جامع مسجد النور ( نیوزی لینڈ ) کا سانحہ اور مسلم حکمران ؟

از قلم شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی

کس منہ سے پھر تو آپ کو کہتا ہے عشق باز

اے ” مسلم حکمران ” تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا ۔

پیرس میں حادثہ ہوآ ۔ 17 قیمتی جانیں گئیں ۔ فرانس نے سوگ کا اعلان کیا ۔ اس اعلان کے ساتھ یک جہتی کے دیگر مناظر کے ساتھ یہ منظر بھی تھا کہ امریکہ اور پورے یورپ کی قیادت وہاں پہنچی ۔

وہ حادثہ فاجعہ بھی لائق صد ہزار افسوس تھا اور اہل اسلام نے اظہار افسوس کیا بھی تھا ۔

فقیر خالد محمود کے قلب حزیں کو اس وقت مزید ندامت و افسوس میں مبتلاء اس رویہ نے کر رکھا ہے کہ

آج کراچی جیسے با شعور شہر میں منعقدہ میچ اور اس کی تقریبات ہیں ۔ خبریں ہیں کہ سیاسی اور فوجی قیادت سٹیڈیم میں موجود ہے ۔

پیرس حادثہ عام جگہ پر ہوا

اور یہ ایک جامع مسجد میں بوقت نماز جمعہ ۔

مسلمانوں کو پہلے سے طے شدہ ناحق ذبح عظیم کے ساتھ یہ متعدد شعائر اسلام پر حملہ ہے ۔ فساد فی الارض ( دہشت گردی ) کے ساتھ مسجد کی ویرانی اور اس میں ذکر الہی سے روکنا بھی ہے ۔ دہشت گرد کی بندوق کی تحریر بہت کچھ نقاب کشائی کر رہی ہے ۔

اسلام اور اہل اسلام کو براہ راست نشانہ انتقام بنایا گیا ہے اور اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت کے کارپرداز اور کچھ عوام کس رویہ کا اظہار کر رہے ہیں

فرانس حادثہ کے موقع پر غیر مسلم قیادت جیسے خوبصورت عمل کی نقل کرنے سے قاصر ہیں تو اپنے ملک میں ہی کوئی تعزیتی نشست، جلوس ، مظاہرہ کر لیتے ۔

بقول حضرت اقبال

تھا جو “نا خوب” بتدریج وہی “خوب”ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

اور جناب أحمد شوقي نے کہا ۔

مَا كَانَ فِي مَاضِي الزَّمَانِ مُحَرَّمًا

لِلنَّاسِ فِي هَذَا الزَّمَانِ مُبَاحُ

جو گذرے وقتوں میں لوگوں کے نزدیک حرام تھا اور وہ اس زمانہ میں جائز کر لیا گیا ہے

صَاغُوا نُعُوتَ فَضَائِلٍ لِعُيُوبِهِمْ

فَتَعَذَّرَ التَّمْيِيزُ وَالإِصْلاَحُ

اپنے عیوب کے فضائل میں ایسے بلند اوصاف تراش لیئے ہیں کہ برے بھلے میں امتیاز بھی مشکل ہے ۔ اصلاح تو بعد کی بات ہے

فَالْفَتْكُ فَنٌّ وَالخِدَاعُ سِيَاسَةٌ

وَغِنَىٰ اللُّصُوصِ بَرَاعَةٌ وَنَجَاحُ

اب چیرہ دستی فن ہے اور مکر و فریب سیاست ۔ چوروں کی دولت ان کی مہارت اور کامیابی کہلاتی ہے

وَالعُرْيُ ظُرْفٌ وَالْفَسَادُ تَمَدُّنٌ

وَالْكِذْبُ لُطْفٌ وَالرِّيَاءُ صَلاَحُ

اور عریانیت جدید فیشن ہے ، فساد تمدن ہے ، جھوٹ بولنا خوش اخلاقی ہے اور نام و نمود ، دکھلاوا بھی ( بصد حیل ) ضروری اصلاحی عمل بنا لیا گیا ہے