اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور حیات کا تعلق انسانی فطرت کے ہر فعل سے ہوتا ہے، جیسے مرد و عورت کی کمائی، حلال و حرام کمائی، رشوت و سود، تجارت و تاجر، ملازمت و مزدوری، صنعت و حرفت، فیکٹریاں اور ملیں، زراعت، کھیتی کرنا اور باغ لگانا وغیرہ۔

جس طرح مرد کما کر اپنی کمائی اپنی ضروریات، خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اسی طرح عورتیں بھی جائز طریقوں سے کما کر اپنی کمائی اپنی ضرورتوں اور نیک کاموں میں مال خرچ کر سکتی ہیں۔ خداوندِ قدوس کا فرمان ہے۔ ’’مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور اللہ سے اس کا فضل مانگو وہ سب کچھ جانتا ہے‘‘

(سورۂ نساء، آیت:۳۲)

کمائی میں یہ دھیان رکھنا ضروری ہے کہ حلال طریقوں سے کمائے، خبر دار کبھی ہرگز ہرگز حرام طریقوں سے کمائی نہ کریں اور حرام طریقوں سے کمائی ہوئی دولت ہرگز ہرگز استعمال میں نہ لائیں۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ’’اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تم کو دیا ان میں سے حلال چیزوں کو کھائو‘‘ (بقرہ؍۱۷۲)

بہت سی احادیث میں بھی مسلمانوں کو کسبِ حلال کی رغبت دلائی گئی ہے، معلمِ کائنات ا کا ارشاد گرامی ہے ’’طلب الحلال فریضۃ بعد الفریضۃ‘‘ (رواہ البیہقی) اور ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں ’’عن رافع بن خدیج قال قیل یا رسول اللہ ا ای الکسب الطیب؟ قال عمل الرجل بیدہ و کل بیع مبرد‘‘ (مسند احمد بن حنبل ۴؍۱۴۰)

رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ نے فرمایا کہ آدمی کا اپنے ہاتھ سے کمانا اور ہر جائز تجارت۔

ناحق طریقوں سے کمایا ہوا مال کھانا اور استعمال کرنا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال نا حق نہ کھائو، مگر یہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو یعنی بذریعۂ تجارت کمایا ہوا ہے‘‘ (النساء، آیت:۲۹)

ناجائز کام کرنے اور کرانے کے لئے جو مال دیا جاتا ہے وہ رشوت کہلاتا ہے اور آج رشوت کا مرض ایک خطرناک مرض بن چکا ہے جس میں ہر انسان ملوث نظر آرہا ہے۔ (الا ما شاء اللہ) اللہ تعالیٰ رشوت کو حرام فرمایا ہے کہ ’’آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھائو اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچائو کہ لوگوں کا مال ناجائز طور پر کھا لو جان بوجھ کر‘‘(سورۃالبقرہ، آیت:۱۸۸)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا سود حرام اور گناہِ کبیرہ ہے لہٰذا اس سے بچو ۔ قرآنِ کریم میں ہے ’’اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے‘‘ (سورۂ بقرہ، آیت:۲۷۵)

اس آیت نے سود کو حرام ٹھہرا کر مسلمانوں کو سود سے بچنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام و گناہِ کبیرہ قرار دیتے ہوئے یہ بھی اعلان فرمایا کہ ’’اللہ سود کو ہلاک فرما تا ہے اور خیرات کو بڑھاتا ہے‘‘ (سورۃ البقرہ، آیت:۲۷۶) اس کے بعد وعیدِ شدید فرماتے ہوئے یہ خوف ناک اعلان بھی فرمادیا کہ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر تم لوگ مسلمان ہو، پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا‘‘

(سورۃ البقرہ:۲۷۸،۲۷۹)

تجارت رزقِ حلال حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ تجارت کرنے والا اگر سچائی اور امانت کے ساتھ تجارت کرے تو وہ قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ رہے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بار بار یہ ارشاد فرمایا ہے کہ تجارت اللہ کا فضل ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشادِ خداوندی ہوا ’’جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو‘‘ (یعنی تجارت کر کے روزی کمائو) (سورۃ الجمعہ آیت ۱۰) ’’تم پر کچھ گناہ نہیں ہے کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو‘‘ (بنی اسرائیل، ۶۶) ’’اور اللہ نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو اور اس لئے کہ تم شکر ادا کرو‘‘ (سورۃ القصص، آیت:۷۳)اسی طرح اور بھی دوسری آیتیں ہی جن میں تجارت کو اللہ کا فضل فرمایا گیا۔

