امام ابوحاتم رازی

امام ابوحاتم رازی

آپ علل حدیث کے امام ہیں ،امام بخاری ، امام ابودائود ، امام نسائی اور امام ابن ماجہ کے شیوخ سے ہیں ۔طلب حدیث میں اس وقت سفر شروع کیا جب ابھی سبزہ کا آغاز نہیں ہوا تھا ، مدتوں سفر میں رہتے اورجب گھر آتے تو پھر سفر شروع کردیتے ۔ آپکے صاحبزادے بیان کرتے ہیں ۔

سمعت ابی یقول : اول سنۃ خرجت فی طلب الحدیث اقمت سنین احسب ،ومشیت علی قدمی زیادۃ علی الف فرسخ فلما زاد علی الف فرسخ ترکتہ۔ (تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۵/۲۴)

میرے والد فرماتے تھے ،سب سے پہلی مرتبہ علم حدیث کے حصول میں نکلا توچند سالسفرمیں رہا ،پیدل تین ہزار میل سے زائدچلا ، جب زیادہ مسافت ہوئی تو میں نے شمارکرناچھوڑدیا ۔پیدل کتنی کتنی لمبی مسافتیں اس راہ میں آپ نے طے کیں اس کا اندازہ خود انکے بیانسے کیجئے ۔

خرجت من البحرین الی مصر ماشیا الی الرملۃ ماشیا ، ثم الی طرطوسولی عشرون سنۃ۔

بحرین سے مصر پیدل گیا ،پھر رملہ سے طرطوس کا سفر پیدل ہی کیا اس وقت میری عمربیس سال تھی ۔

ایک سفرکا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔

میں اور میرے رفقاء جہاز سے اترے ،خشکی پر پہونچنے کے بعد دیکھا تو زادراہ ختم ہوچکا تھا ۔کیا کرتے ساحل سے پیادہ پاروانہ ہوئے ۔ تین دن تک چلتے رہے ، اس درمیان کچھ نہ کھایا۔ آخر ایک ساتھی جوزیادہ سن رسیدہ اور ضعیف العمر تھے بے ہوش ہوکر گرپڑے ،ہم نے انکو بہت ہلایا جھلایا لیکن کوئی حرکت نہیں تھی ۔ مجبوراآگے بڑھے ،تھوڑی دور جاکر میں بھی چکراکر گرگیا ۔ اب ایک ساتھی تنہا رہ گیا تھا ،ساحل سمندرپر یہ سفر ہورہاتھا وہ آگے بڑھاتو دور سے سمندر میں ایک جہاز نظر آیا ، اس نے کنارے کھڑے ہوکر اپنا رومال ہلانا شروع کیا ، جہاز والے قریب آئے اور حال پوچھنا چاہا تو پیاس کی شدت سے وہ کچھ نہ بتاسکا ۔پانی کی طرف اشارہ کیا توانہوں نے پانی پلایا ۔جب اسکے حواس بجا ہوئے تو ان کو میرے پاس لایا مجھے بھی

پانی کے چھینٹے دیکر ہوش میں لایا گیا اور پانی پلایا ،میرے ساتھی کے ساتھ بھی ایساہی ہوا ۔(تذکرۃ الحفاظ للذہبی، ۲/۱۳۲)

آپکے صاحبزادے بیان کرتے ہیں:۔

سمعت ابی یقول : اقمت سنۃ اربع عشرۃ ومأتین بالبصرہ ثمانیۃ اشہر قد کنت عزمت علی ان اقیم سنۃ فانقطعت نفقتی فجعلت ابیع ثیابی شیأ بعد شیٔ حتی بقیت بلاشی،(تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۵/۲۴)

میرے والد بیان فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ ۲۱۴ھ میں بصرہ میں قیام رہا ،ارادہ تھا کہاایک سال یہاں رہوں گا لیکن آٹھ ماہ بعد زادراہ ختم ہوگیا ،اب میں نے ایک کپڑافروخت کردیا پھر دوسرا اسی طرح فروخت کرتا رہا اور خرچ کرتا رہا یہاں تک کہ آخر میں کچھ باقی نہ رہا ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.