کی۔

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۹۲)

پھر اگر وہ باز رہیں (ف۳۵۷) تو بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف357)

قتل و شرک سے۔

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِؕ-فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ(۱۹۳)

اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اورایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں (ف۳۵۸) تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر

(ف358)

کفر و باطل پرستی سے۔

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌؕ-فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ۪-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ(۱۹۴)

ماہِ حرام کے بدلے ماہ ِحرام اور ادب کے بدلے ادب ہے (ف۳۵۹) توجو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے

(ف359)

جب گزشتہ سال ذی القعدہ ۶ھ؁ میں مشرکین عرب نے ماہ حرام کی حرمت و ادب کا لحاظ نہ رکھا اور تمہیں ادائے عمرہ سے روکا تو یہ بے حرمتی ان سے واقع ہوئی اور اس کے بدلے تبوفیق الہی ۷ھ؁ کے ذی القعدہ میں تمہیں موقع ملا کہ تم عمرئہ قضا کو ادا کرو

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ﳝ- وَ اَحْسِنُوْاۚۛ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۹۵)

اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۳۶۰) اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (ف۳۶۱) اور بھلائی والے ہو جاؤ بےشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں

(ف360)

اس سے تمام دینی امور میں طاعت و رضائے الہی کے لئے خرچ کرنا مراد ہے خواہ جہاد ہو یا اور نیکیاں۔

(ف361)

راہِ خدا میں انفاق کا ترک بھی سبب ہلاک ہے اور اسراف بیجا بھی اور اس طرح اور چیز بھی جو خطرئہ ہلاک کا باعث ہو ان سب سے باز رہنے کا حکم ہے حتی کہ بے ہتھیار میدان جنگ میں جاناےا زہر کھانا یا کسی طرح خود کشی کرنا

مسئلہ : علماء نے اس سے یہ مسئلہ بھی اخذ کیا ہے کہ جس شہر میں طاعون ہو وہاں نہ جائیں اگرچہ وہاں کے لوگوں کو وہاں سے بھاگنا ممنوع ہے۔

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِؕ-فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِۚ-وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗؕ-فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍۚ-فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْٙ-فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِۚ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْؕ-تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠(۱۹۶)

اور حج اور عمرہ اللہ کےلیے پورا کرو (ف۳۶۲) پھر اگر تم روکے جاؤ (ف۳۶۳) تو قربانی بھیجو جو مُیَسَّر آئے (ف۳۶۴) اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے (ف۳۶۵) پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے (ف۳۶۶) تو بدلے دے روزے (ف۳۶۷) یا خیرات (ف۳۶۸) یا قربانی پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے (ف۳۶۹) اس پر قربانی ہے جیسی مُیَسَّر آئے (ف۳۷۰) پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے (ف۳۷۱) اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لیے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو (ف۳۷۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے

(ف362)