یہ ضروری نہیں کہ آدمی اپنے وطن اور اپنے مکان ہی پر رہ کے تجارت کرے بلکہ خاص تجارت کی نیت سے دور و نزدیک اور خشکی و سمندر کا سفر کرنا بھی جائز ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے کہ ’’اور کچھ لوگ زمین میں سفر کریں گے اللہ کا فضل طلب کرنے کو‘‘ (سورۂ مزمل، آیت:۲۰)اور دوسری آیت میں ارشاد فرماتا ہے ’’اور تم دریا میں کشتیوں کو دیکھو گے کہ وہ پانی کو چیرتی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور کسی طرح حق مانو‘‘ (فاطر،۱۳) پہلی آیت میں خشکی میں اللہ کا فضل تلاش کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور دوسری میں سمندر میں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی اپنے وطن اور اپنے مکان ہی پر رہ کر تجارت کرے بلکہ خاص تجارت کی نیت سے دور و نزدیک اور خشکی و سمندر کا سفر کرنا بھی جائز ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے ’’اور کچھ لوگ زمین میں سفر کریں گے اللہ کا فضل طلب کرنے کو‘‘ مندرجہ آیت کی تکرار اسی لئے ضروری ہے کہ لوگ تصور کرتے ہیں کہ اللہ پالنے والا ہے تو ہمیں ضرور پالے گا۔ بغیر کمائے ایسا نہیں ہے بلکہ اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لئے اللہ نے جو اعضاء دئے ہیں ان کو حرکت دے کر زمینوں میں نکلنا ہو گا۔

معاشیاتی جرثوموں میں ایک جرثومہ مال جمع کرنا بھی شامل ہے۔ اگر مال کی زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو کروڑوں بلکہ اربوں کی دولت جمع کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے مال کو قرآنِ کریم میں ’’خیر‘‘ (بہترین چیز) فرمایا ہے۔ ’’اوہ وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیںاور اس کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں درد ناک عذاب کی خوش خبری سنا دو‘‘ (سورۃ التوبہ، آیت۳۴)

غور کیجئے کہ سونا اور چاندی جمع کرنا کوئی گناہ کی بات نہیں ہے بلکہ اس کی زکوٰۃ نہ اد ا کرنے پر عذاب کی دھمکی ہے اور زکوٰۃ ادا کر دینے پر اگر کروڑوں اور اربوں کی دولت جمع کر لے تو اللہ رب العزت نے اس کی اجازت دی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہوتا ہے کہ ’’بے شک تمہارا رب جسے چاہے رزق کشادہ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے تنگدستی دیتا ہے وہ اپنے بندوںکو خوب جانتا ہے اور دیکھتا ہے‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل، آیت:۳۰)

مندرجہ بالا آیت کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت علامہ عبد المصطفی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے کچھ بندوں کو مالدار بنا دیتا ہے اور کچھ کو تنگ دست رکھتا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا اور دیکھتا ہے کہ کون مالداری کے لائق ہے اور کس کے لئے تنگدستی مناسب ہے اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مال جمع کرنے کی اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کیوں کہ اگر مال جمع کرنے کی اجازت ہی نہ ہوتی تو پھر کوئی مالدار اور کوئی مسکین کیوں کر ہوتا۔

صنعت و حرفت کو روزی کمانے کا ذریعہ بنانا بھی جائز ہے۔ حضرت دائود علیہ السلام زرہیں بنا یا کرتے تھے اور آپ اپنی اسی کاری گری کی کمائی کو اپنی روزی کا ذریعہ بنائے ہوئے تھے۔ اللہ عزوجل قرآن میں فرماتا ہے ’’اور ہم نے ان (دائود علیہ السلام) کے لئے لوہا نرم کیا کہ چوڑی چوڑی زرہیں بنائیے اور بنانے میں اندازے کا لحاظ رکھئے‘‘ (سورۂ السبا، آیت:۱۱)

اس سے ثابت ہوا کہ صنعت و حرفت یعنی دستکاری اور کاری گری کا پیشہ کرنا بھی انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے اور اپنی دستکاری کو روزی حاصل کرنے کا ذریعہ بنانا بھی جائز و درست اور پیغمبروں کا مقدس طریقہ رہا ہے۔

