جیلانی چاند پوری کے عقائد و نظریا ت

آج کل حلقہ قادریہ علویہ کے نام سے ایک جماعت کام کر رہی ہے جسکا بانی اور سر پرست جیلانی چاند پوری ہے یہ اتحاد بین المسلمین کے نام پر لوگوں کو اپنے آپ سے متاثر کرواتا ہے حالانکہ اس کے عقائد ونظریات اسلام اور اہلسنّت کے منافی ہیں اس کااخبار جو آجکل ’’ایمان ‘‘کے نام سے جاری ہے اس کے علاوہ اسکا ہفت روزہ رسالہ ’’مخبر العالمین ‘‘کراچی سے شائع ہوتا ہے آئے دن یہ سیمینا ر اور پروگرام منعقد کر تا ہے جس میں شیعہ اور سنّی مولویوں کو دعوت خطاب دیتاہے اور شیعوں کو ترجیح دیتا ہے ۔اس کے عقائد و نظر یات ہم اس کے اخبار ’’ایمان ‘‘سے اور اسی کے رسالے ہفتِ روزہ’’ مخبر العالمین ‘‘سے بیان کریں گے ۔

جیلانی چاندپوری اپنے آپکو اشرفی کہتاہے }

چنانچہ وہ اپنے ہفت روزہ رسالے ’’مخبر العالمین ‘‘کے 7تا 14مارچ 2004؁ء جلد نمبر4شمارہ نمبر 9اور 10پر لکھتا ہے کہ ’’میں اشرفی ہوں اور اعلحٰضرت سیّد علی حسین شاہ اشرفی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوں ۔میں انہی کی نسبت سے 1937؁ء میں چاند پور سے اخبار اشرف نکالتا تھا ۔

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ یہ اپنے آپ کو اشرفی کہتا ہے ہم نے اس دور کے اشرفی صوفیائے کرام سے اس کے متعلق معلوم کیا تو ہمیں انھوں نے بتایا کہ باطل نظر یات رکھنے والا آدمی ہم میں سے نہیں ہوسکتا ۔

گستاخی :اس بات پر پوری امّت کا اجماع ہے کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں مگر پھر بھی چاند پوری نے اپنے ہفت روزہ رسالے مخبر العالمین شمارہ 4اپریل 2004؁ء جلد شمارہ نمبر 13کے صفحہ نمبر16پرحضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے شان میں بکواس کی ہے۔

گستاخی :چاند پوری اپنے ہفت روزہ رسالے مخبر العالمین شمارہ نمبر 4اپریل 2004؁ء جلد شمارہ نمبر 13کے صفحہ نمبر 19پر بکواس کرتاہے ہندہ نے اپنے بیٹے معاویہ کو حکومت کرنے اور فساد کرنے پر اُکسایا ۔ حضرت ہندہ رضی اللہ عنہا کو عورت اور حضرت امیر معاویہ کو صرف معاویہ لکھا ۔

مزید بکواس کر تا ہے کہ معاویہ نے اسلام کو نہیں بلکہ اپنی ماں کے حکم کو فوقیت دی ۔

مزید بکواس کر تا ہے کہ ابو سفیان کا پورا خاندان حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض و عداوت رکھتا تھا ۔

گستاخی :4 اپریل کے شمارہ کے صفحہ نمبر 19پر لکھتا ہے کہ حضرت عثمان شہید ہوگئے تو معاویہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بدنام کرنے اور ان پر الزامات لگانے کا موقع میّسر آگیا ۔

گستاخی :چاند پوری اپنے شمارے 11اپریل تا 18اپریل 2004؁ء جلد نمبر 4صفحہ نمبر 14پر بکواس لکھتا ہے سب سے پہلے اس نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف حضور ﷺپر بہتا ن باندھا اور مزید بکواس لکھی کہ معاویہ بزور شمشیر بادشاہ بن گیا ۔

اس شمارے کے صفحہ نمبر 15پر بکواس لکھتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید نے امام حسن رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی سازش تیار کیں ۔معاویہ منافق تھا ۔(معاذاللہ )

گستاخی :چاند پوری نے اپنے رسالے مخبر العالمین کے شمارے 7مارچ 2004؁ء جلد نمبر 4کے صفحہ نمبر 28پر بکواس لکھتا ہے کہ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ ماتم کی حمایت میں تھے ۔

یہ پورا مضمون اس نے شائع کیا جسکا کا عنوان ’’عزاداری حسین پر مباہلہ آسمان پر‘‘کے نام سے اس وقت شائع کیا جب جیو ٹی وی کے پروگرام ’’عالم آن لائن‘‘کے میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت نے ماتم کے خلاف بات کی ۔

جیلانی چاند پوری سے رہانہ گیا کیونکہ وہ ماتم کا قائل اور شیعوں کا حمایتی ہے اُس نے فوراً مضمون شائع کیا ،ہم پوچھنا یہ چاہتے ہیں کہ اگر جیلانی چاند پوری اپنے آپ کو اہلسنّت کہتا ہے کہ تو اس وقت کہاں تھا جب میڈیا پر عقائد اہلسنّت کے خلاف بات ہوئی ؟