اور ان دونوں کو ان کےفرائض و شرائط کے ساتھ خاص اللہ کے لئے بے سستی و نقصان کامل کرو حج نام ہے احرام باندھ کر نویں ذی الحجہ کو عرفات میں ٹھہرنے اور مکّہ معظمہ کے طواف کا اس کے لئے خاص وقت مقرر ہے جس میں یہ افعال کئے جائیں تو حج ہے مسئلہ: حج بقول راجح ۹ھ ؁میں فرض ہو اس کے فرضیت قطعی ہے حج کے فرائض یہ ہیں۔(۱)احرام (۲) عرفہ میں وقوف (۳) طواف زیارت ۔حج کے واجبات (۱) مزدلفہ میں وقوف (۲) صفاو مروہ کے درمیان سعی(۳) رمی جمار اور (۴) آفاقی کے لئے طواف رجوع اور(۵) حلق یا تقصیر عمرہ کے رکن طواف و سعی ہیں اور اس کی شرط احرام و حلق ہے حج و عمرہ کے چار طریقے ہیں۔(۱) افراد بالحج وہ یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں یا ان سے قبل میقات سے یا اس ے پہلے حج کا احرام باندھے اور دل سے اس کی نیت کرے خواہ زبان سے تلبیہ کے وقت اس کا نام لے یا نہ لے(۲) افراد بالعمرہ وہ یہ ہے کہ میقات سے یا اس سے پہلے اشہر حج میں یا ان سے قبل عمرہ کا احرام باندھے اور دل سے اس کا قصد کرے خواہ وقت تلبیہ زبان سے اس کا ذکر کرے یا نہ کرے اور اس کے لئے اشہر حج میں یا اس سے قبل طواف کرے خواہ اس سال میں حج کرے یا نہ کرے مگر حج و عمرہ کے درمیان المام صحیح کرے اس طرح کہ اپنے اہل کی طرف حلال ہو کر واپس ہو۔(۳) قران یہ ہے کہ حج و عمرہ دونوں کو ایک احرام میں جمع کرے وہ احرام میقات سے باندھا ہو یا اس سے پہلے اشھرحج میں یا اس سے قبل اول سے حج و عمرہ دونوں کی نیت ہو خواہ وقت تلبیہ زبان سے دونوں کا ذکر کرے یا نہ کرے پہلے عمرہ کے افعال ادا کرے پھر حج کے ۔(۴) تمتع یہ ہے کہ میقات سے یا اس سے پہلے اشہر حج میں یا اس سے قبل عمرہ کا احرام باندھے اور اشہر حج میں عمرہ کرے یا اکثر طواف اس کے اشہر حج میں ہوں اور حلال ہو کر حج کے لئے احرام باندھے اور اسی سال حج کرے اور حج وعمرہ کے درمیان اپنے اہل کے ساتھ المام صحیح نہ کرے۔(مسکین و فتح) مسئلہ : اس آیت سے علماء نے قران ثابت کیا ہے۔

(ف363)

حج یا عمرہ سے بعد شروع کرنے اور گھر سے نکلنے اور محرم ہوجانے کے یعنی تمہیں کوئی مانع ادائے حج یا عمرہ سے پیش آئے خواہ وہ دشمن کا خوف ہو یا مرض وغیرہ ایسی حالت میں تم احرام سے باہر آجاؤ۔

(ف364)

اونٹ یا گائے یا بکری اور یہ قربانی بھیجنا واجب ہے۔

(ف365)

یعنی حرم میں جہاں اس کے ذبح کا حکم ہے مسئلہ یہ قربانی بیرون حرم نہیں ہوسکتی۔

(ف366)

جس سے وہ سر منڈانے کے لئے مجبور ہو اور سرمنڈالے۔

(ف367)

تین دن کے

(ف368)

چھ مسکینوں کا کھانا ہر مسکین کے لئے پونے دو سیر گیہوں

(ف369)

یعنی تمتع کرے۔

(ف370)

یہ قربانی تمتع کی ہے حج کے شکر میں واجب ہوئی خواہ تمتع کرنے والا فقیر ہو، عید الضحٰی کی قربانی نہیں جو فقیر و مسافر پر واجب نہیں ہوتی۔

(ف371)

یعنی یکم شوال سے نویں ذی الحجہ تک احرام باندھنے کے بعد اس درمیان میں جب چاہے ر کھ لے خواہ ایک ساتھ یا متفرق کرکے بہتر یہ ہے کہ ۷۔۸۔۹ ذی الحجہ کو رکھے۔

(ف372)

مسئلہ: اہل مکہ کے لئے نہ تمتع ہے نہ قران اور حدود مواقیت کے اندر کے رہنے والے اہل مکہ میں داخل ہیں۔ مواقیت پانچ ہیں۔(۱) ذوالحلیفہ (۲) ذات عرق (۳) جحفہ (۴) قرن (۵) یلملم، ذوالحلیفہ: اہل مدینہ کے لئے ذات عرق اہل عراق کے لئے ، جحفہ اہل شام کے لئے ، قرن اہل نجد کے لئے، یلملم اہلِ یمن کے لئے ۔