فیکٹریاں اور ملیں قائم کر کے مزدوروں سے کام کرانا بھی جائز اور درست ہے۔ خدا کے پیغمبر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک کار خانہ بنایا تھا جس میں تعمیرات و مجسمہ سازی اور برتن سازی کا کام ہوتا تھا اور جنوں کی جماعت اس کار خانہ میں بحیثیت مزدور کے کام کرتی تھی۔ قرآن مجید میں ہے کہ ’’اور جنوں میں سے کچھ وہ تھے جو ان (سلیمان علیہ السلام) کے سامنے کام کرتے تھے ان کے رب کے حکم سے اور ان میں جو ہمارے حکم سے پھریں ہم اس کو بھڑکتی آگ کا عذاب چکھائیں گے وہ (جن) ان(سلیمان علیہ السلام) کے لئے بناتے تھے وہ جو چاہے اونچے اونچے محل اور مجسمے اور بڑے بڑے حوضوں کے برابر لگن اور لنگر دار (بڑی بڑی) دیگیں‘‘ (سورۂ سبا، آیت۱۳)

اس سے ثابت ہوا کہ فیکٹریاں اور کار خانے قائم کر کے اس میں مزدوروں سے کام کرانا یہ بھی جائز اور ایک نبی کی سنت ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی ذہن نشیں ہونا چاہئے کہ مزدور کو کام کی مزدوری ضرور بہ ضرور دی جائے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مصر سے ہجرت کر کے مدین تشریف لے گئے اور حضرت شعیب علیہ السلام کے اونٹوں کو پانی پلایا تو حضرت شعیب علیہ السلام کی صاحبزادی آئیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ’’میرے باپ آپ کو بلاتے ہیں کہ وہ آپ کو مزدوری دیں اس کام کی جو آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے‘‘۔

(سورۂ قصص، آیت:۲۵)

اس سے ثابت ہوا کہ مزدور کو اس کے کام پر مزدوری دینی چاہئے اور مزدور کو مزدوری لینی جائز ہے اور مزدوری کی اجرت کو ذریعۂ معاش بنانا بھی جائز ہے۔

کمیونزم کا معاشی نظام اسلام کے معاشی نظام کے خلاف ہے کیوں کہ اس معاشی نظام میں شخصی اور نِجی سرمایہ داری اور کسی کو مال جمع کرنے کی اجازت ہی نہیں ہے اور اسلام کے نظام معیشت میں شخصی اور نِجی سرمایہ داری موجود ہے اور خداوند عالم نے اپنے بندوں میں امیری و غریبی کا فرق رکھا ہے۔ چنانچہ ارشادِ ربانی ہے ’’اہم یقسمون رحمۃ ربک نحن قسمنا بینہم معیشتہم فی الحیٰوۃ الدنیا ورفعنا بعضہم فوق بعض درجٰت لیتخذ بعضہم بعضا سخریا‘‘

’’کیا تمہارے رب کی رحمت کو وہ جانتے ہیں ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا ہے اور ان میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی کہ ان میں ایک دوسرے کو مزدور بنائے‘‘ (سورۃ الزخرف، آیت:۳۲)

مندرجہ بالا آیت اعلان کر رہی ہے کہ دنیا میں مالداری کے اعتبار سے ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی حاصل ہے، کوئی بہت زیادہ مال دار ہے، کوئی اس سے کم اور کچھ ایسے ہیں کہ مالداروں کے یہاں نوکری اور مزدوری کریں۔ غور کیجئے کہ اسلام کے اس معاشی نظام میں کمیونزم کی کہاں گنجائش ہے۔ پھر یہ بھی سوچئے کہ اگر اسلام میں نِجی اور شخصی مالداری کا وجود نہ ہوتا تو زکوٰۃ اور حج کیوں کر فرض ہوتا۔ اور میراث اوروصیت کے احکام کس بنیاد پر نازل ہوتے۔ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مال جمع کرنے کی اجازت دیتے ہوئے یہ بھی حکم دیا ہے کہ زکوٰۃ و خیرات اور وقف و رِفاہ عام کے طور پر زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرتے رہنا چاہئے کہ دنیا میں اس سے اور زیادہ دولت بڑھتی ہے اور آخرت میں اس پر اجرِ عظیم اور بہت زیادہ بڑا ثواب ملے گا۔ لیکن بہر حال اصل سوال بنیادی اصولوں کا ہے۔ لہٰذا بہر کیف یہ کہنا بالکل ہی غلط ہے کہ اسلام کا معاشی نظام کمیونزم جیسا ہے۔

و اللہ تعالیٰ اعلم۔

مندرجہ بالا یہی وہ پاکیزہ تعلیمات تھیں، یہی وہ صحیح تربیت تھی، یہی وہ قرآنِ مقدس کا اعجاز تھااور یہی وہ اسلام کا روح پرور نظام تھا جس نے ان قوموں کی کایا پلٹ دیا، جنہوں نے اس کو قبول کیا اور ان ملکوں کو جنت نظیر بنا دیا جہاں اس کی برکتوں والا پرچم لہرایا۔ ٭٭٭