اسی شمارے کے صفحہ نمبر 28پر مزید بکواس کرتاہے کہ عزاداری (معاذاللہ )حضور ﷺکی سنّت ہے اور عزاداری کی مخالفت کرنے والے قرآن و حدیث کے مخالف ہیں دلیل چاند پوری نے یہ دی کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر حضور ﷺکو ملی تو حضور ﷺنے گریہ کیا ۔

یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ رونے کو کون منع کر تاہے شیعہ تو چھریوں سے کاٹنے پیٹنے کو عزاداری کہتے ہیں اور کتنی شرم کی بات ہے کہ چاند پوری اس کو سنّت کہتا ہے ۔

گستاخی : :ہفت روزہ مخبر العالمین کے 14مئی 2004؁ء کے شمارے کے صفحہ نمبر 4پراعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے گستاخِ صحابہ کے خلاف فتوے کو غلط کہا۔

گستاخی : :ہفت روزہ مخبر العالمین کے 14مئی 2004؁ء کے شمارے کے صفحہ نمبر 4پرگستاخ صحابہ کی حمایت میں لکھتا ہے کہ شیعہ سنّی اتحاد مولویوں کے پیدا کردہ ہیں ۔

جیلانی چاند پوری بتائے کہ اگر شیعہ سنّی اتحاد مولویوں کے پیدا کر دہ ہیں تو پھر صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اپنی کتابوں میں گالیاں خمینی اور آج تک کیوں لکھی جارہی ہیں ۔

گستاخی :روز نامہ ایمان 3مئی بروز پیر 2004؁ء کے اخبار کے صفحہ نمبر 2پر چاند پوری نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو منافقین سے بدتر لکھا اور سرکار اعظم ﷺپریہ بہتان باندھا ۔(معاذاللہ )

اسی اخبار کے صفحہ نمبر 2پرہی چاند پوری نے خاندانِ رسول پر بہتان باندھا کہ حضور ﷺکا پورا خاندان حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی کہتا تھا ۔

مزید بکواس کرتا ہے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مولویوں کا بنایا ہو اکاتبِ وحی اور رضی اللہ عنہ بھی مولویوں کا لکھا ہوا ہے ۔(معاذاللہ )

چاند پوری حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سخت دشمن ہے اس کے علاوہ شیعوں کو راضی کرنے کے لئے اپنے ہر شمارے میں ہر تقریر میں صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ پر کئی کئی صفحوں پر مضامین لکھتا ہے اتنے صفحات شیخین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں نہیں لکھتا۔

چاند پوری اگر اپنے آپکو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا پیر و کار کہتا ہے تو وہ سن لے امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے ہر گستاخ اور بے ادب کے سائے سے بھی بچنے کا حکم دیاہے ۔

جیلانی چاند پوری اگر اتحاد کی بات کرتا ہے تو وہ شیعہ کُتب میں جو صحابہ کرام علیہم الرضوان کو

گا لیاں لکھی گئی ہیں جواب بھی شائع ہو رہی ہیں اُسے نکلوائے ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف جو عقیدہ رکھتا ہے وہ اس سے توبہ کرے ۔

حضور ﷺاور حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ پر جو بہتان باندھا ہے اس سے تو بہ کرے

ور نہ یہ گمراہ ہی رہے گا ۔جیلانی چاند پوری کی گستاخیاں جو بھی نقل کی گئی ہیں ثبوت کے ساتھ آپ

نا شر سے طلب کرسکتے ہیں ۔

ایک فرقہ جو کسی فرقے میں نہیں

آجکل کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی فرقے میں نہیں ہیں صرف اپنے کام سے کام رکھتے ہیں ایسے لوگ نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں ہیں ۔

ایسے لوگ سب کے مزے لیتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی فرقے میں نہیں اُن لوگوں کا بھی ایک فرقہ ہے وہ تمام افراد جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی فرقے میں نہیں ہیں وہ مل کر ایک فرقہ معرضِ وجود میں لاتے ہیں ۔

لہٰذا حق مسلک اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی بریلوی میں شامل ہوجائیں جو صحیح العقیدہ ہیں ۔

سرکارِ اعظم ﷺنے فرمایا ’’اتبعو االسوادا لا عظم ‘‘سوادا عظم کی پیروی کرو۔سوادِاعظم سے مراد مسلک حق اھلسنّت و جماعت ہیں ۔

سرکار اعظم ﷺنے فرمایا ’’لا تجمع امتی علی الضلالۃ ‘‘میری اُمت گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی ۔

سرکار اعظم ﷺنے فرمایا ’’علیکم بالحماعۃ ‘‘جماعت لازم پکڑو ۔

سرکار اعظم ﷺنے فرمایا ’’من شدشد فی النار ‘‘جو جماعت سے الگ ہوا جہنم میں گیا ۔

سرکار اعظم ﷺنے فرمایا ’’ایاکم وایا ھم‘‘بد مذہبوں سے بچو۔

سرکار اعظم ﷺنے فرمایا ’’ید اللّٰہ علی الجماعۃ ‘‘جماعت پر اللہ تعالیٰ کا دستِ قدرت ہے ۔

معلوم ہواکہ مسلک حق کو لازم پکڑا جائے اور بد مذہبوں اور بُرے لوگوں کی صحبت سے بچا جائے ۔