حدیث نمبر :397

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مغفل سے ۱؎ کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ کہتے سنا کہ الٰہی میں تجھ سے جنت کی داہنی طرف سفید محل مانگتا ہوں تو فرمایا کہ میرے بچے اﷲ سے جنت مانگواور دوزخ سے اس کی پناہ مانگو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اس امت میں وہ قوم ہوگی جو وضو اور دعا میں حد سے تجاوز کیا کرے گی۲؎ (احمدوابوداؤد و ابن ماجہ)

شرح

۱؎ آپ قبیلہ مزینہ کے ہیں،بیعت الرضوان میں حاضر ہوئے،مدینہ طیبہ قیام رہا،عہدِ فاروقی میں آپ کو بصرے بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو علم سکھائیں،وہاں ہی ۶۰ھ؁ میں انتقال ہوا۔

۲؎ دعا میں تجاوز تو یہ ہے کہ ایسی تعیّن کی جائے جس کی ضرورت نہیں جیسے ان کے صاحبزادہ نے کیا۔فردوس مانگنا بہت بہتر ہے کہ اس میں شخصی تعین نہیں نوعی تقرر ہے اس کا حکم دیا گیا ہے۔وضو میں حد سے بڑھنا دو طرح ہوسکتا ہے:تعداد میں زیادتی اور عضو کی حد میں زیادتی جیسے پاؤں گھٹنے تک دھونا اور ہاتھ بغل تک کہ یہ دونوں باتیں ممنوع ہیں۔