أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَسۡـئَـلُكَ اَهۡلُ الۡـكِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ‌ فَقَدۡ سَاَ لُوۡا مُوۡسٰٓى اَكۡبَرَ مِنۡ ذٰ لِكَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً فَاَخَذَتۡهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلۡمِهِمۡ‌‌ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنٰتُ فَعَفَوۡنَا عَنۡ ذٰ لِكَ‌‌‌‌ ۚ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسٰى سُلۡطٰنًا مُّبِيۡنًا ۞

ترجمہ:

اہل کتاب آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے کوئی کتاب نازل کردیں ‘ سو بیشک وہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑا سوال کرچکے ہیں ‘ انہوں نے کہا ہمیں اللہ کی ذات کھلم کھلا دکھاؤ تو ان کے (اس) ظلم کی وجہ سے ان کو آسمانی بجلی نے پکڑ لیا ‘ پھر انھوں نے واضح دلائل آنے کے باوجود بچھڑے کو (معبود) بنا لیا ‘ سو ہم نے اس کو معاف کردیا اور ہم نے موسیٰ کو کھلا ہواغلبہ دیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اہل کتاب آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے کوئی کتاب نازل کردیں ‘ سو بیشک وہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑا سوال کرچکے ہیں ‘ انہوں نے کہا ہمیں اللہ کی ذات کھلم کھلا دکھاؤ تو ان کے (اس) ظلم کی وجہ سے ان کو آسمانی بجلی نے پکڑ لیا ‘ پھر انھوں نے واضح دلائل آنے کے باوجود بچھڑے کو (معبود) بنا لیا ‘ سو ہم نے اس کو معاف کردیا اور ہم نے موسیٰ کو کھلا ہواغلبہ دیا۔ (النساء : ١٥٣) 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یہود کی سرکشی اور عناد :

امام محمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکرکہنے لگے ‘ موسیٰ اللہ کے پاس سے الواح لائے تھے تو جب آپ بھی اللہ کے پاس سے (لکھی ہوئی) الواح لے آئیں گے تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 

ابن جریج نے کہا کہ یہود اور نصاری نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاس آئے اور کہا ہم نے آپ کی دعوت کی اس وقت تک پیروی نہیں کریں گے حتی کہ ہماری جانب اللہ کے پاس سے یہ مکتوب آئے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اور فلاں شخص کے پاس بھی یہ مکتوب آئے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١١۔ ١٠ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

جب یہودیوں نے از راہ عناد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا کہ ان کے پاس آسمان سے لکھی ہوئی کتاب آئے تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : کہ یہ یہودی تو اس سے بڑے بڑے سوال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کرچکے ہیں ‘ ہرچند کہ یہ سوال ان کے آباؤ اجداد نے کیے تھے لیکن چونکہ یہ ان سوالات پر راضی تھے اور ان ہی کی طرح سرکشی کر رہے تھے اور کئی معجزات دیکھنے کے باوجود نبوت پر ایمان نہیں لا رہے تھے اور ان ہی کی طرح معاند تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سوالات کی نسبت آپ کے زمانہ کے یہودیوں کی طرف کردی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ اب کہہ رہے ہیں کہ تورات کی طرح آسمان سے لکھی ہوئی کتاب نازل ہو تو پھر ایمان لائیں گے ‘ حالانکہ جب ان کے آباؤ اجداد پر آسمان سے لکھی ہوئی کتاب نازل ہوئی تو وہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے بلکہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اللہ کی ذات کھلم کھلا دکھاؤ اس سے واضح ہوگیا کہ ان کا یہ مطالبہ شرح صدر اور اطمینان قلب کے لیے نہیں تھا بلکہ محض عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے تھا۔ 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ یہود کی سرکشی اور عناد :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر انہوں نے واضح دلائل آنے کے باوجود بچھڑے کو معبود بنا لیا ‘ ان واضح دلائل سے مراد آسمانی بجلی ہے جو اللہ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنے والوں پر گری اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر زندہ کردیا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کے تام اور کامل ہونے پر دلالت ہوتی ہے اور اسی پر مدار الوہیت ہے اور اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر دلیل ہے کہ ان کی دعا سے وہ دوبارہ زندہ کردیئے گئے ‘ بظاہر آسمانی بجلی ایک دلیل ہے لیکن یہ کئی دلائل کو متضمن ہے ‘ اس کے علاوہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا دیکھا ‘ یدبیضا دیکھا ‘ سمندر کو چیر کر اس میں بارہ رستوں کو بنانا دیکھا ‘ ان کے تعاقب میں آنے والے فرعون اور ان کے لشکر کا ان ہی راستوں میں ڈوبنا دیکھا ان تمام معجزات کو دیکھنے کے بعد انہوں نے گوسالہ کو اپنا معبود بنا لیا اور اس کی پرستش کی ‘ تو اے رسول مکرم آپ سے ان کا یہ مطالبہ کرنا کہ ان کے پاس آسمان سے لکھی ہوئی کتاب آئے انشراح صدر کے لیے نہیں ہے یہ ان کی وہ سرکشی اور ہٹ دھرمی ہے جو ان میں نسل در نسل چلی آرہی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی گوسالہ پرستی کی سزا میں ‘ میں نے ان کو بالکل صفحہ ہستی سے نہیں مٹا دیا بلکہ ان کی سرکشی اور عناد کے باوجود ان کو معاف کردیا اور ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کھلا غلبہ عطا فرمایا یعنی ان کی قوم کو ان کے مخالفین پر غلبہ عطا فرمایا اس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے یہ رمز اور بشارت ہے کہ اگرچہ کفار آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں اور آپ کے خلاف معاندانہ کارروائیوں میں مصروف ہیں لیکن انجام کار اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ اور فتح عطا فرمائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 153